تذکرہ حضرت مولانا ذبیح اللہ قاسمیؒ سفیر دارالعلوم دیوبند

ازقلم: محمد روح الامین میُوربھنجی

28 محرم الحرام 1444ھ بہ مطابق 27 اگست 2022ء بہ روز سنیچر ہم سب کے مشفق و مربی سرزمین دربھنگہ، بہار سے تعلق رکھنے والے تقریباً پچاس سال سے اڈیشہ میں مقیم عالم دین حضرت مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمی، سفیر دار العلوم دیوبند اس دار فانی سے دار بقا کی طرف رحلت فرما گئے۔ نماز جنازہ اسی دن بعد نماز عصر جامعہ مرکز العلوم میں ان کے صاحب زادہ استاذ محترم حضرت مولانا زعیم الاسلام صاحب کی اقتدا میں ادا کی گئی اور ان کے سسرالی قبرستان ”قبرستان صالحین“، گوہالی پور، سونگڑہ میں مدفون ہوئے۔ نماز جنازہ میں تقریباً دو ہزار لوگ شریک تھے، جن میں اکثریت علمائے کرام کی تھی۔

موصوف نہایت متواضع، منکسر المزاج، مخلص، مشفق اور علم و علماء کے قدردان شخصیت کے حامل تھے۔ انھوں نے اڈیشہ کے مختلف علاقوں میں مدرسے قائم کیے اور دار العلوم دیوبند میں ملازمت سے پہلے تقریباً پچیس سال دینی و تدریسی خدمات انجام دیں۔ تقریباً اٹھائیس سال سے دار العلوم دیوبند کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ماشاء اللّٰہ انھوں نے اپنی ساری اولاد کو دنیاوی علوم کے علاوہ دینی علوم کی بھی تعلیم دلائی۔ ان کے تقریباً تمام صاحب زادے مدرسے میں پڑھے ہوئے ہیں۔ بڑے لڑکے درس عالیہ سے پڑھے ہوئے ہیں، بقیہ چھ میں سے پانچ نے درس نظامی سے عالمیت کی تکمیل کی اور قاسمی ہیں اور چھوٹے صاحب زادے بھی دار العلوم دیوبند میں زیر تعلیم ہیں۔

مختصر سوانح
مرحوم سرکاری دستاویز کے مطابق 18 مارچ 1953ء کو سُگرائن، ضلع دربھنگہ، بہار میں پیدا ہوئے؛ مگر مرحوم اپنے بیان کے مطابق سرکاری دستاویز میں درج سن سے دو سال قبل پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ خیر العلوم بردونی، ضلع سمستی پور میں ہوئی، جہاں پر ان کے اساتذہ میں قاضی یوسف قابل ذکر ہیں۔ اس کے بعد متوسط تعلیم مدرسہ بدر العلوم، بیگو سرائے، بہار میں ہوئی، جہاں ان کے اساتذہ مولانا محمد اسماعیل پٹنویؒ تلمیذِ شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا محمد اسحاق پٹنویؒ تھے۔ مولانا اسحاق صاحب نے تو انھیں اپنا متبنی بنا لیا تھا اور اپنے زیر پرستی ان کو اعلی تعلیم دلوائی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند گئے اور 1391ھ بہ مطابق 1971ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ انھوں نے صحیح البخاری فخر المحدثین حضرت مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ سے پڑھی۔ ایک بات قابل ذکر یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد جسیم الدین صاحب قاسمی دربھنگوی، سابق استاذ مدرسہ اشرف العلوم رمضانیہ، کیندرا پاڑہ تینوں مدرسوں یعنی مدرسہ خیر العلوم بردونی، مدرسہ بدر العلوم، بیگو سرائے اور دار العلوم دیوبند میں ان کے ساتھی رہے؛ مگر مولانا مرحوم، مولانا جسیم الدین صاحب سے ایک سال آگے تھے، مولانا مرحوم 1971ء میں فارغ ہوئے اور مولانا جسیم الدین صاحب 1972ء میں فارغ ہوئے۔

فراغت کے بعد 1972ء ہی میں مولانا جسیم الدین صاحب پہلے اڈیشہ میں مدرسہ اسلامیہ دینیہ (ارشد العلوم)، اسریسر، چودہ محلہ، سبلنگ میں مدرس بن کر گئے۔ مولانا مرحوم فراغت کے بعد پہلے نور پور نزد بیگو سرائے کے ایک مدرسہ میں کچھ دن استاد رہے۔ پھر مولانا جسیم الدین صاحب کے اڈیشہ جانے کے بعد تقریباً 1971 یا 1972ء میں حضرت قاری فخر الدین گیاوی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے واسطے سے سونگڑہ، کٹک پہنچے اور جامعہ مرکز العلوم، سونگڑہ میں مدرس ہوئے۔ انھوں نے امیر شریعت اول اڈیشہ مناظر اسلام حضرت مولانا محمد اسماعیل کٹکی اور امیر شریعت ثانی اڈیشہ حضرت مولانا سید سراج الساجدین صاحب کٹکی رحہما اللّٰہ کے زیر سرپرستی اڈیشہ کے مختلف مقامات، جیسے: سونگڑہ، کیندرا پاڑہ، بالو بیسی، سبلنگ، بنجھارپور، برہم بردہ، نیالی، کاکٹ پور، شنکر پور، نیاگڑھ وغیرہ میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔ جن مدارس میں وہ مدرس رہے ان میں مرکز العلوم سونگڑہ، مدینۃ العلوم چار ننگل اور مدرسہ اشرف العلوم رمضانیہ کا علم ہوا۔

مرکز العلوم کے زمانۂ تدریس ہی میں تقریباً 1974ء میں حضرت مولانا محمد اسماعیل کٹکیؒ کے ایماء و اصرار پر حضرت مولانا صوفی سخاوت حسین صاحب نور اللہ مرقدہ، مجاز صحبت حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی چھوٹی صاحب زادی سے نکاح ہوا۔ صوفی سخاوت حسین صاحب کی دو صاحب زادیاں تھیں: ایک مولانا سید شمس تبریز قاسمی کی والدہ اور حافظ سید عبد النافع عرف جمیل میاں (متوفی: 23 جولائی 2017ء) کی اہلیہ تھیں اور چھوٹی صاحب زادی مولانا مرحوم کے نکاح میں آئیں۔

وہ مدرسہ مدینۃ العلوم، چار ننگل، التی، کٹک کے بانی تھے، دو مرتبہ اس مدرسہ کے مہتمم رہے۔ اخیر میں اسی مدرسے میں مہتمم تھے کہ 1995ء کو دار العلوم دیوبند میں رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ کے قیام کے موقع پر پورے ملک سے علماء کا اجتماع بلایا گیا، جس میں مولانا مرحوم بھی اپنے مدرسے کے نظام کو لے کر شریک ہوئے، وہاں مرحوم کے شاگرد رشید حضرت مولانا محمد فاروق صاحب قاسمی، مہتمم مدرسہ اشرف العلوم کیندرا پاڑہ، اڈیشہ و امیر شریعت رابع اڈیشہ کی کاوشوں کے نتیجے میں دار العلوم دیوبند میں سفیر کی حیثیت سے ان کی عارضی تقرری ہو گئی، پھر سابق رکنِ مجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند مناظر اسلام مولانا محمد اسماعیل کٹکیؒ کی سفارش سے ان کا مستقل تقرر عمل میں آیا اور اس وقت سے 2022ء اپنی وفات تک تقریباً اٹھائیس سال وہ مکمل صوبہ اڈیشہ اور بہار و جھارکھنڈ کے بعض علاقوں کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

مولانا مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چھ لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہیں: (1) مولوی محمد خالد سیف اللہ (درس عالیہ سے مولوی، ماہر، عالم)، (2) مولانا محمد اسعد اللہ قاسمی، امام و خطیب جامع مسجد، چاؤلیا، ایئرسما لائن، جگت سنگھ پور، (3) مولانا محمد زعیم الاسلام قاسمی، استاذ حدیث جامعہ مرکز العلوم، سونگڑہ و آفس سکریٹری و رکن مجلسِ عاملہ جمیت علماء اڈیشہ (الف)، (4) اہلیۂ حضرت مولانا سید شمس تبریز صاحب قاسمی، سفیر دار العلوم دیوبند، (5) مولانا محمد اسجد اللّٰہ عرف نبیل قاسمی، سفیر اعزازی دار العلوم دیوبند، (6) مولانا مفتی محمد سبیل الرشاد قاسمی، استاذ عربی مدرسہ قاسم العلوم، شنکر پور، کٹک، (7) اہلیۂ حافظ محمد مدثر صاحب معصوم پوری، سابق استاذ مدرسہ تجوید القرآن عثمانیہ، بارہ بٹیہ، تیرن، جگت سنگھ پور، (8) ایک لڑکی؛ جو کیندرا پاڑہ کے مولانا عارف صاحب کے نکاح میں تھیں، (9) اہلیۂ حافظ شعیب معصوم پوری، مہتمم مکتب نعمت الاسلام، نعمت پور، معصوم پور، (10 و 11) ایک لڑکی، پھر سب سے چھوٹے حافظ و مولوی محمد ولی اللہ عرف عمیر سلمہ، متعلم عربی پنجم دار العلوم دیوبند۔

مرحوم مندرجۂ ذیل مدرسوں کے بانی تھے: (1) مدرسہ مدینۃ العلوم، چار ننگل، التی، (2) مدرسہ مصباح العلوم، بھیلو، شنکر پور، (3) مدرسہ انوار العلوم (موجودہ احمد العلوم)، کاکٹ پور۔

آپ کے مشہور تلامذہ میں یہ حضرات قابل ذکر ہیں: (1) مولانا محمد فاروق صاحب قاسمی، کیندرا پاڑہ، (2) مولانا محمد علی صاحب قاسمی، سات بٹیہ، (3) مفتی اشرف صاحب قاسمی، بالو بیسی، (4) مولانا محمد ابو سفیان صاحب قاسمی، بالو بیسی، (5) مولانا محمد غفران صاحب قاسمی، بالوبیسی۔

نوٹ: بندہ کو سب سے پہلے مولانا مرحوم کے بڑے داماد مولانا سید شمس تبریز قاسمی صاحب سے بہت سی معلومات حاصل ہوئیں، پھر مرحوم کے صاحب زادہ مفتی سبیل الرشاد قاسمی صاحب سے مزید باتوں کا علم ہوا۔ اخیر میں مولانا مرحوم کے بچپن سے لے کر دار العلوم دیوبند تک کے ساتھی حضرت مولانا محمد جسیم الدین صاحب قاسمی سے تفصیلی گفتگو کے بعد ابتدائی، متوسط اور اعلیٰ تعلیم سے متعلق اور اڈیشہ آنے سے متعلق تحقیق ہوئی اور یہ تحریر مکمل ہوئی۔ اللّٰہ ان صاحبان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

اللّٰہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے، لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں بھی مرحوم کی سی دینی خدمات کے لیے قبول فرما لے۔ آمین ثم آمین