علامہ یوسف قرضاوی کا انتقال عالم اسلام کا بڑا علمی خسارہ

علامہ یوسف قرضاوی عالم اسلام کے ممتاز عالم دین ،عظیم اسلامی اسکالر، حق گو مصلح، عظیم داعی اور بڑے مفکر اورنامور مصنف تھے۔ ان کا سانحۂ ارتحال عالم اسلام کے لئے بڑا علمی خسارہ ہے، مذکورہ بالاخیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے پریس ریلیز میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علامہ یوسف قرضاوی موجودہ صدی میں عالم اسلام کے بڑے عالم تھے، فقہ اور دعوت میں بلند قامت شخصیت کے حامل تھے۔ انہوں نے اپنی علمی اور فقہی بصیرت سے عالم اسلام کو متاثر کیا، پوری دنیا میں وہ اہل علم کے درمیان مقبول رہے، ان کی تحقیقات کو علماء قبول کرتے تھے۔وہ اسلامی افکار ونظریات کے حامل اورسچے مبلغ تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علامہ یوسف قرضاوی کی پیدائش ۹؍ستمبر ۱۹۲۶ء کو مصر میں ہوئی۔ انہوں نے مصر کی مشہور یونیورسٹی جامع ازہر قاہرہ میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے قطر اور الجزائر کی یونیورسٹیوں میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیئے، وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اسلام کے بانی اور سرپرست تھے، وہ موجودہ وقت میں یوروپین کاونسل فار فتاویٰ وریسرچ کے سربراہ تھے، وہ پچاس سےزائدہ کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کا انتقال ۲۶؍ستمبر ۲۰۲۲ء کو ۹۶؍سال کی عمر میں قطر کی دارالحکومت دوحہ میں ہوگیا۔ان کا انتقال عالم اسلام کے لیے بڑا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور عالم اسلام کو نعم البدل عطا فرمائے۔وہ ہمارے درمیان نہیں رہے ،مگراپنے علمی کارناموں کی وجہ سے ہمیشہ یاد کئے جاتے رہیں گے۔

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے