قرآن مقدس دستور اسلام ہے! جاوید بھارتی

محمدآباد گوہنہ (مئو) 27 اگست
مقامی قصبہ کی مسجد صحابہ میں واقع درسگاہ میں تین بچیوں نے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا قاری محمد ظفر کی نگرانی میں ان بچیوں نے قرآن پڑھا اس خوشی کے موقع پر ایک با وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں سورۃ اخلاص، سورۃ فلق، سورۃ ناس اور سورۃ فاتحہ پڑھایا گیا اس موقع پر معزز شخصیات نے شرکت کی اور تینوں بچیوں کے سرپرست بھی شریک ہوئے ان شخصیتوں میں مشہور قلمکار جاوید اختر بھارتی نے کہا کہ جن بچیوں نے ناظرہ قرآن مجید مکمل کیا وہ بھی خوش نصیب ہیں اور جنہوں نے ان بچیوں کو قرآن پڑھایا وہ بھی خوش نصیب ہیں فرمان نبوی کے مطابق سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن پڑھیں اور پڑھائیں واضح رہے کہ قرآن مقدس دین اسلام کا دستور ہے آئین ہے اور پوری عالم انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہے اور راہ نجات ہے قرآن مجید پوری عالم انسانیت کے لئے راہ ہدایت ہے بےشک توریت, زبور، انجیل بھی آسمانی کتابیں ہیں اسے برحق ماننا ضروری ہے مگر ہاں قرآن کے نازل ہونے کے بعد اب انہیں کتاب الہی و آسمانی کتاب ماننا ضروری ہے لیکن عمل صرف قرآن کریم پر کیا جائے گا کیونکہ قرآن کے آنے کے بعد اس سے پہلے کی ساری کتابیں منسوخ کردی گئی ہیں جاوید بھارتی نے کہا کہ آج غیر قومیں قرآن سے فائدہ حاصل کررہی ہیں سائنس قرآن کے بل بوتے پر ترقی کررہی ہے اور جس نبی پر قرآن نازل ہوا اس نبی کی امت آج قرآن کو نہیں سمجھتی اور تعلیم میں بھی پیچھے ہے جبکہ قرآن کی پہلی آیت نازل ہوئی تو یہی تھی کہ اقرأ یعنی پڑھو اور آج بھی وہ آیت قرآن مقدس میں موجود ہے اب اس کے باوجود بھی قرآن سے دوری ہو اور دینی و عصری تعلیم سے دوری ہو تو یہ بے حیائی نہیں تو اور کیا ہے ساتھ ہی ساتھ تعلیم حاصل نہیں کیا علاوہ ازیں باتوں باتوں میں بار بار یہ کہنا کہ ہم تو جاہل ہیں تو دل پر ہاتھ رکھ کر سوچنے اور غورکرنے کی بات ہے کہ یہ ڈھٹائی نہیں تو اور کیا ہے جاوید بھارتی نے اساتذہ کرام سے کہا کہ بچوں اور بچیوں کے تلفظ پر توجہ مرکوز کریں اور حروف کی ادائیگی پر زور دیں کیونکہ تلفظ صحیح نہ ہونا اور حروف کی ادائیگی نہ ہونا اور اسے نظرانداز کرنا غلط بات ہے یاد رہے کہ حروف کی صحیح ادائیگی نہ ہونے سے معنیٰ و مفہوم میں فرق پڑجاتا ہے اور مطلب بدل جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کو خوب سمجھ سمجھ کر پڑھا اور پڑھایا جائے اور بچوں کو بتایا جائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے
آخر میں دعاکی گئی اور میٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں
اس موقع پر قاری محمد ظفر، محمد فیصل، اظہار احمد، حاجی فضل احمد، حفیظ الرحمٰن، محمد اختر اور مدرسہ کے اساتذہ کرام خصوصیت کے ساتھ موجود رہے۔