بہار کے اسکولوں کی روٹین میں اردو کے لئے گھنٹی متعین نہ کرنا اردو اور طلبہ دونوں کے ساتھ ناانصافی

اردو پیاری اور شیریں زبان ھے ، یہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت ھے ، بہار میں اردو دوسری سرکاری زبان ھے ، دوسری سرکاری زبان ہونے کا تقاضہ ھے کہ ہر سطح پر اس کو پہلی زبان یعنی ہندی کے جیسا حق دیا جائے ، خوشی کی بات ھے کہ حکومت بہار فخر سے اعلان کرتی ھے کہ بہار میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ھے ، اردو بولنے والے لوگ بھی اپنی زبان اور اپنی حکومت پر فخر کرتے ہیں کہ اس نے اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان قرار دیا ھے ، مگر افسوس کی بات ھے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اردو کے ساتھ نا انصافی کی جاری ھے ، اور اس شیریں اور گنگا جمنی تہذیب کی زبان کو اس کے حق سے محروم کیا جارہا ھے ، کئی برسوں سے وہ ادارے کسمپرسی کے شکار ہیں ،جن کے ذریعہ اس زبان کی ترقی ہوتی ، اس زبان سے تعلق رکھنے والے حضرات کی حوصلہ افزائی ھوتی اور اس زبان کی ترقی کے منصوبے بنائے جاتے ، مگر افسوس کے اکثر ادارے بے جان اور حکومت کی بے توجہی کے شکار ہیں ، اردو اکادمی ،اردو مشاورتی کمیٹی گورنمنٹ اردو لائبریری وغیرہ کے حالات کسی سے مخفی نہیں ہیں ، اب تو حد یہ ہوگئی کہ اسکولوں کی روٹین میں بھی اردو کے لئے کوئی گھنٹی نہیں دی جارہی ھے ، جبکہ محکمہ تعلیم اور حکومت بہار کا یہ اعلان ھے کہ ہر اسکول میں اردو کے اساتذہ رہیں گے ، اسکول میں ایک بھی اردو پڑھنے والا طالب علم ہوگا ، تو اردو کے استاذ دیئے جائیں گے ، مگر زمینی حقیقت اس کے بر عکس ھے ، اردو طلبہ اور استاذ کے رہتے ہوئے اب اردو کو روٹین میں شامل نہیں کیا جارہا ھے ، جب اردو کی گھنٹی نہیں ھوگی تو تعلیم کا انتظام کیسے ہوگا ، یہ تو زبان اور طلبہ دونوں کے ساتھ نا انصافی ھے ، خبر کے مطابق ضلع ویشالی اور بیگوسرائے میں ایسی روٹین اسکول میں جاری ھے ،جس میں اردو کے لئے گھنٹی نہیں ھے ، وہاں کے لوگ اردو کو روٹین میں شامل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ، ممکن ھے کہ دوسرے اضلاع میں بھی ایسا ہو ، اسکول کے روٹین میں کسی مضمون شامل نہ کرنا ، روٹین کی بڑی کمی ھے ، ایسی بات کہاں سے پیدا ہوئی ، اعلی ذمہ داروں کو دیکھنے کی ضرورت ھے ، اردو تنظیموں کو بھی اس جانب توجہ کی ضرورت ھے، البتہ جن اضلاع کے اسکولوں کی روٹین میں اردو کے لئے گھنٹی نہیں ھے ، ایسے اضلاع کے لوگ اردو کو روٹین میں شامل کرنے کے لئے ہیڈ ماسٹر ، بلاک ایجوکیشن افسر اور ضلع ایجوکیشن افسر سے مل کر انہیں میمورنڈم دیں اور اردو کو روٹین میں شامل کرنے کا مطالبہ کریں ، اگر وہاں سے مسئلہ حل نہ ہو تو محترم وزیر تعلیم کو میمورنڈم دیا جائے ، اردو تنظیموں اور محبان اردو سے بھی اپیل ھے کہ وہ اس جانب توجہ دیں ،
خوشی کی بات ھے کہ عظیم اتحاد کی حکومت نے پھر نئے حوصلہ کے ساتھ کام کرنا شروع کیا ھے ، توقع ھے کہ حکومت ضرور اردو اور مسلم اقلیت کے مسائل کی جانب توجہ دے گی ، اور لوگوں کے امید پر کھرا اترے گی

(مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی