مرعوب ہوا دل قاتل سے پھر کس کو ملے انصاف یہاں

مکرمی!
۲۰۰۲ کے گجرات فساد کے بلقیس بانو کیس کے مجرموں کو گجرات سرکار نے رہا کر دیا اور ان خطرناک مجرموں کا شاندار استقبال کیا گیا گویا کہ انہوں نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو ان مجرموں کی رہائی انصاف کے لئے نہیں بلکہ انہیں سزا سے بچانے کی کوشش ہے ان لوگوں کو ہندوستانی عدالتی نظام نے تمام گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر مجرم قرار دیا تھا ان کی رہائی انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ہندوستان کے نظام انصاف پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اس قسم کے فیصلوں سے مجرموں کی ہمّت اور بڑھے گی جرائم اور عصمت دری کے معاملات میں بے انتہا اضافہ ہو جائے گا خواتین خوف و ہراس کے ماحول میں جینے پر مجبور ہوں گی یہ بہت بڑی ناانصافی ہے اس طرح اگر انصاف کا خون ہوگا تو اس ملک میں انسانیت شرافت اور عزت و آبرو کس طرح محفوظ رہیں گی ۔ یہ فیصلہ مسلم دشمنی کا کھلم کھلا ثبوت ہے حکومت اپنے فیصلے کو واپس لے اور مجرموں کو سخت سزا دے۔

ازقلم: ساجد محمود شیخ، میراروڈ