لال قلعہ میں

میری ڈائری: سفر نامہ دہلی (قسط نمبر ٧)

ازقلم: ابن الفظ، جھارکھنڈ

شاہی جامع مسجد کے بالکل سامنے روڈ کے اس پار ایک اور آثار قدیمہ اور اسلاف کی نشانی عظمت رفتہ کی تعمیراتی شکل موجود ہے جس کو لال قلعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، یہ بھی دنیا کی نگاہ میں دیدہ حیرت ہے اور اپنی تمام تر رعنائیوں زیبائوں اور جلوہ سامانیوں کے ساتھ مطمح نظر بنا ہوا ہے ، ملکی اور غیر ملکی خلقت کا ہجوم ہوتا ہے ، سچ بات یہ ہے کہ ملک ہندوستان کی دنیا میں جو حیثیت ہے وہ صرف ایک ملک ھونے کی حیثیت سے نہیں ہے بلکہ ہماری عظمت رفتہ کا بھی بڑا رول ہے ،
ہم جامع مسجد سے نکل کر سیدھے پیادا لال قلعہ کی اور چلے اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں پتہ چلا کہ یہ قطاریں لال قلعہ کے اندرونی حصے کی زیارت کیلے ٹکٹ بکنگ کی قطار ہے تقریباً دو ڈھائی کلو میٹر تک خلقت کا ہجوم قطار کی شکل میں عقل محو حیرت تھی مجھے بڑی تمنا تھی کہ اندرونی حصہ کی زیارت کروں لیکن اس قدر ازدحام دیکھ کر ہمت نہیں ہورہی تھی کہ قطار میں کھڑے ہوکر ٹکٹک لیں لیکن چونکہ دیکھنا مقدر تھا اس لیے ہمارے ایک ساتھی قطار میں کھڑے گئے قریب ایک گھنٹہ کھڑے ہونے کے بعد ٹکٹ کی کاروائی مکمل ہوئی ، دھوپ کی تمازت اس قدر تیز تھی کہ پدن پسینہ سے شرابور ہوا جارہا تھا لیکن سامنے اسلاف کی یادیں تھیں تو کچھ فرق نہیں پڑ رہا تھا ، بالآخر ہم اندر گئے جیسے جیسے قدم آگے بڑھ رہا تھا نگاہیں چاروں طرف گھور گھور کر دیکھ رہی تھیں پوری عمارت پتھر کی اور وہ بھی ایک ہی قسم کا پتھر یعنی کہ سرخ رنگ کا ، کٹنگ اور ڈیزاننگ میں تو عجیب کرشمہ سازی تھی میں نے موجودہ مشینی دور اور ماضی میں ہاتھ کی کاری گری پر غور کیا تو ذہن نے اول پوزیشن ماضی ہی کو دیا ، ہم آگے بڑھ رہے تھے مارکیٹ نے ہمارا استقبال کیا خرید و فرخت کا عمل اندر بھی جاری تھا طرح طرح کے اشیاء بیچے اور خریدے جارہے تھے ، ایک عمارت کو کراس کرنے کے بعد ہمیں ایک خلا نظر آئ وہاں داخل ہوئے تو خود کو ایک میدان میں پایا دور کچھ پرشکوہ عمارتیں نظر آئیں قدم کو اس جانب بڑھایا تو معلوم ہوا کہ وہ میوزیم ہے دروازہ پر پہنچے تو گاڈ نے ٹکٹ کی مانگ کی ہم نے میوزیم کا ٹکٹ بھی لیا ہوا تھا اس لیے پریشانی نہیں ہوئی اور باآسانی اندر داخل ہو گئے ، پہلا کمرہ جسمیں ہم داخل ہوئے اس میں ایک بڑی حیرت ناک اور ہیبت ناک چیز نظر آئ دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ در اصل انگریزوں کے زمانے کا توپ ہے انگریز مسلمانوں کو رسی سے باندھ کر اسی توپ سے اڑا دیا کرتے تھے جس سے مسلمانوں کے جسم ذرات کی شکل میں فضا میں بکھر جایا کرتا تھا ، یہ سن کر جنگ آزادی کی تاریخ اور مسلمانوں کی قربانیوں اور ان پر ستم رانی و قہر سامانی کی تاریخ میں کھو گیا آنکھیں ڈبڈبا سی گئی تھیں ، آگے بڑھے تو ایک بورڈ پر کچھ پرچے چسپاں نظر آئے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت میں بڑا رول ادا کیا تھا ، ان میں سے سب سے نمایاں پرچہ مولانا ابوالکلام آزاد کا۔۔ الہلال ۔۔ تھا ، چونکہ تاریخ سے تھوڑی وابستگی ہے اسے لئے ان پرچوں کو دیکھ کر کچھ انجان محسوس نہیں ہوا ، اٹھارہ ستاون کا زمانہ جسے انگریزوں نے غدر کا نام دیا تھا اس زمانے میں ان پرچوں نے بڑا رول ادا کیا تھا ان کے بانیان کو کالا پانی کی اندوہناک صعوبتیں برداشت کرنی پڑی تھیں ،
وہاں سے ہم دوسرے فلور پر پہنچے تو حیرت کی انتہا نہ رہی نگاہوں کے سامنے ماتم پسر گیا عقل تماشا بن کر رہ گئی منظر کچھ یوں تھا کہ بہت سے مجاہدین آزادی کی تصویریں مع نام چسپاں تھیں لیکن سوائے ایک کے کوئی مسلم مجاہدین آزادی نظر نہیں آیا ، ایک جن کی تصویر تھی وہ ملا باقر تھے جنہوں نے انگریزوں کے خلاف کافی جد و جہد دکھائی تھی ،
دل میں خیال آیا کہ ۔۔۔ اگر چہ پرچوں سے ہمارے شہدا کو مٹا دو لیکن دل کے نہاں خانوں سے نہیں مٹا سکتے ، اور بھی کئی تاریخی چیزیں دیکھنے کو ملی خصوصاً جنگ آزادی کے نمونے نظر آئے وہاں سے ہم نکلے دل مستغرق دعا تھا ،

باقی اگلی قسط میں،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے