پی۔ایف۔آئی۔ پر پابندی کے بعد!

تحریر: نایاب حسن

مسلم شخصیات یا تنظیموں،اداروں پر حکومت کی پابندی یا انھیں معتوب ٹھہرانے سے پہلے حکومتیں انھیں گھیرنے کے لیے جن ذرائع کا استعمال کرتی رہی ہے، ان میں سرکاری ایجنسیوں کے علاوہ خود مسلم افراد اور ادارے بھی شامل ہیں۔ حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان مسلکوں کے نام پر ہمہ وقت ایک دوسرے کی قبریں کھودنے کے درپے رہتے ہیں اور معمولی سیاسی یا فکری اختلاف بھی انھیں ایک دوسرے کا گوارہ نہیں ؛اس لیے یہ جب چاہتی ہے،جسے چاہتی ہے،پکڑ لیتی ہے،جس تنظیم پر چاہتی ہے،پابندی لگادیتی ہے، جن لوگوں کو چاہتی ہے گھیرگھار کر حوالۂ زنداں کردیتی ہے۔ ماضی میں بھی یعنی کانگریس کے دور حکومت میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، اب بی جے پی کے دور اقتدار میں زیادہ ہونے لگا ہے۔ آپ دیکھ لیجیے کہ پچھلے چند سالوں کے دوران ہمارے کیسے کیسے بڑے لوگوں، اداروں، تنظیموں اور جماعتوں پر حکومت نے ہاتھ ڈالا اور اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب رہی۔ بہت سے لوگ سوچتے رہے ہوں گے کہ ذاکر نایک کے خلاف ایکشن لینے سے لوگ بپھر جائیں گے، کہ ان کے جلسوں میں جم غفیر ہوتا تھا، مگر اکادکا غیر مؤثر آوازوں کے علاوہ کچھ سننے کو نہیں ملا، الٹا بہت سے مسلمانوں نے ہی خوشیاں منائیں، مولانا کلیم صدیقی اور ان کے نہج پر کام کرنے والے کئی لوگ زنداں رسید کردیے گئے، مگر من حیث المجموع مسلمانوں کو کوئی فرق نہیں پڑا ، اس موقعے پر بھی کچھ لوگوں نے تالیاں بجائیں۔ اب پی ایف آئی اور اس سے ملحقہ تنظیموں پر لگام کسی گئی ہے، تو ادھر ادھر سے کئی آوازیں ایسی سننے کو مل رہی ہیں، جو حکومت کے اقدام کی حمایت کر رہی ہیں۔

آج ہی ’ہندوستان ٹائمس‘ میں شیشر گپتا کی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں لکھا ہے کہ مودی و شاہ نے اس اقدام سے قبل اجیت ڈوبھال کے ذریعے نمایندہ مسلم تنظیموں سے اپروچ کرکے پی ایف آئی کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کا جواز حاصل کیا تھا۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ:’’این ایس اے اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران نے ملک کی سب سے بڑی مسلم تنظیموں (جن میں دیوبندی، بریلوی اور صوفی مسلم فرقوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیمیں شامل تھیں) کی رائے لی تھی۔ ان تنظیموں کی رائے اس بابت ایک دوسرے سے مختلف تھی کہ PFI ہندوستان میں فرقہ وارانہ اختلافات کا فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی انتہا پسندانہ مہم کے ساتھ پان اسلامسٹ تنظیموں کے وہابی-سلفی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے‘‘۔ اس کے بعد اسی رپورٹ میں آل انڈیا صوفی سجادہ نشیں کونسل کے چیئر مین ، اجمیر درگاہ کے سربراہ زین العابدین علی خاں اور آل انڈیا مسلم جماعت کے مولانا شہاب الدین رضوی کے بیانات درج ہیں ، جن کے ذریعے انھوں نے پی ایف آئی پر پابندی کی سراہنا کی ہے۔

اچھا! ایک چیز اور اس رپورٹ میں قابل غور ہے کہ اس میں پی ایف آئی کے بارے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ سلفی-وہابی تنظیموں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،حالاں کہ ایک ویڈیو ہندوستان کے ایک بڑے سلفی عالم کی گردش میں ہے، جس میں وہ واضح طور پر فرما رہے ہیں کہ یہ تنظیم اور اس سے ملحقہ دیگر تنظیمیں جماعت اسلامی اور حماس کے ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ خود اویسی جو پچھلے سات آٹھ سالوں میں مسلمانوں کے چیمپئن لیڈر بن کر ابھرے ہیں اور ہر مسلم ایشو پر ان کا بیان لوگ ضرور تلاش کرتے ہیں، وہ اس وقت تک خاموش رہے، جب تک پی ایف آئی کے دفاتر پر چھاپہ ماری اور اس کے لوگوں کی دھر پکڑ جاری رہی، مگر جب سرکار نے پابندی لگادی ،تو ان کا بیان آیا ہے کہ ’میں پی ایف آئی کے نظریات سے تو متفق نہیں ہوں، مگر سرکار کا اقدام غلط ہے‘۔ ظاہر ہے کہ یہ بیان دوٹوک نہیں ہے، بوگس ہے اور اس سے سیاسی پینترے بازی عیاں ہے۔ان سے زیادہ کھل کر آرجے ڈی سربراہ لالو یادو نے رد عمل کا اظہار کیا ہے کہ اگر پابندی لگانی ہی ہے تو سرکار آرایس ایس پر پابندی لگائے، کہ وہ پی ایف آئی سے بھی بدتر تنظیم ہے۔

الغرض بات اصل یہ ہے کہ پی ایف آئی ہو یا کوئی بھی مسلم تنظیم یا رہنما، ان کے خلاف حکومت کے اقدام کا سبب ہم خود بنتے ہیں، ہمیں انھیں ثبوت فراہم کرتے ہیں، ان کے خلاف دلائل ہمیں مہیا کرتے ہیں، ہمیں اپنے دل کا بغض نکالنے یا فکری و نظریاتی اختلاف کا بدلہ لینے کے لیے دشمنی کی کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں؛ اس لیے ماضی میں بھی ہمیں یعنی بحیثیت مجموعی تمام مسلمانوں کو ذلت آمیز و شرمناک سیاسی عتابوں کا سامنا رہا ہے ، اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور اگر ہمارے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی، تو اس سے بھی بدتر حالات آئیں گے۔ ان کا نمبر بھی ضرور بالضرور آئے گا، جو آج کھلے عام یا ڈھکے چھپے بغلیں بجا رہے ، خوشیاں منا رہے ہیں اور اس خوش فہمی میں ہیں کہ ’سرکار‘ کی بڑی خدمت کردی، اب ہم اس کی گرفت سے محفوظ ہیں۔

مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ عرصۂ دراز سے یہی ہے کہ ہمارے مذہبی یا سیاسی رہنما اپنے قد کے برابر کسی ہم مذہب کو نہیں دیکھنا چاہتے، ہماری ملی تنظیمیں دوسری تمام تنظیموں کو رفیق کی بجاے حریف سمجھتی ہیں، ہمارے نام پر بننے والی سیاسی جماعتیں اپنی جیسی کسی دوسری جماعت سے اشتراکِ عمل کو تیار نہیں، کہ انھیں اپنی چودھراہٹ کے چھن جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ جب بھی موقع ملتا ہے ایک تنظیم دوسری کے خلاف خود سازش کرتی یا سازش میں شریک ہوجاتی ہے اور ہمارا ایک رہنما(دینی یا سیاسی) اپنے جیسے دوسرے کو دیوار سے لگانے کی مہم میں مصروف ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک دوسرے کو زیر کرنے کی یہ مسابقت جب تک ہمارے اندر برقرار ہے، ہماری شکست و ریخت یا تذلیل و تعذیب کے لیے بیرونی سازشوں کی چنداں ضرورت نہیں ہے، ہم خود یکے بعد دیگرے ٹھکانے لگتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے