علامہ یوسف القرضاوی دعوت و عزیمت کے پیکر تھے۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی کا خراج عقیدت و اظہار تعزیت

حیدرآباد۔ 26ستمبر (پریس نوٹ) عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت، مجددِ زمانہ، فقیہ العصر اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف علامہ یوسف القرضاوی اس دارفانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کرگئے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ علامہ قرضاوی کی عالم اسلام کے لئے بے لوث خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی و کالم نگار مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ علامہ یوسف القرضاوی جہاں دنیا بھر کے تمام مظلوم مسلمانوں کے زبردست حامی اور ظالموں کو للکارنے والے تھے، وہیں دعوت دین کی تڑپ رکھنے والے ایک بے لوث داعی اور صبر و عزیمت کے پیکر تھے۔ اس کا اندازہ علامہ قرضاوی کی تقریروں و تحریروں اور دروس و خطابات سے لگایا جاسکتا ہے۔ علامہ قرضاوی کو اس بات کا بھی شرف حاصل ہے کہ انہوں نے عالم اسلام کے عظیم داعی و مبلغ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ مولانا مودودیؒ کے نظریات سے بہت حد تک متاثر تھے۔ علامہ قرضاوی کا حیدرآباد سے بھی ایک خاص تعلق اور لگائو تھا۔ دکن کی معروف دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ سے ان کو خاصی انسیت تھی۔ اسی طرح مسلم میٹرنٹی ہاسپٹل کی نئی عمارت کا افتتاح ان کے ہاتھوں سے ہوا۔ علامہ قرضاوی ہر مکتب فکر کے لوگوں کے نزدیک ہردلعزیز تھے۔ علامہ قرضاوی کی رحلت انسانیت اور بطور خاص عالم اسلام کے لئے ایک بہت بڑا خسارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور پوری امت کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے