جنگ آزادی میں خواتین کا اہم کردار!

ازقلم: نازیہ اقبال فلاحی
معلمہ: مدرسہ دارالقرآن الکریم بابوآن ارریہ ، بہار

ہندوستان کی جد وجہد آزادی کا خیال آتے ہی ذہن میں بڑے بڑے مرد رہنماؤں کے نام گردش کرنے لگتے ہیں ، لیکن بغور مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ خواتین بھی اس جد وجہد میں مردوں سے کم نہیں رہیں ، انہوں نے نہ صرف اپنے شوہروں اور بیٹوں کو آزادی کی تحریک میں حصہ لینے کے لیے اکسایا اور ان کا ہر طرح سے تعاون کیا ، بلکہ ان میں سے بعض نے خود بھی براہ راست حصہ لیا ، ہڑتالوں میں حصہ لیا ، جلسے جلوس میں شرکت کی ، جب کہ بعض خواتین نے اپنی تحریروں اور شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی ۔
ایسی خواتین میں سر فہرست جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا نام آتا ہے ، جنہوں نے براہ راست انگریزوں سے لوہا لیا ، ان کے شوہر کے انتقال کے بعد انگریزوں نے لا ولدی کا بہانہ بنا کر جھانسی کو اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کی ، لکشمی بائی نے ان کی شدید مخالفت کی اور حکومت کی کمان اپنے منہ بولے بیٹے کے نام پر خود سنبھال لی ، انگریز فوج نے جھانسی پر حملہ کر دیا ، رانی لکشمی بائی نے مردانہ وار مقابلہ کیا ، انہوں نے انگریزوں کی جدید اسلحہ سے لیس اور تعداد میں بھی زیادہ فوج کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ، آخر کار وہ انگریز فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئیں ۔
جدید جہد آزادی میں ایک اہم نام بیگم حضرت محل کا ہے ۔ 1856ء میں جب انگریزوں نے نواب واجد علی شاہ پر ریاست اودھ کی سلطنت سے لاپرواہی برتنے کا الزام لگا کر جلاوطن کر دیا تو حضرت محل نے ہی انگریزوں کے خلاف فوجیوں کی رہنمائی کی اور انگریزوں کو اودھ میں شکست دی ، انگریزوں نے بیگم حضرت محل کو صلح کا پیغام بھیجا جسے انہوں نے نا منظور کر دیا ، انگریزوں نے ان کو طرح طرح کے لالچ دیئے لیکن وہ جھکنے کو تیار نہ ہوئیں ، انہوں نے سر جھکا کر عیش و عشرت کے ساتھ زندگی گزارنے پر سادہ زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی ۔
ہندوستان کی اس جد وجہد آزادی میں بعض خواتین نے پردے کے پیچھے سے مردوں کا ساتھ دیا ، ان میں سب سے اول ہیں بیگم زینت محل اگرچہ انہوں نے براہ راست انگریزوں کا مقابلہ نہیں کیا لیکن وہ اپنے شوہر بہادر شاہ ظفر کی حوصلہ افزائی پردے کے پیچھے سے لگاتار کرتی رہیں اور انہیں لڑائی کے لیے آمادہ کرتی رہیں ، یہاں تک کہ بادشاہ کو کہنا پڑا ، ٫٫ ہم لڑیں گے ، بیگم ضرور لڑیں گے ، آگے جو ہماری قسمت! جو خدا کو منظور ہوگا وہی ہوگا ، ہم قسم کھاتے ہیں بیگم کہ غلامی کی موت نہیں مریں گے ، آپ بھی تکلیف اٹھانے کے لیے تیار ہو جائیے ٬٬۔
بیگم زینت محل نے آخر تک بادشاہ کا ساتھ دیا ، تکلیفیں اٹھائیں ، پریشانیاں جھیلیں ، یہاں تک کہ جب بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے بعد انہیں جلا وطن کر کے رنگون بھیجا گیا تو انہوں نے بھی جلا وطنی کی زندگی پسند کی ، لیکن انگریزوں سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا ، نہ ہی ان سے رحم کی بھیک مانگی ۔
1857ء کی تحریک آزادی میں کچھ خواتین نے جاسوسی کی خدمات انجام دیں ، ایسی خواتین میں ایک نام نانا صاحب پیشوا کی بیٹی مینا کا بھی ہے ، 1857ء میں بٹھور پر انگریزوں کا قبضہ ہو جانے کے بعد نانا صاحب کو بٹھور چھوڑنا پڑا ، تب ان کی بیٹی نے نانا صاحب سے کہا ، ٫٫ میں اپنی حفاظت کرنا خوب جانتی ہوں ، میں یہاں رہ کر انقلابیوں کو اطلاعات فراہم کرتی رہوں گی ، آپ میری فکر نہ کریں ۔٬٬
ایک روز انگریزوں نے محل کو گھیر لیا ، مینا اپنے کچھ خدمت گاروں کے ساتھ گرفتار کر لی گئی ، انگریز جنرل نے جب مینا سے نانا صاحب اور ان کے ساتھیوں کے پتے پوچھے اور نہ بتانے پر جلانے کی دھمکی دی تو مینا نے بے خوفی سے کہا ، ٫٫ میری قربانی ہی میرا سب سے بڑا انعام ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ بھی طے ہے کہ میری موت انگریزوں کے زوال کا پیغام ثابت ہوگی ۔٬٬ جنرل نے مینا کے اس جواب سے مشتعل ہو کر زندہ ہی آگ میں ڈال دیا ، اس طرح مینا نے فرانس کے ٫ جان آف آرک ٬ کی طرح ملک کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر دی ۔
جاسوسی کے سلسلے میں ایک خاتون کا تذکرہ بھی ضروری ہے جس کا نام عزیزن بائی تھا ، وہ نہایت حسین اور خوش گلو تھی ، وہ تاتیا ٹوپے سے ملی اور جنگ آزادی میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ، تاتیا نے اس کے بیٹے سے مطابقت رکھنے والا کام اس کے سپرد کیا ، ان کی ہدایت پر عزیزن بائی نے کانپور چھاؤنی کے انگریز افسران تک رسائی حاصل کر لی ، وہ ان کے لیے رقص و سرور اور موسیقی کی محفلیں منعقد کرتی اور جب وہ مدہوش ہو جاتے تو ان سے فوجی راز حاصل کر کے تاتیا ٹوپے تک پہنچاتی ، ایک موقعے پر میدان جنگ میں زخمیوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے انگریزوں نے اسے دیکھ لیا ، آخر کار اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا اور انگریز جنرل کے حکم پر اسے ستون سے باندھ کر زندہ جلا دیا گیا ۔
تحریک آزادی کے دوسرے دور میں جن خواتین نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان میں ٫ بی اماں ، کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا، وہ جنگ آزادی کے دو عظیم مجاہدین ٫ محمد علی اور شوکت علی ٬ کی والدہ تھیں ۔
انہوں نے نہ صرف اپنے بیٹوں ٫ علی برادران ٬ کو آزادی کی تحریک میں حصہ لینے کے لیے اکسایا بلکہ خود بنفس نفیس اس میں حصہ لیا ، علی برادران کی قید کے دوران ٫ بی اماں ٬ نے ہر طرح سے ان کی دلجوئی کی اور کچھ شرائط پر قید سے ان کی رہائی کی سخت مخالفت کی ۔
1921ء میں انہوں نے آل انڈیا خواتین کانفرنس کی صدارت کی ، ان کی تقریروں کا نوٹس لیتے ہوئے وائسرائے نے 1922ء میں ان کی گرفتاری کا حکم جاری کیا ، وہ جد وجہد آزادی میں سخت محنت کے سبب بیمار رہنے لگیں اور نومبر 1924ء کو تقریباً 72 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا ۔
امجدی بیگم اہلیہ محمد علی جوہر آزادی کے اس متوالے مجاہد کی رفیقہْ حیات ہی ں جس نے کہا تھا ٫٫ جب وطن کا معاملہ ہے تو میں اول ہندوستانی ہوں بعد میں مسلمان ہوں اور اسلام کا معاملہ ہے تو میں پہلے مسلمان اور بعد میں ہندوستانی ہوں ٬٬۔
امجدی بیگم مولانا محمد علی جوہر کے ساتھ ان کی سیاسی زندگی میں شریک رہیں ، انہوں نے ستیہ گرہ اور خلافت تحریک کے لیے بی اماں کے ساتھ کروڑوں روپے کا چندہ کیا اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ممبر بھی بنیں ، امجدی بیگم ان تمام خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے گاندھی جی نے ان پر ٫٫ ایک بہادر خاتون ٬٬ کے عنوان سے خصوصی مضمون لکھا ۔
امجدی بیگم کی طرح تین خواتین اور ہیں جن کا آزادی کی جد وجہد میں قابل ذکر حصہ رہا اور جو مجاہدین آزادی کی شریک حیات تھیں ، ان کے بارے میں مولانا حسرت موہانی نے کہا تھا ، ٫٫ اگر بیگم حسرت ، بیگم آزاد اور کملا نہرو نہ ہوتیں تو حسرت کسی اخبار کے ایڈیٹر ہوتے ، مولانا ابوالکلام آزاد ٫ الہلال ٬ اور ٫ البلاغ ٬ نکالتے رہتے اور جواہر لال نہرو زیادہ سے زیادہ ایک کامیاب بیرسٹر ہوتے ، یہ عورتیں وفا پرست اور ایثار مجسم تھیں ، انہوں نے جان دے دی مگر ہم سے یہ نہ پوچھی کہ لیلائے سیاست کے پرستارو! تم جیل جا رہے ہو ہمارا کیا ہوگا ٬٬۔
کستور گاندھی کے نام سے کون واقف نہیں ہے ، ملک کی آزادی کے لیے انہوں نے آخری دم تک گاندھی جی کے ساتھ دیا ، گاندھی جی کے قید کے دنوں میں انہوں نے گھوم گھوم کر جگہ جگہ تقریریں کیں ، جن کے ذریعے انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے لوگوں کے دلوں میں جوش پیدا کیا ، تحریک آزادی میں حصہ لینے کے لیے وہ کئی مرتبہ جیل بھی گئیں ، حتی کہ جیل ہی میں ان کا انتقال ہوا ، 1942ء میں انہیں آغا خاں محل میں قید کیا گیا تھا ، وہاں ان کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی ، آخر کار 1944ء میں انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا ، آغا خاں محل میں ہی ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں ۔
انہیں دنوں سروجنی نائیڈو نے اپنی تقریروں اور گیتوں کے ذریعے اہل وطن میں آزادی کی لو جلائے رکھی ، ان کی شاعری کے باعث ہی انہیں بلبل ہند کا لقب دیا گیا ، انہوں نے اپنی گھریلو زندگی کے آرام کو ترک کر کے گاندھی ، نہرو ، مولانا آزاد جیسے رہنماؤں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا ، ان کی خدمات اور ان کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے 1925ء میں انہیں کانگریس کا صدر بنایا گیا ، وہ پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ۔
وجے لکشمی پنڈت ، کملا نہرو ، زلیخا بیگم ( اہلیہ مولانا ابوالکلام آزاد ) کے نام بھی ان کی خدمات اور قربانیوں کے سبب ہندوستان کی تاریخ آزادی میں سنہرے الفاظ سے لکھے جائیں گے ، ان کے علاوہ دیگر سینکڑوں خواتین ایسی ہیں جن کے نام بھی آج کوئی نہیں جانتا لیکن انہوں نے اپنی بساط بھر تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، ان میں چند ناموں کا ذکر ضروری ہے جن میں خاص طور سے جمنا دیوی ، بینا داس ، من موہن سہگل ، سبھدرا کماری چوہان ، ریحانہ طیب جی ، کلپنا جوشی ، آمنہ قریشی ، بیگم خورشید خواجہ ، کنک لتابروا ، حمیدہ طیب جی ، خدیجہ بیگم ، سیتا دیوی ، میری کیمپ ببل ، سلطانہ حیات انصاری ، میڈم بھیکا جی کاما ، نور النساء ، عنایت خاں ، درگا بھابھی ، زبیدہ بیگم ، فاطمہ اسماعیل ، سشیلا دیوی وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
تحریک آزادی میں خواتین کے رول کے بارے میں لکھتے ہوئے اگر ارونا آصف کا نام نہ لیا تو ناسپاسی ہوگی ، وہ ایک زبردست باہمت خاتون تھیں ، 1942ء میں جب کانگریس کے تمام بڑے رہنماؤں کو قید کر لیا گیا تھا تو یہ ارونا ہی تھیں جنہوں نے آزادی کی مشعل کو جلائے رکھا اور تحریک آزادی کا جھنڈا بلند کیے رکھا ، انہوں نے اس نازک موقعے پر تحریک آزادی کی کمان سنبھالی اور اپنی صلاحیتوں سے اسے ایک نئی جلا بخشی ، 1930ء میں انہوں نے نمک ستیہ گرہ میں نمایاں حصہ لیا تھا جس کے لیے انہیں ایک سال کی سزا دی گئی جب کہ دوسری خواتین کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ، 1942ء میں اگست انقلاب کی لیڈر کے طور پر ان کی گرفتاری کا وارنٹ نکالا گیا ، لیکن وہ روپوش ہو گئیں ، ان پر آٹھ ہزار روپے کا انعام رکھا گیا لیکن کسی نے ان کا پتہ نہ بتایا ، آخر کار 1946ء میں حکومت کو گرفتاری وارنٹ واپس لینا پڑا ۔
غرض 1857ء سے 1947ء تک کے عہد میں بےشمار خواتین نے ہندوستان کو آزاد کرانے کے لیے جد وجہد کی اور مردوں کے شانہ بہ شانہ چلتے ہوئے ملک کو 15 اگست 1947ء کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلائی ۔