10/ مُحَرَّمُ الحَرَام کو مسلمان ہرگز کوئی ایسا کام نہ کریں،جو فرمانِ رسولﷺ اور قولِ حسین کے خلاف ہو :مولانا محمد عزرائیل مظاہری

(ترجمان جمعیت علماروتہٹ نیپال)
یومِ عاشورہ کے موقع پر جمعیت علمائے نیپال کے مرکزی رکن،معہد ام حبیبہ ؓ للبنات کے بانی و ناظم حضرت مولانا محمد عزرائیل صاحب مظاہری نے مسلمانوں کے نام یہ پیغام دیتےہوئے کہا کہ:میدانِ کربلا میں نواسہ رسول ﷺ،جگر گوشہ بتول حضرت حسین ؓ کی مظلومانہ شہادت کا واقعہ یقینا تاریخ کا ایک انتہائی المناک اور دردناک واقعہ ہے؛مگرہم اس کربناک شہادت کی بنا یومِ عاشورہ کو ماتم منائیں ،سینہ پیٹیں اور دنیا بھر کی خرافات عمل میں لائیں یہ کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے؛کیوں کہ یہ عقلا بھی غیر مُناسب اعمال ہیں اور شرعا بھی دُرست نہیں ہیں۔
آقاۓ مدنی حضرت مُحَمَّد مصطفی ﷺ نے فرمایاکہ:جو شخص کسی کےانتقال یا وفات کے موقع پر ماتم کرے،گریبان چاک کرے،اپنے گالوں کی پٹائی کرے ،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ فرمانِ نبوی کی روشنی میں یہ بات بالکل منقح اور آشکارا ہوجاتی ہے کہ کسی کی بھی وفات پر ذکر کردہ افعال عمل میں لانا بالکل مناسب نہیں ہے ،اور یہ سب اعمال سرورِ کائنات کی ناراضگی کے اسباب ہیں،توجن اعمال و افعال سے تاجدار مدینہ حضرت محمد مصطفی ﷺ ناراض ہوں،بھلا انہیں کوئی مسلمان کسی کی وفات پر کرسکتاہے؟ ہرگز نہیں! پس ثابت ہوا کہ جولوگ بھی عاشورہ کے دن نواسہ رسول ﷺکی مظلومانہ شہادت کے غم میں نوحہ و ماتم گریہ زاری کرتے ہیں انہیں درحقیقت حضور ﷺ سے محبت نہیں ہے اور انہیں حضرت حسین ؓ سے بھی محبت نہیں یے؛کیوں کہ ان کا یہ عمل حضرت حسین ؓ کے قول کے بھی بالکل خلاف ہے۔وہ یوں کہ تاریخ کی مشہور کتاب” کامل ابن اثیر” میں لکھاہے کہ خود حضرت حسین ؓ اپنی شہادت سے دو(٢)یا تین(٣) روز قبل اپنی بہن حضرت زینب ؓ سے وصیت کرتے ہوۓ فرمایاتھاکہ: میری پیاری بہن اگر میں شہید ہوگیا،تو میرے اوپر نہ گریبان چاک کرنا ،نہ اپنے گالوں کو مارنا،اور نہ ہی اپنے کپڑے پھاڑنا۔معلوم ہوا کہ حضرت حسین ؓ نے بھی ان چیزوں کو ناپسند کیا اور انہیں نہ کرنے کی ترغیب بھی دیاہے۔اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ 10/محرم الحرام کو ہرگز کوئی ایسا کام نہ کریں ،جو فرمان رسول ﷺ اور قول حسین ؓ کے خلاف ہو۔