غمِ حُسینؑ وسیلہ تھا رہنمائی کا

غمِ حُسینؑ وسیلہ تھا رہنمائی کا
بہانہ اس کو بناڈالا خودنُمائی کا
خلوصِ دل سے عزائے حُسینؑ برپا ہو
توحق ادا ہو محمدؑکی ہمنوائی کا
وہ سادہ لوح عزاداراب کہاں ملتے ہیں
ہماراگریہ بھی باعث ہے جگ ہنسائی کا
نکل کے شوق سے کچھ مومنات بے پردہ
مذاق اُڑاتی ہیں زینبؑ کی بے روائی کا
حصولِ زرکا ذریعہ بنایا منبرکو
لبادہ اوڑھ کے حسینؑ کے فدائی کا
بندھی بندھائی ہوئی ذاکری کی اجرت میں
گوارامجھ کو نہیں فرق اک پائی کا
زباں پہ تذکرئہ فقرِ بوذرؓوسلماں ؓ
مگرشہیدزرومال کی خدائی کا
میں ذکروفکر میں اپنا خیال رکھتاہوں
مجھے خیال نہیں قوم کی بھلائی کا
ملول رہتے ہیں جب دوست آشنا مجھ سے
میں کیسے دعویٰ کروں شہؑ سے آشنائی کا
ذکیؔ میں دعوئہ حُبّ حُسینؑ کرتا ہوں
یہ اوربات ہے،دشمن ہوں اپنے بھائی کا

ازقلم: ذکیؔ احمد (چندن پٹّی،دربھنگہ)


مُرسلہ: سلمان احمد
چندن پٹّی،دربھنگہ