نعت نبی: اک طرف شان خدا ہے اک طرف شان رسول

مٶمنوں کواپنی جاں سے پیاری ہےجانِ رسول
جب ضروت آپڑے گی ہوں گے قربانِ رسول

دامنِ احمد سے وابستہ تھے یارانِ رسول
اس لیے کہ ان کوبہتر تھا بھی عرفان رسول

نافلہ تھی جونمازِ شب پڑھا کرتے تھےآپ
درجہ ء محمود کیوں کر ہو نہ شایانِ رسول

اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں جب یہود
بن رہےہیں وہ حسد میں ہی توانجانِِ رسول

شرط ہے تکمیل ِایماں کے لیے حبِّ نبی
یہ حدیثوں کی کتابوں میں ہے فرمانِ رسول

اہلِ صفہ سب کےسب تھےطالبانِ علم ہی
شکرِ رحماں کرتے رہتے تھے وہ مہمانِ رسول

بندگی اللہ کی ہے اور نبی کی پیروی
”اک طرف شان خدا ہے اک طرف شان رسول“

جس قدر چاہے لکھیں مدحِ محمدمصطفےٰ
نعت خوانوں سے بیاں ہوگی نہیں شان رسول

شاہ رخ، سلمان سے عاجز کو کچھ لینا نہیں
اس کے دل میں وہ بسا ہے جو ہے سلمانِ رسول

سید عزیزالرحمٰن عاجزؔ
دیوری کلاں پوسٹ ارجی
ضلع سدھارتھ نگر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے