پنجاب: ادارہ معین الحق میں منایا گیا یوم آزادی کا جشن

مالیر کوٹلہ، پنجاب 15/ اگست (پریس ریلیز)
ادارہ معین الحق وخانقاہ قادریہ مجددیہ معینیہ نودھرانی مالیر کوٹلہ میں 75 ویں یوم آزادی کا جشن مناتے ہوئے آج ترنگا لہرایا گیا، سب سے پہلے پروگرام کا افتتاح ادارہ کے استاذ قاری محمد جنید کی تلاوت قرآن سے ہوا، اسکے بعد نعت نبی ادارہ کے ہی ایک طالب علم نے گنگنایا، پھر ترنگا لہرانے کی رسم ادارہ اور خانقاہ کے مہتمم اور ناظم حضرت الحاج شاہ صوفی مولانا محفوظ الرحمن صاحب اور مہمان خصوصی مفتی محمد ثاقب قاسمی نے ادا کی، پھر ادارہ کے طلباء نے ترانہ پیش کیا، اسکے بعد ادارہ کے مہتمم نے سب کو آپس میں پیار محبت کے ساتھ رہنے، ملک کو آگے بڑھانے اور ترقی کے لئے کوشش کرنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ پوری انسانیت اللہ کی مخلوق ہے ہم سب کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کا معاملہ کریں، ملک کو ہر قسم کی بد امنی اور شریر کی شرارتوں سے بچائیں۔

اس موقع پر مہمان خصوصی مفتی محمد ثاقب قاسمی نے بیان فرماتے ہوئے کہا کہ بھارت کی آزادی کو 75 سال پورے ہوگئے ہیں، دو سو سال کی مسلسل جد وجہد اور جانفشانی کے بعد ہم پیارے ملک میں آزادی کے ساتھ سانس لے رہے ہیں، یہ آزادی رب کائنات کہ طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے، سب سے پہلے انگریز ہمارے ملک میں تجارت کی غرض سے آئے تھے اسکے بعد انہوں نے اپنی کمزوری اور نااتفاقی سے بھرپور فائدہ اٹھا کر بڑے شاطرانہ اور عیارانہ چال کے ذریعہ ملک پر حکومت کی اور پورا ملک لوٹ کر لے گئے، انہوں نے کہا کہ مجاہدین آزادی اور اکابرین کی طویل قربانیوں اور جدوجہد کے بعد ہندوستان کو آزادی کی دولت نصیب ہوئی تھی، آزادی کی لڑائی میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی تمام مذاہب، علاقہ اور نسل کے لوگوں نے متحد ہوکر شرکت کی جس کے بعد انگریزوں کو بھارت چھوڑنا پڑا، آج بھی بھارت کے تمام مذاہب، نسل ذات اور علاقہ کے لوگوں کے درمیان اسی طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے، اس موقع پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بھارت میں انگریزوں کی آمد، ایسٹ انڈیا کمپنی، برطانیہ کی حکومت اور اس دور میں ہوئے مظالم کی تفصیلات کو جانیں، پڑھیں اور اپنی نئی نسل کو بھی ضرور بتائیں۔

وطن عزیز کی آزادی کے لئے مسلمانوں کا بھی بہت بڑا کردار ہے خاص کر ہمارے اسلاف، قائدین اور علمائے کرام کی بے شمار قربانیوں کے بعد وطن آزاد ہوا، لاکھوں مسلمان اور ہزاروں علماء پھانسی کے پھندے پر لٹکائے گئے، جیلوں میں ڈالے گئے لیکن آزادی کی صف سے پیچھے نہ ہٹے، حالیہ دنوں میں کچھ لوگ اس آزادی کی دولت کو سلب کرنا چاہتے ہیں جس کو برقرار رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

آخر میں صوفی مولانا محفوظ الرحمن صاحب کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا، اس موقع پر مولانا محمد صداقت، مہمان مکرم ماسٹر محمد عمران، محمد طاہر، محمد کبیر، ڈاکٹر محمد لیاقت، محمد عارف، بشیر محمد، ہیپی، ماسٹر ہرجیت، انوار رانا، موہن خان، نعیم خان سمیت گاؤں نودھرانی اور شہر مالیر کوٹلہ کے معزز حضرات نے شرکت کی۔