مطابقت کیسے ممکن ہے

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری، گوونڈی ممبئی
9224599910

دوسروں کے لیے نفع بخش اور بے ضرر بن جائیے

Be useful to all or Harmful to none

زندگی جینے کے عام اصولوں میں سے ایک انتہائی اہم ترین اصول ہے کہ آپ کی ذات سے دوسرے فیض اٹھائیں اور آپ لوگوں کے لیے نفع رساں ہوں۔آپ کی شخصیت اور کردار دوسروں کے لیے فائدہ بخش اور کچھ دینے والا بن جائے اور یہ ممکن ہے
Muturity intellectual Exchange
سے ،تو آپ یقینا دستور زندگی سے واقف ہوگئے۔

"زندگی جینے اور زندگی کی رمق کو موجزن رکھنے کے لیے خود غرضی کے بالمقابل ایثار اور دوسروں کی مدد اہم وصف ہے۔”
زندگی نام ہی اثر پذیری اور اثر اندازی کا ہے ۔تاثیر اور تاثر کا ختم ہوجانا ہی جمود اور موت کی علامت ہے ۔Exchange of Mutual influence آپ کی شخصیت کا محرّک عنصر اور بہترین سرمایہ زندگی ہے۔خوشگوار ازدواجی زندگی جینے کا ہنر،اجڑتے گھروں کو آباد کرنے کا نسخہ کیمیا،مزاج میں موافقت، اختلاف میں مفاہمت، تنازعات میں مصالحت،اقدام میں مشاورت، زندگی کے معاملات میں صبر وثبات،اپنے حق سے کم پر راضی اور خاندان کو ٹوٹنے، بکھرنے سے بچانے والوں پر سلام ہے۔ ان کی محبت، الفت، مودت اور رحمت پر۔
زندگی کا تطبیقی(مماثلتی) پہلو Applied Aspect کا کار گر قانون ہے۔

خوبصو رت اور بہتر سو چنا

دشت میں رہنا، سمندر سوچنا

آپ کی زبان دل کی ترجمان اور آپ کا چہرہ آپ کا وقار ہے ۔
جرات، عزم و حوصلہ، عقل وشعور، خود اعتمادی، صحت وتندرستی، احساسات، جذبات، اور امنگیں یہ سب ہمارا وقار بڑھاتے ہیں ۔
ایسی عادتیں اپنا ئیے اور انہیں پروان چڑھائیے جن سے آپ کی زندگی خود کے لیےاور دوسروں کے لیے فائدہ مند اوربے ضرربن جائے ۔
Art of Living, Art of Listening,, Art of Discussion, Art of Cammunication, Art of Management
ان کو سیکھ کر خوشی اور مسرت اور لطف زندگی حاصل کیجیے۔
حسد کی آگ زندگی کو سوکھی لکڑی کی مانند جلا کر راکھ کر دے گی۔اس سے باہر نکلنے کا راستہ مثبت سوچ اور دوسروں کے لئے جینا اور اُنھیں خوشیاں فراہم کر نا ہے –

فرمایا نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے

"جو تم کو نہ دے اور محروم کرے اس کو دو، جو تم سے کٹے اس سے جڑو، جو تمہارے ساتھ زیادتی کرے اس کو معاف کردو۔”

اس نتیجے پہ پہنچے ہیں سبھی آخر میں

حاصل سیر جہاں کچھ نہیں حیرانی ہے

تحفظ، رہنمائی، بصیرت اور قوت کا انحصار ایک دوسرے پر ہوتا ہے ۔اور ہم آہنگی سے متوازن کردار اور شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ہمیشہ زندگی کے روشن اورتعمیری پہلو پر نظر رکھیے۔خود توقیری، خندہ روی ،بردباری،تحملکا مظاہرہ کیجیے۔
خوشی اور امنگ، ملنساری وخوش گفتاری، عجزوانکسار ہی کامیابی کی سیڑھیاں ہیں اور یہیUniversal Truth ہے ۔
اگر آپ کامیاب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کر یں تو ان کی زندگی میں
انسانی وسائل Human resources)کو استعمال کرنا۔ سماجی رویوں کو جاننا، تکمیلِ ذات(Self perfaction)۔کڑی محنت، خود شناسی، خدا شناسی، ذات شناسی، افراد شناسی، مسائل کو حل کرنا(problem solving)۔غیر ضروری بوجھ کم کرنا۔ موثر گفتگو، صحیح فکر(soft skills)۔درست نتیجہ.,جیسی نمایاں صفات نظر آئیں گی۔
آپ ایسا ماحول تیار کریں کہ نیک کام انجام دینے کی تحریک ہو-

(1)آپ کا دل مسلم (فرمابردار)ہو
(2) آپ سےلوگ ہمیشہ خیر کی توقع رکھیں-
(3)آپ سے معاملہ کر کے لوگ نفع کی اور خیر خواہی کی توقع رکھیں-
(4)معاف کردینا اور غصے کو پی جانا آپ کی عادت ہو-

(5)آپ سچ بولنے والے، وعدے کے ایفاء کرنے والے، وقت کے پابند، غلطی پر فوراً معافی اور اصلاح کے خوگر ہوں -دوسروں سے در گزر اوران کی غلطیوں کو معاف کرنے والے ہوں-
(6)آپ کا دل تعصّب، کینہ، شورش، شرپسندیوں اور برائی سے پاک ہو –
(7)آپ کے محفل سے چلے جانے کے بعد اچھے تاثر سے آپ کو یاد کیا جائے-
آپ کی زبان میٹھی، لہجہ نرم، گفتگو دلنشین ہو-

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خداغائبانہ کیا

(8)آپ کا شمار خدمت کرنے والوں میں ہو – کام آنے والوں میں ہو -انسانوں کے درد مند ہوں۔آپ کا تعارف ایک بہترین انسان کی حیثیت میں ہو۔
انسانیت، انسان میں ہوتی ہے، نہ کہ کوٹ، پتلون یا جبّہ ودستار میں

(9)آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی اور انھیں اچھّے مشوروں سے نوازتے ہوں –

جواعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جُھک کے ملتے ہیں

صراحی سر نگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ

(10)آپ لوگوں کو اچھّے ناموں اور اچھّے القاب سے یاد کرتے ہوں ،چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کی عزت کرنے والے ہوں-
(11)آپ ایک اچّھے پڑوسی، ایک ایماندار،دیانت دار تاجر اور معاملات کے کھرے انسان ہوں-

بلندی کو پستی سے ہے اجتناب

پکڑتا نہیں مکھّیوں کو عقاب

(12)سماج کے لیے ایک سرگرم کارکن، خدمت خلق میں آگے، لوگوں کے کام آنے والے، روز مرّہ استعمال کی چیزیں دوسروں کومستعار دینے والے ہوں-
(13)آپ اچّھے شوہر،بیوی باپ، بھائی ۔بہن اور مخلص دوست ثابت ہوں-
(14) اپنے ساتھی طالب علم کی راہ نمائی کرنے اور اسے اپنے برابر ترقّی کے لیے ابھارنے اور اپنی کتابوں کے استعمال کی خوش دلی سے اجازت دینے والے ہوں -اسی طرح اپنے فن، علم، صلاحیت، کمال سے اپنے سے کم ہنر والے کی مدد کرنے والے ہوں ،بھر پور اور مخلصانہ تعاون کرنا آپ کی پہچان ہو۔
(15)پ اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ غیبت اور چغلی سے حتی الامکان بچتے رہیے۔پہلے تولیں پھر بولیں۔آپ کے الفاظ اور لہجے سے کسی کا دل زخمی نہ ہو،تیر نہ چبھتے ہوں۔تحقیر آمیز گفتگو سے دل ٹوٹ جاتے ہیں –

آنچہ خوباں ہمہ دار تو تنہا داری

جب تک دو چراغ روشن نہ ہوں، ایک چراغ کے نیچے اندھیرا رہے گا۔
آدمی کے کان، آنکھ، ہاتھ، پیر کام کے اعضاء دو، دو ہیں ۔
وہ عجب پھول لفظ تھے، تیرے ہونٹ جن سے مہک اٹھے

مرے دشت خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گئے

صدیق خلیل، ذبح اسماعیل، حسن یوسف، لحن داؤد، ضرب کلیم اور اعجاز مسیحا۔۔۔انسانوں کے لیے سرا پا رحمت بن جائیں ۔

مبارک ہیں وہ لوگ جو خود خوش رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھتے ہیں –

"شہد کی ایک بوند کئٰ مکھیوں کو پکڑ لیتی ہے ۔من بھر سرکہ میں ایک بھی نہیں ڈوبتی”

دل ہی کی بدولت رنج بھی ہے، دل ہی کی بدولت راحت بھی

یہ دنیا جس کو کہتے ہیں، دوزخ بھی ہے جنّت بھی

یا خوف خدا یا خوف سقر، دوہی بیاں تیرے واعظ

الله کے بندے دل میں تیرے، ہے سوز گداز محبت بھی