شاہی جامع مسجد میں

میری ڈائری: سفر نامہ دہلی (قسط نمبر ٦)

ازقلم: ابن الفظ، جھارکھنڈ

بروز اتوار قریب بارہ بجے ہم دھلی جامع مسجد کی طرف محو سفر ہوئے ڈیرے سے نکل کر سیدھے میٹرو اسٹیشن پہنچے میٹرو کی کارروائی مکمل کرنے بعد پلیٹ فارم پر گئے دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ میٹر و اپنے رفتار میں پلیٹ فارم پر پہنچ گئ جھٹ سے دروازہ کھلا اور ہم سوار ہوئے ڈبے میں خلقت کا ہجوم تھا بمشکل کھڑے ہونے کی جگہ تھی تقریباً آدھا گھنٹہ اسی کیفیت میں رہے کہ جامع مسجد میٹرو اسٹیشن پہنچ گئے ، وہاں سے سیدھے مسجد کی راہ لی راستہ میں مینا بازار نے ہمارا استقبال کیا اور اسی راستے سے ہم مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر تھوڑا مسجد کی جغرافیائی حیثیت بیان کرتا چلوں ،

مسجد کی جغرافیائی حیثیت

مسجد جہاں نما جو جامع مسجد دہلی کے نام سے مشہور ہے، بھارت کے دار الحکومت دہلی کی اہم ترین مسجد ہے۔ اسے مغل شہنشاہ شاہجہاں نے تعمیر کیا جو 1656ء میں مکمل ہوئی۔ یہ بھارت کی بڑی اور معروف ترین مساجد میں سے ایک ہے اور پرانی دلی کے مصروف اور معروف ترین مرکز چاندنی چوک پر واقع ہے
مسجد کے صحن میں 25 ہزار سے زائد افراد کی گنجائش ہے۔ اس کی تعمیر پر 10 لاکھ روپے کی لاگت آئی۔

شاہجہاں نے اپنے دور حکومت میں دہلی، آگرہ، اجمیر اور لاہور میں بڑی مساجد تعمیر کرائیں جن میں جامع مسجد دہلی اور لاہور کی بادشاہی مسجد کا طرز تعمیر تقریباً یکساں ہے۔

مسجد کے صحن تک مشرقی، شمالی اور جنوبی تین راستوں سے بذریعہ زینہ رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مسجد کے شمالی دروازے میں 39، جنوبی میں 33 اور مشرقی دروازے میں 35 سیڑھیاں ہیں۔ مشرقی دروازہ شاہی گزر گاہ تھی جہاں سے بادشاہ مسجد میں داخل ہوتا تھا۔

مسجد 261 فٹ طویل اور 90 فٹ عریض ہے، اس کی چھت پر تین گنبد نصب ہیں۔ 130 فٹ طویل دو مینار بھی مسجد کے رخ پر واقع ہیں۔ مسجد کے عقبی جانب چار چھوٹے مینار بھی موجود ہے،

ہم مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک شاہ جہاں کی شاہجہانی نظر کے سامنے گردش کرنے لگی ساتھ ہی ساتھ ہماری عظمت رفتہ ہمیں صدا دے رہی تھی کہ ۔۔ اب تمہیں اسلام کی نشانیاں اپنے تحفظ و بقا کیلے فریاد رس ہیں۔۔۔
صحن میں داخل ہوئے تو نوع بنوع خلقت کا ہجوم نظر آیا جسمیں مرد اور عورتیں بھی تھیں ، کچھ ملکی تھے تو کچھ غیر ملکی سب کی آنکھیں دیدہ حیرت بنی ہوئی تھیں، صحن میں موجود حوض میں ہم نے وضو کی ظہر کا وقت گزرا جارہا تھا جماعت خانہ میں نماز ادا کی یہ پہلا موقع تھا جب شاہجہاں کی عمارت میں نماز ادا کرنے کا موقع ملا، نماز ادا کرنے کے بعد مسجد کی فلک بوس عمارتیں پرشکوہ تعمیرات پر نظر پڑی تو خدا کی مخلوق کی گاری گری نظر آئ جو حقیقت میں خدا کی طرف سے عطیہ کی ہوئی ہے، صحن کے بائیں جانب آیا تو دیکھا کہ سب کے ہاتھ میں موبائل ہے جو فوٹو گرافی کے عمل میں مشغول ہے طرح طرح سے تصاویر لینے کی ایکٹنگ نظر آئ عورتیں اس کام میں زیادہ پیش پیش نظر آئیں دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا کیونکہ ایک غیرت مند صاحب ایمان مسجد کے اندر اس طرح کی حرکتوں کو برداشت نہیں کر سکتا، بہر حال دنیا کی رنگ ریلیاں اپنی جگہ مسلم ہیں ان رنگ ریلیوں میں ہماری اقداریں دفن ہو چکی ہیں جس کو اب کھرید کر نکالنا دنیا کی نظروں میں پاگل سے کم نہیں سمجھا جائے گا۔

باقی اگلی قسط میں۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے