مذہب اسلام میں زکاة کا نظام اس لیے تھا کہ امت میں کوئی غریب باقی نہ رہ سکے: مولانا عمرین محفوظ

انوارالحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
مذہب اسلام کی بنیادی پانچ چیزوں میں سے ایک "زکاة”بھی ہے۔زکوة مطلق ہر مسلمان پر فرض نہیں ہے ؛بل کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان مسلمان، عاقل و بالغ ،آزاد ہو، نصاب کے برابر مال رکھتا ہو، ما ل ضروریات اصلیہ سے زائد ہو اور اس مال پر پورا سال گذر جائے تو اس پر زکوٰة فرض ہے، نصاب سے مراد یہ ہے کہ ساڑھے سات تولہ سونا ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہویا دونوں کی مالیت کے برابریا دونوں میں سے ایک کی مالیت کے برابرنقدی ہو یا سامانِ تجارت ہو یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو۔
الحمد للہ مسلمان جس طرح دیگر فرائض پر بطیب خاطر عمل کرتے ہیں اسی طرح "زکاة "پر بھی خوش اسلوبی کے ساتھ عمل کرتے ہوئے” اموال زکاة” ان کے مستحقین تک ہرممکن پہنچاکر اپنا فریضہ اداکرتے ہیں۔مگردور حاضر میں زکاة کی ادائگی کا جو نظام ہے ،کیااس سے وجوبِ زکاة کا مقصد حاصل ہورہاہے؟تو اس موقع پر میں بہت ہی بہتر سمجھتاہوں کہ اس عنوان پر مولانا عمرین محفوظ (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ) کا انتہائی مختصر مگر جامع ویڈیو کلپ رقم کردوں،جو ہرایک کےلیے نفع بخش ہے،تو لیجئے ویڈیوکلپ پیش خدمت ہے:مذہب اسلام میں زکاةکا نظام اس لیے نہیں تھا کہ ہرسال آپ ایک آدمی کو زکاة دیتے رہیں ،وہ ہرسال آتارہے، بھکاری بنارہے اور ہمیشہ ہاتھ پھیلاتارہے۔جن لوگوں نے زکاة کے اصل مقصد اور حکمت کو پڑھاہے اور احکام شریعت کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہےوہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اسلام میں زکاة کا نظام اس لیے تھا کہ امت میں کوئی غریب باقی نہ رہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ موجودہ نظامِ زکاة سے زکاة کا مقصد حاصل ہورہاہے?اگر نہیں، تو پھرہم کیوں نہیں وہ نظامِ زکاة قائم کریں ،جس سے کماحقہ زکاة کا مقصد حاصل ہوسکے۔