ہم پھر کسی طوفان کے انتظار میں ہیں

ازقلم: عمیر محمد خان
مہاراشٹر
رابطہ: 9970306300

انتظار اور فرار کمزور دل اور ناتواں افراد کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے۔ مسلوب الارادہ افراد قوم اور شکستہ حوصلہ خواص و عوام انتظار کے خواہاں اور گریزاں با عمل ہوتے ہیں۔ وہ اہداف سے نہ صرف گر یز کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے کوئی نشان منزل نہیں چھوڑتے ہیں۔ وہ حالات کو موڑنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ وہ منتظر فردا اور comfort zone دائرئے سکون کے متلاشی ہوتے ہیں۔ انتظار کی عادت اچھی علامت ہے مگر بغیر لائحہ عمل اور بغیر منصوبہ بندی کے انتظار بے سود ہوتا ہے ۔ اور فرار تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے ۔
قومیں قربانیوں سے جی اٹھتی ہیں اور اعلیٰ منصوبوں کی بدولت زندہ ہوتی ہیں ۔ ملک میں ابھی موثر ترین وقت ہے بقا اور مستقبل کی پیش بندی کے لئے ۔
قومی نظام کے احیاء اور بہبودی کی طرف قدم اُٹھانے کا بہترین وقت ہے ۔ یہ پر سکون عرصہ ہمارے آنے والے وقت کی زرین تصور کاری کا ہے ۔ ایک عمدہ خواب دیکھ کر اس کی تعمیر کے لئے عمل اور پیش قدمی کی اشد ضرورت ہے ۔ ہمہ جہت میدانوں میں تعمیری کام ملت وقوم کی ترقی کا سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے ۔

           واقعات کی رونمائی اور سیاسی ہلچل مستقبل کی ایک جھلک  دکھاتے ہیں۔ملک میں وقفہ وقفہ سے واقعات کی وقوع پذیری  دو رخ واضح کرتے ہیں۔ایک خوش آئند اور دوسرے  مضطر و پریشان کن  ۔ بلقیس بانو کیس کے مجرمین  اور عدالتی نظام کی   biased proceedings اور  پشت پناہی کی دیدہ دلیری، کچھ سیاسی جماعتوں کی چپکی اور کھوکھلی بیان بازی ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں ۔ دوسری جانب  مذہب و قومی امتیاز سے بالاتر ہوکر عوام کی اولوالعزمی اور انسانیت نوازی  قابلِ ستائش ہے۔  اس پیکر آدمیت کو دیکھ کر  ہماری قومی حمیت  شرما جاتی ہے۔ بلکہ ہمارے معاملات کے سرد ہونے کا  انتظار اور خاموشی سے حالات کا گزر جانے کےلئے فرار کا راستہ اپنانے کا فلسفہ انتہائی بودہ معلوم ہوتا ہے۔آصفہ، نربھیا  اور انکیتا سنگھ کے سانحات  بھی عوام کے حق میں مناسب نہیں ۔ درندگی اور سفاکیت کی  تمام حدیں پار کردی گیں۔ عورتوں کے ساتھ اس قسم کے سلوک کی مذمت کی حدیں بھی پار کی جانی چاہئے تھیں ۔مسلم خواتین کے لئے ہتک آمیز بیانات پر ہمارا علامتی مذمتی بیان و انداز اشرار صفت عناصر کے لئے ان کی  حوصلے پست کرنے  کےلئے مناسب نہیں ۔ دن بہ دن ان کی دیدہ دلیری خطرناک صورت اختیار کر رہی ہے۔ ناموسِ رسالت کے گستاخوں  کی  رذالت اور اوچھا پن ہر مسلم کو ناگوار ہے۔ ہماری جانب سے شدید مذمت کا اظہار کیا جانا چاہئے تھا ۔ اور ایسی سرتابی کے لئے سرکوبی کی جانی چاہئے تھی ۔ ایسے تمام واقعات سے مشتعل نہیں ہونا اچھی بات ہے مگر  اس کے بعد کوئی بڑا اقدام نہ کرنا یقیناً ہماری حمیت و غیرت کے خاتمے کا اعلان ہے۔  ہماری ضعف  ایمانی کی دلیل ہے ۔
            کھانے پینے کی اشیاء اور اشیائے ضروریہ  پر  بڑھتے ہوۓ GST ،  حکومتی محکموں اور اثاثہ جات کی نیلامی اور نجی کاری بحثیت ملک اور قوم کے لئے گھاتک و ضرر رساں ہے ۔  حکومت کے ان اقدامات پر ہمارا رویہ درست نہیں ۔ بحثیت عوام ہم نے پرزور مذمت کرتا چاہیے تھا ۔بلکہ دیگر اقوام سے زیادہ شدت سے کیا جانا چاہئے تھا ۔ مگر اس موضوع پر بھی ہماری وہی قیل و قال کی مجموعی عادت غالب ہے۔ جب ہم یہ قبول کرتے ہوں اور ثابت کرتے ہوں کہ مسلمان معاشی پسماندگی کا شکار ہیں تو ہماری کارگزاریوں کو کیا نام دیا جاسکتا ہے؟  جب مسلمان معاشی پسماندگی کے شکار ہیں تو سب سے زیادہ مہنگائی کی مار تو ہم پر پڑنی چاہئے۔اس لئے ہمارا شدت  احتجاج دوسرے کے مقابلے  کاری ہونا چاہئے تھا۔ موجودہ حالات میں ہم کس  طرح عملی موقف غیر اقوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں ۔ سرکاری درسگاہوں کے خاتمے پر ہمارا ردعمل کسی کے لئے توجہ مبذول کروانے والا نہیں ۔ اور نہ ہی غیر اقوام کو جھنجھوڑ نے اور ہمنوا بنانے والا ہے ۔ جیسے ان معاملات سے ہمارا کوئی سروکار نہیں ۔ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے یہ ضرر رساں نہیں ۔ تمام حقائق واضح ہونے کے باوجود خطرات کی سر کوبی کے لئے کوئی رہنمائی خطوط و مشعل راہ میسر نہیں ۔
              ہماری فطرت عیاں ہوتی ہے کہ حالات سنگین ہوں اور پھر خاموشی سے سب کچھ گزر جائے ۔ہمارا وتیرہ آہ و فغاں اور انتظار ہی رہے گا۔ پھر کسی سیاسی جماعت کی گود میں ہم بیٹھ جائیں گے ۔  افراد قوم کو کسی کے پیچھے دوڑا دیا جائے  گا۔ ایسی ہی ہماری حکمت عملی اور برسوں کا طریقہ کار رہا ہے ۔یہ زندگی کے علامات نہیں بلکہ پھپھوندی جاندار کی خصوصیات ہیں ۔جن کی زندگی دوسروں پر موقوف ہوتی ہے ۔ یہ زندگی جینے کا طرز عمل نہیں بلکہ حیات کو گھسیٹنے کا طریقہ کار ہے ۔۔۔۔!! حیات گزارنے والے تاریخ کو تبدیل نہیں کر پاتے ہیں ۔!!!


              ہم پہلے خاکوں کے تخلیق کار بنیں۔ منصوبوں کے معمار بنیں۔ خوابوں کی تعمیر و تعبیر کرنے والے بنیں۔ بعد ازاں قوم ،ملک اور غیر اقوام کی نظر میں معتبر بننے کی کوشش کریں ۔  جب ہم بلا تعصب و عصبیت ، رنگ و خون کے امتیاز، نسلی تفاخر اور گروہی بے داغی سے آزاد  ہو کر سوچتے ہیں،جب قوم ملک و ملت کی بہتری و آسودگی کا تصور ہم میں جاں گزیں ہوتا ہے تو ہم ملت و غیر اقوام کے محبوب بھی بنتے ہیں ۔  وفاداریاں ثابت کرنے سے نہیں بلکہ۔۔۔۔ عملی اقدامات اور کارگزاریوں سے وفاداریاں  دل سے قبول کی جاتی ہیں ۔ وفاداری کے نعرے ہم کو بلند نہیں بناسکتے ہیں بلکہ بے غرض عمل اور فلاح و بہبودی کے کام ، اور انسانیت نوازی کے اقدامات دلوں کو فتح کرنے کے لئے کارگر ثابت ہوتے ہیں ۔

          تمام حالات و واقعات کے پیش نظر ان سے نبردآزمائی  کےلئے ہمارے پاس کوئی ٹھوس و منضبط اقدامات  نہیں ہیں  ۔ ان کے سدباب کے لئے نہ کوئی راستہ  متعین کیاگیا ہے ۔  آنے والے خطرات سے آگاہی و نمٹنے کے لئے  نہ کوئی پیش رفت  کی گئ ہے ۔  واقعات وقوع پذیر ہونے کے بعد ہم نے اپنا روایتی ردعمل دیا ،ہلکے پہلکے احتجاج درج ہوئے، بیانات کے سلسلے چل نکلے  ،معاملات سرد ہوگئے ۔ پھر وہی انتظار کی کیفیت پیدا ہوگئی ۔ اقدامات سے انحراف و فرار اختیار کیاگیا ۔

procrastination and deviation
کی حکمت عملی ، انحراف و فرار کی راہ ، گمراہ کن طریقہ کار ہے ۔ اس طرزِ عمل سے نہ حفظ ماتقدم کی صورت پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی اختیارات کی حصول یابی کو ممکن بنایا جاسکتا ہے ۔ ابنائے وطن کو عارضی سکون تو مل سکتا ہے مگر مستقل آسودگی و تحفظ نہیں ۔ اور نہ ہی نونہالان ملت کے لئے ایک سازگار ماحول میسر آسکے گا۔۔۔۔۔۔!!
انحراف، انتظار اور فرار افراد اور پوری قوم وملت کے لئے فیض رساں اور نتائج افکار ثابت نہیں ہوتے ہیں ۔ عملی خاکے، سود مند منصوبے ، پیش بند ی کے اقدامات حالیہ صورت حال کو تبدیل کر سکتے ہیں ۔ان تمام کا حصول نئے طرز و طریقِ کار سے ممکن ہے ۔ نظام اور سرگرمیوں میں نئے ڈھنگ ، شعور و بصیرت سے حالات کی کایا پلٹ کی امید ہے ۔ فرسودہ اور آزمودہ طریقہ کار پر کاربند رہنے سے
desired results
ممکنہ نتائج ہم حاصل کرنے سے قاصر ہیں ۔
ہمارا رویہ بھی عجیب ہے کمپیوٹر ، موبائل فون اور گاڑیاں نئے دور اور جدید طرز کی مطلوب ہوتی ہیں اور قوم و ملت کی شیرازہ بندی کے لئے نظام کہنہ اور روایاتِ فرسودہ کے ہم خواہاں ہیں ۔75 سال قدیم آزمائے ہوئے طرز عمل اور طریقہ کار ہمیں بھلے اور سود مند محسوس ہوتے ہیں۔فیصلہ خود کیجئے قومی ترقی کے روڑے کون ہیں۔۔۔؟ ملت کی بہتری کی راہ میں کوہ گراں کون ثابت ہو رہے ہیں۔..؟ طرز کہن پر کون ڈٹے ہیں۔۔۔۔؟ ہمیں رہ گزر کا فیصلہ کرنا ہے نئ شاہراہیں، نئ منزلیں یا کہنہ پگڈنڈیاں اور کہنہ طرزِ عمل ۔۔۔۔۔؟
فلسفہ اقبال کے مطابق ۔۔۔

آئین نو سے ڈرنا ، طرزِ کہن پر اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں