محرم الحرام کی صداۓباز گشت

ازقلم: مجیب الرحمن، جھارکھنڈ

محرم کا چاند نظر آتے ہی ہر طرف خوشیوں کا ماحول ہے، لوگ ایک دوسرے کو اسلامی نیا سال کی مبارک باد دے رہے ہیں، جگہ جگہ مٹھاٸیاں تقسیم ہورہی ہیں ہر شخص اپنے میں مست و مگن ہے، لوگوں نے اس مہینہ کا بڑا پرتپاک استقبال کیا اور کیوں نہ ہو یہ نیا اسلامی سال کا آغاز ہے ہماری اسلامی تاریخ کی ابتدا ہے اس مہینہ کو قرآن نے اشہر حرم سے تعبیر کیا ،دنیا اسلام اس مہینہ کو بڑی تعظیم کی نگاہ سے دیکھتی ہے ، زمانہ جاہلیت کی بات کریں تو اسمیں وہ قتل و غارت گری کو حرام سمجھتے تھے باو جود یہ کہ خون بہانا ان کا بہترین شیوہ تھا ،
سال کا آنا اور جانا موسم کی تبدیلیاں نظام قدرت کا ایک حصہ ہے اسلۓ اظہار مسرت کے ساتھ ساتھ ہمیں احتساب نفس کی بھی ضروت ہے خوش ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں پچھلے سال کے احوال و اعمال کا جاٸزہ لینے کی بھی ضرورت ہے، جو ہمیں یہ کہتے ہوۓ رخصت ہوگیا کہ اب میں جارہا ہوں اب دوبارہ لوٹ کر نہیں آٶں گا، اب وقت ہے کہ تم احتساب کرو اپنے نفس کا کہ کیا حاصل کیا اور کیا کھویا؟پورے سال تم نے مجھے کس کس طرح استعمال کیا؟ اب جبکہ میں رخصت ہورہا ہوں اپنے آپ کو سنبھالو اب تمہاری ملاقات ایک نۓ سال سے ہورہی ہے جس کا پہلا مہینہ محرم ہے جو بڑا مبارک و مسعود مہینہ ہے ،محرم کی شروعات ہوتے ہی اس کی صداٸیں باز گشت ہونے لگی کہ اب میں آگیا ہوں میری قدر کرو مجھ کو یوں ہی ضاٸع مت کرو مجھ میں خرافات کو ہوا مت دو جیسا کہ تم بیجا خرافات میں لگ جاتے ہو میں محترم ہوں مجھے محترم رہنے دو میری شبیہ کو خراب مت کرو میری آبرو کو پامال مت کرو دور جاہلیت میں میں محترم تھا اور اب بھی ہوں لیکن آج کی دنیا نے مجھے ذلیل و رسوا کردیا ہے طرح طرح کے خرافات گڑھ لۓ ہیں، جو کسی بھی طرح روا نہیں ہے، مجھ میں کچھ احکامات ہیں جو پورا کریگا اس کی جھولی نیکیوں سے بھر دی جاۓگی، کچھ روزے ہیں جس کو رکھنا ہے جو ایک نبی کی سنت ہے ،جی ہاں میں صبرو استقامت کامہینہ ہوں مجھے اس بات پر فخر ہے کہ مجھ میں ایسے واقعات رو نما ہوۓ ہیں جو صبر و استقامت کا درس دیتے ہیں، راہ خدا میں مصیبتوں کو برداشت کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، اور اسلام کے علم کو بلند رکھنے کا حوصلہ بخشتے ہیں، وہ الگ سی بات ہے کہ میری تاریخ ایک مبارک ناموس کے خون سے رنگین ہے جس کا قلق مجھے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور مجھے نہیں معلوم کہ میں اس قلق کو کیسے دور کرسکتا ہوں لیکن میں اس بات پر خوش ہوں کہ وہ خون دنیا کو صبر و استقامت کا درس دے گیا مصیبتوں پر ڈٹے رہنے اور مشقتوں کو جھیلنے کا حوصلہ دے گیا اس لۓ دنیا والوں کو میرا یہ پیغام ہے کہ مجھے یوں ہی ضاٸع نہ کریں میری اہمیت کو سمجھیں اور جو خرافات گڑھ لی ہیں اس سے اجتناب کریں ہر طرح کے بدعات و رسومات سے اپنے آپ کو دور رکھیں اور زندگیوں میں کچھ تبدیلی لاٸیں ماضی کی کوتاہیوں کو بھلا کر نۓ مستقبل کی تعمیر کریں زندگی میں ایک نیا موڑ لاٸیں اور مجھے رسم و رواج کا سرچشمہ نہ بناٸیں راہ خدا میں آنے والی مصیبتوں کو جھیل کر سرخرو ہونے کا طریقہ سیکھیں جو کچھ بھی کرنا ہے ابھی وقت ہے کرلو ورنہ میں بھی چلا جاٶں گا اور کچھ ہاتھ نہیں آۓ گا ،