دوران سفر۔۔۔۔۔

میری ڈائری: سفر نامہ دہلی (قسط نمبر ٢)

ازقلم: ابن الفظ، جھارکھنڈ

دنیا طرح طرح کی رنگ ریلیوں سے بھری ہوئی ہے ، خدا نے مختلف رنگ و روپ کے انسان پیدا کئے ہیں ، مختلف ذہن و دماغ رکھنے والے الگ الگ مزاج رکھنے والے جب ایک جگہ مجتمع ہوتے ہیں تو پھر عجیب سماں بندھ جاتا ہے ، ایک دوسرے کو پہچانتے نہیں ہوتے ہیں لیکن فقط انسان ہونے کے ناطے اپنوں کی طرح محسوس ہونے لگتے ہیں اس کا مشاہدہ سفر میں اکثر ہوتا ہے، سفر بہت تجربہ کی چیز ہے قدم قدم پر تجربات استقبال کیلے کھڑی ہے، قدرت کی کرشمہ سازی و جلوہ پاشی دیکھنے کیلیۓ سفر بہت ضروری ہے اگر چہ دشواریاں سہی لیکن اس کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا،
بہر حال قریب چار بجے ٹرین آئی تھرڈ اے سی میں میری بکنگ تھی رات بھر کی بیچینی عجیب طرح کی تھکاوٹ میں ڈال گئی تھی سیٹ پر سامان رکھا اتنے میں ڈبے کا واچمین سفید چادر اور تکیہ کا کھول لئے پہنچ گیا جلدی سے چادر بچھائی اور سیٹ پر پسر گیا فوراً نیند آگئی اور قریب آٹھ بجے آنکھ کھلی موبائل دیکھا تو مختلف لوگوں کے کال آئے ہوئے تھے مناسب نہیں سمجھا ہر ایک کا جواب دیا جائے، لیکن کچھ خاص ہوتے جو زندگی کا انمول تحفہ ہوتے ہیں اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،
قریب نو بجے فریش ہوکر میں نیچے کی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا جو ایک غیر مسلم بھائی کا تھا کشادہ دل انسان تھے بڑی خندہ پیشانی سے ملے تعارف ہوا پتہ چلا کہ وہ بھونیشور کے ہیں ، میں موبائل میں کچھ مضامین پڑھنا شروع کر دیا وھ میری طرف بہت غور سے دیکھ رہا تھا جب یہ سلسلہ دراز ہوا تو میں نے پوچھا کیا بات ہے بھائی بہت دیر سے آپ مجھے غور سے دیکھ رہے ہیں، وہ کہنے لگا میں نشان دیکھ رہا ہوں کہ کس نشان سے آپ مسلمان ہیں، مجھے بڑی حیرت ہوئی میں نے موبائل رکھ کر اس کی طرف مکمل طور سے متوجہ ہوا، اب انہوں نے ہندو مسلم فسادات اور حکومت کی کارکردگی کے بارے میں طویل گفتگو کی ارد گرد سیٹ پر بیٹھے لوگ بھی متوجہ ہوکر ہم دونوں کی گفتگو کو سن رہے تھے، ابھی گفتگو چل رہی تھی کہ ایک مسلم نوجوانوں پڑھا لکھا مجھسے پوچھ بیٹھا کہ مولوی صاحب جمہوریت کیا ہے ہمارے قائدین بہت زیادہ جمہوریت کی دہائی دیتے ہیں ، مجھے موقع ملا اور میں نے پوری جمہوریت کی تعریف اوصاف خصوصیات نقصانات گنوانا شروع کیا میری آواز بولتے بولتے تیز ہوگئی تو دور بیٹھے لوگ بھی بڑی شوق سے سننے لگے ، چنانچہ میں نے بات مکمل کی تو وہ مسلم نوجوان کہنے لگا ۔۔ مولوی صاحب آپ مولوی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ ملکی معاملات پر نظر رکھتے ہیں، میں نے وہی جواب دیا جو جواب کسی بھی عالم کو پسند نہیں ۔۔ میرا جواب تھا۔۔ میں عالم اسی کو سمجھتا ہوں جو دین کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم پر بھی نظر رکھتے ہوں۔۔ میرا یہ جواب ایسا ہے جس کی بدولت کئی عالموں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے ،
خیر تقریباً دو تین گھنٹے گفتگو ہوتی رہی مجھے نیند کا غلبہ ہوا اس لیے پچھلے کئی راتوں سے جاگنا ہو رہا تھا میں اپنی سیٹ پر جاکر سو گیا لیکن لوگوں کو کافی متاثر کیا،
یہ اللہ کا شکر ہے کہ مجھ ناچیز سے گاہے بگاہے کام لیتا رہتا ہے اس کیلیے جتنا بھی شکریہ ادا کروں کم ہے،
اچانک آنکھ کھلی تو دیکھا گاڑی آنند وہار پہنچ چکی ہے اپنا سامان سمیٹا اور گاڑی سے اتر کر آٹو کے ذریعہ اپنی منزل کی راہ لی۔

باقی اگلی قسط میں۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے