دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے دفتر مدرسہ زینت القرآن میں یومِ آزادی کی تقریب کے موقع پر پرچم کشائی کا انعقاد

  • جمعیۃ علماء ھند کا ذکر کئے بغیر آزادئ ھند کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی- مولانا جمیل اختر قاسمی

نئی دہلی(محمد طیب رضا)

جمعیۃ علماء ہند (ضلع شمال مشرقی) دہلی کے دفتر مدرسہ زینت القرآن میں یومِ آزادی کی تقریب کے موقع پر پرچم کشائی کےدوران جناب الحاج محمد سلیم رحمانی ( صدر جمعیۃ علماء ضلع ) نے کہا کہ مو جودہ وقت کی اہم ضرورتوں میں سے ایک ضرورت یہ بھی ہےکہ ہم اپنے مجاہدینِ آزادی کو یاد کریں اور ان کے کردار کو عوام کے سامنے اجاگر کریں ۔

مولانا جمیل اختر قاسمی ( ناظم جمعیتہ علماء ضلع ) نے کہا کہ جمعیتہ علماء ھند نے ملک کی آزادی میں جو نمایاں کردار ادا کیا ہے اس کا ذکر کئے بغیر آزادئ ھند کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ۔

مفتی محمد گلزار دہلوی ( نائب صدر ضلع ) نے فرمایا کہ آزادئ وطن کی جنگ ہم نے اس وقت لڑی جب قوم کو شعور بھی نہیں تھا ، آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مجاہدین آزادی کی دکھائ ہوئ راہ پر چل کر وطن عزیز کی تعمیر میں نمایاں کردار اداکریں ۔

مفتی سید محمد اسلم قاسمی (خازن ضلع ) نے کہا کہ ملک کے تحفظ وترقی کے لئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہئے یہی آزادی کا مشن اور پیغام ہے ۔

قاری فضل الرحمن ( نائب صدر ضلع ) نے کہا کہ اس ملک کی آزادی کے لئے ہندو مسلم سکھ عیسائی تمام ہی نے اپنی قربانیاں پیش کی ہیں اسلئے سبھی کو اس ملک میں آزادی کا حق حاصل ہے ۔

مفتی محمد فاروق قاسمی گنگو ہی ( نائب ناظم ضلع ) نے کہا کہ آج مدارس اسلامیہ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہاہے حالانکہ جنگ آزادی میں ان کا اہم کردار رہا ہے ۔

مفتی دلشاد قاسمی ( نائب ناظم ضلع) نے کہا کہ پہلے بھی علماء نے اس ملک کو آزاد کرانے میں اپنا تن من دھن قربان کیا اور آئندہ بھی اگر وطن عزیز پر کوئ آنچ آئیگی تو پہلے سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر علماء کرام ملک کے تحفظ کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دیں گے ۔

مفتی نسیم احمد قاسمی ( صدر جمعیتہ علماء حلقہ منڈو لی ) نے کہا کہ ہمارا ملک 15 اگست 2022 کو اپنے آزادی کا پچھتر واں سال پورا کررہاہے اس موقع پر ہمیں اپنے مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے اور اپنی نسلوں تک مجاہدین آزادی کے کردار کو منتقل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں ۔

علاوہ ازیں مفتی معین الدین قاسمی ، ڈاکٹر محمد راشد ، مولانا محمد زاھد قاسمی ، مولانا محمد اسعد ، قاری محمد عبد اللہ سلیم ، قاری نجم الدین ، قاری محمد اسلم اور مدرسہ کے طلبۂ کرام وغیرہ اس تقریب میں بطورِ خاص موجود رہے ۔