امیت شاہ کا سفید جھوٹ

آج کانگریس نے ملک گیر سطح پر مودی سرکار کےخلاف آندولن کیا، کانگریس نے صرف مہنگائی، بے روزگاری اور جی۔ایس۔ٹی کے خلاف آندولن کا اعلان کیا تھا اور احتجاج کو انہی ایشوز پر مرکوز بھی رکھا، بھاجپا کی نفرتی سیاست کو ایجنڈے سے خارج رکھا تاکہ ہندو۔مسلم نہ ہوجائے،
لیکن اس کےباوجود ہندوستان کے وزیرداخلہ امیت شاہ نے آج کانگریس کے اس ملک گیر آندولن کو پوری ڈھٹائی سے رام مندر کےخلاف آندولن قرار دےدیا، یعنی جس تحریک میں دور دور تک بھی مندر مسجد کا نام و نشان نہیں اس کو بھی مندر سے جوڑ دیا وہ بھی ملک کے وزیرداخلہ نے، آپ اندازہ لگا سکتےہیں کہ مرکزي حکومت کے حکمران اعلیٰ سطح سے کس طرح ہندوﺅں کو بھڑکانے کے کام پر لگے ہوئے ہیں، اور ملک کی بدقسمتی یہ ہےکہ ہندو آسانی سے ایسی نفرتی باتوں کو سن کر بھڑک بھی جاتےہیں،
ہنسی بھی آتی ہے کہ کسی ملک کا وزیرداخلہ اتنی صفائی سے جھوٹ بول سکتاہے اور ایسی غیر معقول حرکتوں سے ایک بڑی آبادی بیوقوف بھی بنی ہوئی ہے
امیت شاہ نے جس طرح میڈیا میں آکر کانگریس کے آج کے احتجاج کو سیدھے طورپر رام مندر کےخلاف احتجاج قرار دیا ہے اُس سے جہاں سیکولر طبقہ ششدر ہے کہ کرے تو کرے کیا؟ وہیں یہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ حکمران جماعت کو مسلمانوں کےخلاف نفرت بھڑکانے کی کیسی لَت لگی ہوئی ہے وہ ریاستی طاقت کے ذریعے اس ملک کو نفرت کی آگ میں جھونک رہےہیں اور ہندوﺅں کو بیوقوف بناکر مسلمانوں کو اقتدار کی بَلی کا بکرا بنایا ہوا ہے، یاد رہے کہ ریاستی اقتدار ہی اگر نفرت پھیلانے کے لیے کمربستہ ہو تو پھر ایسے ملک میں قیامِ امن کے خواب محض قومی یکجہتی اور سدبھاؤنا کے ڈراموں سے ناممکن ہیں جب تک کہ سماجی لیڈرشپ نفرت پھیلانے والوں کو راست مینشن نہیں کرتی اور ان کا ہاتھ نہیں پکڑتی قیامِ امن ممکن ہی نہیں ہے_

ازقلم: سمیع اللہ خان