انگریز بھیڑۓ سے خطہ ہے یہ چھڑایا

ازقلم: محمد ریحان ورنگلی

پندرہ اگست کی تاریخ جیسے ہی طلوع ہوتی ہے تو دل و نگاہ میں علماۓ کرام اور مسلمانانِ ہند کی وہ بے مثال اور لازاول قربانیاں گردش کرنے لگتی ہے، ان کی قربانیوں، جد وجہد اور صعوبت و آلام کے واقعات کو نوکِ قلم پر لانے کیلے دفتر بھی اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کررہے ہیں، مگر مختصر لفظوں میں ان کی قربانیوں کو یوں واضح کیا جاسکتا ہے کہ اگر ہندوستان کو غلامی سے آزاد کرانے کیلے ان حضرات کا قائدانہ کردار، جان نثارانہ اور جانبازانہ، عزم و حوصلہ، فکر وتدبر، شبانہ روز کدو کاوش، مخلصانہ جذبہ اور جہد مسلسل نہ ہوتا تو کبھی بھی ہندوستان غلامی کی طوق سے آزاد نہیں ہوسکتا تھا، اور آزادی کے فوائد و ثمرات کا مزہ نہ چکھ سکتا تھا،
چنانچہ اگریزوں کی ناپاک نگاہیں اس ملک کی جانب اٹھیں، اور انھوں نے اپنی شاطرانہ و عیارانہ چالوں سے تجارت و کاروبار کے بہانے سے اس ملک کی طرف توجہ مبذول کی، اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا وجود عمل میں لایا، تجارت کی آڑ میں وہ اپنی فوجی طاقت و قوت بھی رفتہ رفتہ ہندوستان منتقل کرنے لگے، بالآخر وہ بدترین وقت بھی آگیا کہ ہندوستان سے اسلامی اقتدار کا سورج غروب ہوگیا، اور لال قلعہ کی فصیلوں سے ہماری عظمت کا ہلالی پرچم نکال کر یونین جیک لہرایا گیا، یہ وہ وقت تھا کہ انگریز ہماری عظمت و اقتدار کے قلعہ پر اپنی عظمت و اقتدار کا پرچم لہرا رہا تھا، انگریزوں نے عیسائیت کے فروغ کےلے پادریوں کا جال بچھادیا، جس سے مسلمانوں کی جان و مال، زمین و جائداد، اور دین و ایمان کی بقاء خطرے میں پڑگئی تھی، ان احوال وکوائف اور دور رس زہریلے اثرات کو پھانپتے اور تاڑتے ہوۓ ولی وقت، رہبر کامل، شیخ شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے انگریزوں کے تسلط کے بعد ہندوستان کے دار الحرب ہونے کا فتوی صادر فرمایا، اور یہاں کے مسلمانوں پر انگریزوں کے خلاف جہاد کرنے کو فرض قرار دیا تاکہ سرزمین ہند کو انگریزوں کے ناپاک ساۓ سے پاک و صاف کردیا جاۓ؛ حضرت شاہ عبد العزیزؒ کے اس فتوی نے دشمنوں کے نخل تمنا کو ہلاک کر رکھ دیا، اور اس فتوی نے مسلمانوں کے قلب واثر پر اتنا گہرا اثر ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے پہلو میں آزادِ ہند نے انگڑائیاں لینی شروع کی، انگریزوں کی نیندیں حرام ہوگئی، جگہ جگہ آزادی کے شعلے بھڑکنے لگے، اور جگہ جگہ آزادی کے پرچم لہرانے لگے؛
چنانچہ ١١/مئی 1857 ء در حقیقت جنگ آزادی کا نقطہ آغاز ہے، جب انگریز فوج کے سپاہیوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی، اور انگریزی افسانوں پر گولی مار کر دہلی پر قبضہ کرنے چلے، لیکن یہ تحریک کامیاب نہ ہوسکی؛ تحریک کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے انتقامی کاروائیوں کا آغاز کیا، اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو خصوصیت کے ساتھ کچل دیا گیا؛ دہلی کا چاندنی چوک ہی نہیں: بلکہ شہر کے ہر چوراہے پر سولیاں نصب کی گئی، دہلی اور دہلی کے باہر ہر تناور درخت سے پھانسی کے پھندے لٹک رہے تھے؛ جو بھی معزز مسلمان انگریز کے ہاتھ چڑھ گیا تو اسے توپ کے دہانے پر رسیوں سے جکڑ کر باندھ دیا گیا، پہر کیا تھا، بدن کانپ رہے تھے، دل تھررا رہے تھے، زبانیں لرز رہی تھیں، پورے جسم کا گوشت بوٹی بوٹی ہوکر فضا میں اڑجاتا تھا، مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور جد و جہد آزادی سے روکنے کے لے نت نۓ ایجاد کے جارہے تھے؛ جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں؛ اور مزید یہ کہ اس دن کےلے لاکھوں ہندوستانیوں نے قربانیاں دی تھیں؛ جس کےلے تحریکیں چلی تھیں، جس کے لے جیلیں بھر گئی تھیں، جس کے کے ریشمی رومال کی تحریک چلی تھیں، جس کے لے کانگریس بنی تھیں، جس کے کے آزاد ہند فوج بنائی گئی تھیں، چنانچہ1857 کی جنگ آزادی میں شہید ہونے والے علماء: حافظ ضامن شہید ہوۓ، مولانا قاسم نانوتوی اور رشید احمد گنگوہی زخمی ہوۓ، سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل کو بالا کوٹ کی پہاڑی پر ذبح کردیا گیا، مالٹا کی جیل میں حضرت شیخ الہند کی پشت کو گرم سلاخوں سے داغا گیا، مولانا حسین احمد کو جیل کی سزا دی گئی، مولانا عبید اللہ سندھی کو پچیس سال تک جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی،
لیکن افسوس! آج تاریخ سے نابلد لوگ مسلمانوں پر الزام لگارہے ہیں کہ یہ دہش دروہی ہیں، اور محب وطن نہیں ہے، تو سنیۓ! اگر مسلمان محب وطن نہ ہوتا تو سب سے پہلے ہندوستان کی گردن سے غلامی کا طوق اترانے کےلے شاہ عبد العزیز انگریزوں کے خلاف فتوی جاری نہ کرتے، اگر مسلمان محب وطن نہ ہوتا تو فاتح ہند ٹیپو سلطان شہید آخری دم تک میدان جنگ میں لڑتے ہوۓ جاں بحق نہ ہوتا، اگر مسلمان اپنے وطن سے پیار نہ کرتا تو آزادی کے لے بے شمار علماۓ کرام کا لہو پانی کی طرح نہ بہتا ،
میں تاریخ کے ناواقف لوگوں سے کہتا ہوں کہ مسلمانوں کی تاریخ تم ہندوستان کے ذرہ ذرہ سے پوچھو! ہر جانب سے یہ آواز آۓ گی کہ مسلمان ہی سب سے زیادہ محب وطن ہیں،
مگر آہ آج آزادی کو 75 سال ہوگے، لیکن علماۓ کرام کی قربانیوں کو ہم نے پس پشت ڈال دیا، ذرا ان شہداء کی روح سے پوچھو کہ ان پر کیا گزری ہوگی، انہوں نے آزادی کے لے اپنے تن من دھن کی بازی لگادی،؎

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے