ہمارے شہیدوں اور رہنماؤں کی قربانی یاد کرتے ہوئے ملک میں شانتی، پیار و محبت اور بھائی چارہ قائم کریں گے

  • سواتانترا اُتسو سمیتی کی جانب سے ویر کوتوال گارڈن سے چیتیہ بھومی تک ریلی

آج 15 اگست کو دوپہر 3 بجے سے ویر کوتوال گارڈن سے چیتیہ بھومی تک ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ ریلی کا انعقاد سواتانترا اُتسو سمیتی کی جانب سے کیا گیا تھا۔اس ریلی میں تقریباً ایک ہزار لوگوں نے شرکت کی۔ اس سميتی کی پروگرام کی شروعات ویر کوتوال گارڈن سے ہوئی،ویر کوتوال جوکہ شہید ویر تھے جو مہابلیشور کے قریب انگریزوں کا مقابلہ کرتے کرتے شہید ہوئے تھے،اور ریلی کا اختتام ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے اسمارک تک رہیتاکہ سب لوگوں کو اُن کی قربانیوں سے حوالے سے یاد کیا جاتا رہے۔
اس کمیٹی میں تمام ہی دھرموں کے لوگوں کو بطورِ ذمّہ دار رکھا گیا ہے۔جماعت اسلامی ہند سے ڈاکٹر سلیم خان، شاکر شیخ، اشرف خان شامل ہیں۔کامگار سنگھٹنا کے جوائنٹ سیکریٹری وشواس اٹگی ،مو لبھوت ادھیکار سنگھرش سمیتی کے ڈاکٹر وویک کورڈے اور بودھ بہوجن سماج کے ذمّے دار، کرسچن سماج کے فادر مسکینو فریزر(پریسٹ سینٹ پیٹر چرچ)،انجمنِ اسلام کے ظہیر قاضی، جسٹس ابھے تھپسے،سنگرام پٹیکر کیدرے اور مزید کچھ لوگ اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔جس طرح دیکھا جا رہا ہے کہ تاریخ سے مخصوص طبقے اور لوگوں کی قربانیوں کو فراموش کیا جاتا رہا ہے لہٰذا کمیٹی نے طے کیا کہ آج آزادی کی 75ویں سالگرہ کے امرت مہوتسو میں ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی،بہوجن،پارسی،جین تمام ہی مذاھب کے لوگوں کو مدعو کرکے تمام مذاھب کے لوگوں کی قربانیوں کو یاد کرکے سمان دیا جائے۔بہت سارے لوگ شہید ہوئے، جیلوں میں گئے، تکالیف کا سامنا کیا،لہٰذا اُنہیں آج اُنکی اُس قربانی کے اعتبار سے یاد کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی طے کیا گیا مختلف پلے کارڈز،تصاویر ، نعروں سے ریلی کو انجام دیا جائے۔ آج جس نفرت اور بانٹنے کی صورتحال کو ملک میں پھیلایا جا رہا ہے۔اس ملک کی زمین سبھی کے خون سے رنگی ہوئی ہے،آزادی میں سب کا حصہ ہے اور سب ہی اس ملک سے محبت کرتے ہیں، سبھی مل کر اُس کے خاتمے کی جہد کریں۔ ملک میں امن وامان قائم رکھنے، ملک کے تحفّظ کو برقرار رکھنے کی یہ سمیتی مسلسل کوشش کرے گی۔
اس ریلی میں جناردن جنگلے ،انجمن اسلام ادارے کے طلباء،کامگار سنگھٹنا کے لوگ، ایڈوکیٹ راکیش راٹھوڑ (بنجارہ سماج)،ڈاکٹر حنیف لکڑوالا بھی اس میں شامل ہوئے۔لوگوں نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور عہد کیا کہ نفرت کو مٹائیں گے،آپس میں پیار و محبت سے لوگوں کے ساتھ پیش آئیں گے اور بھارت کی گنگا جمنی تہذیب جو اوجھل ہوتی نظر آرہی ہے اُسے دور کریں گے اور ملک میں شانتی ، پیار و محبت اور بھائی چارہ قائم کریں گے۔ملک کے وکاس کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔یہی اس ریلی کا مقصد تھا جو بہت ہی پرسکون اور منظم انداز میں ہاتھوں میں ترنگا لہراتے ہوئے اور ملک کے لئے نعرے لگاتے ہوئے اختتام پذیر ہوئی۔