سعودی یوم الوطنی کے موقع پر انڈین فرینڈس سرکل ادبی فورم ریاض کے زیر اہتما م مشاعرہ

  • طاہر بلال کی کتاب’’ خوشبو کا کاروبار (شعری مجموعہ) اور ناہید طاہر جہانیہ کی کتاب’’ چاند تیسری شب کا (افسانوی مجموعہ)کی رسم اجراء

( ریاض) سعودی یوم الوطنی کے موقع پر ریاض کی معروف تنظیم انڈین فرینڈ س سرکل(آئی ایف سی) ادبی فورم کے زیر اہتمام ایک شاندار اور خوبصورت مشاعرہ منعقد ہوا ،جس میںسماجی ، مذہبی اور ادبی حلقوںسے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میںشرکت کی ۔ اس محفل کی صدارت معروف قلمکاراور کئی کتابوں کے خالق ہندوستان سے تشریف لائے ڈاکٹر سلیم خان نے فرمائی ؛جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے خواجہ مسیح الدین ابو نبیل اور مہمانان اعزازی کی حیثیت سے مشتاق احمد اور سینئر صحافی کے این واصف سے شریک محفل رہے ۔ نظامت کے فرائض حسان عارفی نے انجام دیئے ۔ ادارے کی روایت کے مطابق یہ نشست دو حصوں پر مشتمل رہی ، پہلا حصہ نثری اور دوسرا حصہ شعری ۔ نشست کا باضابطہ آغاز یوسف بن دانش کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔ اس کے بعد تنویر احمد تماپوری نے دو افسانچے پیش کئے جس کو سامعین نے بھر پور سراہا ۔کے این واصف نے ایک انشائیہ اور خواجہ مسیح الدین ابو نبیل نے ’’خوشبو کا کاروبار ،، اور ’’ چاند تیسری شب کا ،، پر مفصل مقالہ پیش کیا ۔ صدر محفل ڈاکٹر سلیم خان نے افسانہ ، انشائیہ اور مقالہ پر عالمانہ و فاضلانہ گفتگو فرمائی بعد ازاں ان ہی کے ہاتھوںد ونوں کتابو ںکی رسم اجراء عمل میں آئی ۔

اس کے بعدشعری سفر کاآغاز جمیل احمد نے طاہر بلال کی نعت پاک سے کیا، اس مشاعرہ میں ہند و پاک کے شعراء کرام نے اپنے اپنے عمدہ اور پختہ کلام سے سامعین کو خوب محظو ظ کیا اور داد وصولی۔اخیر میں ادارے کے صدر اور صاحب کتاب طاہر بلال نے تمام مہمانان ، شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔مشاعرہ میں شریک شعراء کرام کے منتخب اشعار نذر قارئین ہیں ۔۔۔

خود بخود آجائے قدموں تلے سارا جہاں
اتحاد اسلاف سا باہم دگر پیدا کرو
عبدالرحمان عمری
ریاضتیں نہ یہ بیکار جائیں گی اختر
لہو جلاؤ غزل کا نزول ہوگا ہی
سعید اختر اعظمی
چوٹ پھولوں سے ہی جب کھاتے ہیںسب
دیکھتا ہے کون ۔۔۔۔۔۔۔۔ پتھر کی طرف
دانش ممتاز
ہم نے جو سوچا ہی نہیں وہ لمحوں میں ہو جاتا ہے
لیکن وہ ہوتا ہی نہیں ، جو ہم نے سوچا ہوتا ہے
منصورقاسمی
زندگی جس نے گزاری نہ ہو مانند سفر
اک مسافر ہے وہ جو رخت سفر بھول گیا
ضیاء عرشی
بھلا یہ سستی شہرت سے ہمیں کیا واسطہ
ہماری ریختہ گوئی ہے حسانوں سے وابستہ
اکرم علی اکرم
تم لکھو بڑے شوق سے قاتل کو مسیحا
ہم تو کسی قاتل کو مسیحا نہ لکھیں گے
حسان عارفی
مرے خلاف کوئی ٹھیک سے نہیں بولا
بھٹک گیا ہوں کہ ٹوکا نہیں گیا مجھ کو
صابر امانی
مجھ کو اک یار کے ہاتھوں کے نشاں یاد آئے
میں نے جب غور سے دیکھا کف قاتل کی طرف
سہیل اقبال
زخموں کودشمنوں نے مرے جب نمک دیا
میں نے بھی آستین کو فورا جھٹک دیا
الطاف شہریار
ہر جادہء حیات پہ تنہا گیا ہو ں میں
پہنچا جہاں نہیں وہاں پایا گیا ہوں میں
منصور محبوب چودھری
کچھ ہو نہ ہو چراغ میں اتنا ضرور تھا
وہ تیرگی میں رہ کے بھی سر تا پا نور تھا
طاہر بلال
اپنی ہستی کو ۔۔۔۔۔۔۔ فقط گملے کے پودا جیسا
دھوپ سے چھاؤں سے بارش سے بچاتا ہی رہا
ابو نبیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے