جامعہ ملیہ اسلامیہ میں

میری ڈائری: سفر نامہ دہلی (قسط نمبر ٣)

ازقلم: ابن الفظ، جھارکھنڈ

آج سترہ ستمبر بروز سنیچر کو اپنے مقصد کی طرف پہلا قدم بڑھایا، تین بجے سے امتحان شروع تھا پچھلے چار پانچ دنوں سے بساط بھر تیاری چل رہی تھی، جنرل انگلش کا پرچہ تھا چونکہ شروع سے بہت زیادہ انگریزی کی طرف رجحان نہیں تھا لیکن بعد میں زمانہ کی ستم ظریفی نے انگریزی کی طرف بھی رجحان پیدا کیا لیکن ابھی انگریزی میدان میں طفل مکتب ہوں اور مزید سیکھ رہا ہوں انگریزی زبان میں کم علمی کی وجہ سے دل دھڑک رہا تھا وقت قریب آیا تھا تو مزید دھڑکنیں تیز ہوگئیں لیکن محنت کی تھی تو اللہ کے وعدہ پر پورا بھروسہ تھا الحمدللہ پرچہ بحسن خوبی انجام کو پہنچا،
یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی کچھ تاریخی حیثیت آپ کے سامنے پیش کروں تاکہ جامعہ کی اہمیت و افادیت آپ کے سامنے آجائے،

جامعہ ملیہ اسلامیہ تاریخ کے آئینے میں

1920ء میں علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کے بانیوں میں محمود حسن دیوبندی، محمد علی جوہر، حکیم اجمل خان، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، عبد المجید خواجہ اور ذاکر حسین ہیں۔ ان حضرات کا خواب ایک اینے تعلیمی ادارہ کا قیام تھا جہاں اکثریت کے جذبے کا احترام کیا جائے اور اخلاق عالیہ کا مظاہرہ کیا جائے۔ 1925ء میں جامعہ کو علی گڑھ سے قرول باغ، نئی دہلی منتقل کیا گیا۔ 1 مارچ 1935ء کو اوکھلا میں جامعہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اوکھلا اس زمانہ میں جنوبی دہلی کا ایک غیر رہائشی علاقہ تھا۔ نئے حرم جامعہ میں کتب خانہ، جامعہ پریس اور مکتبہ کے علاوہ تمام شعبے منتقل کردیے گئے تھے۔ اسے ایک قومی یونیورسٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا جہاں اعلیٰ، جدید اور ترقی پسند تعلیم کا انتظام کیا جائے اور ملک بھر کے تمام مذاہب کے لوگ بالخصوص مسلمان تعلیم حاصل کرسکیں۔ جامعہ کو گاندھی اور ٹیگور کا بھرپور تعاون حاصل رہا۔ دونوں بزرگوں کا ماننا تھا کہ جامعہ ہزاروں طالبان جدید علوم کی تشنگی کا سامان فراہم کرے گا۔ 1988ء میں جامعہ کو بھارتی پارلیمان کے جامعہ ملیہ اسلامیہ ایکٹ، (59/1988) کے تحت مرکزی یونیورسٹی کا درجہ ملا۔

2006ء میں سعودی عرب کے سلطان سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے جامعہ کو شرف زیارت بخشا اور 3 ملین ڈالر کا نذرانہ پیش کیا جس سے ذاکر حسین لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔

زندگی میں پہلی بار کسی یونیورسٹی کو دیکھنے کا موقع ملا قسمت کا بھی ساتھ ملا اور اس یونیورسٹی میں پڑھنے کا موقع ملا،

آج کیلے بس اتنا۔ کل انشاء اللہ جغرافیائی حیثیت بیان کی جائے گی،
تب تک کیلے خدا حافظ،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے