بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملہ: مجرموں کی رہائی کے خلاف جلگاؤں کلکٹر آفس پر احتجاج

  • بی۔جے۔پی۔ سرکار کا فیصلہ انسانیت کو شرمسار اور خواتین کا اپمان ہے: مفتی ہارون ندوی

جلگاؤں(عمران خان) گجرات میں سن 2002 ء ہوئی بلقیس بانو کے اجتماعی عصمت دری اور کنبہ کےسات افراد کا قتل کےمعاملے میں تا عمر جیل کی سزا پائے 11 مجرموں کو ممبئی ہائی کورٹ نے نے سزا سنائی تھی۔گجرات حکومت نے معافی قانون کے تحت 15 اگست کے روز سبھی 11 مجرموں کو جیل سے رہاکردیا۔ان سبھی مجرموں کو معافی قانون پر عمل کرتے ہوۓ رہا کردیا گیا۔اس قانون کے مطابق خواتین پر ظلم زیادتی اور اجتماعی عصمت دری ،قتل کرنے والوں کو معافی کا استعمال کیاجانا مناسب نہیں۔گجرات ریاست اور اسی طرح مرکزی حکومت کے قانون میں ترمیم ہونے کے باوجود مجرموں کو رہا کردیا گیا۔ ایک طرف وزیراعظم نریندر مودی خواتین حقوق ،خواتین کی عزت و احترام ، تین طلاق قانون کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف گجرات میں اجتماعی عصمت دری کرنے والوں کو رہائی دے دی جاتی ہے اگر مرکزی حکومت کو سچ میں عورتوں کے حقوق و تحفظ کی فکر ہے تو وزیراعظم و صدر جمہوریہ ان دونوں صاحبان نے تمام امور پر توجہ دےکر گجرات حکومت کا معافی کاحکم نامہ منسوخ کرکے سبھی 11 مجرموں کو پھر سے جیل میں روانہ کرنا چاہیئے۔اس طرح کا پرزور مطالبہ ضلع کلیکٹر کے ذریعے وزیراعظم و صدر جمہوریہ کو دیئے گئے مکتوب میں جلگاؤں کی مذہبی ، ملی ،سماجی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے پرزو انداز میں کیاگیا ہے۔مذکورہ معاملے میں مطالبہ کے مکتوب کو دیئے جانے کے وفد میں مفتی محمد ہارون ،راشٹروادی کانگریس خواتین سیکریٹری پرتییبھا شرساٹھ ،خواتین تحفظ کمیٹی کی نویدیتا تاٹھے۔مسلم خواتین بورڈ کی نصرت فاطمہ سید ،ضلع منیار برادری ضلع صدر فاروق شیخ ،رضااکیڈمی کے علی انجم رضوی ،راشٹروادی کانگریس اقلیتی شعبہ کے مظہرپٹھان ،منسے کے ضلع صدر ایڈوکیٹ جمیل دیشپانڈے ، یوتھ کانگریس کے ریاستی سیکریٹری مقتدیر دیشمکھ ، شیوسینا کے شہرصدر ذاکر پٹھان ، کل جماعتی کونسل کے صدر سید چاند ایم آئی ایم کے احمد شیخ ،ھیومن رائٹ کے انور خان سقلگر ،شیوسینا کے ارباز خا ن ،میرشکراللہ فاؤنڈیشن کے میرناظم علی ،مجاھد خان ،جاوید خان ،لوک سنگھرش یوتھ مورچہ کے صدر بھرت کرڈیلے وغیرہ نے شامل ہوکر نمائندگی کی۔