ہیں قوم کے معمار استاد ہمارے

ازقلم: مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

کسی بھی انسان کی علمی ، فکری، ذہنی نشوونما کیلیے اور اس کو صحیح نہج پر برقرار رکھنے کیلئے ایک مربی، اتالیق، رہبر و سرپرست کی ضرورت پڑتی ہے، اس کے بغیر بھٹک جانے کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے،
اور یہ دستور قدرت بھی ہے ، اللہ تعالیٰ نے جب جب بھی کسی قوم پر کتاب اتاری یا صحیفے بھیجے تو ساتھ ہی ساتھ اس کی تعلیم کیلئے اور لوگوں کو اس کے احکام سے باخبر کرنے کیلئے کسی نبی کو ضرور مبعوث فرمایا ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صرف کتاب یا صحیفے نازل فرما دئیے اور کسی نبی کو نہیں بھیجا گیا ، کیوں کہ یہ یقینی بات ہے کہ صرف کتاب کو پڑھ کر کوئی کامل علم والا نہیں ہوسکتا، اگر علم حاصل ہو بھی گیا تو وہ نفع بخش نہیں ہوگا،
خود ہمارے آقا جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا آپ پر قرآن کا نزول ہوا اور پھر آپ بنفس نفیس اس کی تشریح اس کی وضاحت فرما دیتے جو لوگوں کیلئے مشعل راہ ہوتی اگر ایسا ہوتا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو مکہ کے کسی پہاڑ پر اتار دیتا اور لوگوں سے یہ کہ دیا جاتا کہ جاؤ فلاں پہاڑ پر قرآن اتار دیا گیا ہے اس میں فلاں فلاں احکامات ہیں اس کو پڑھ لو تو ظاہر سی بات ہے یہ حربہ کسی بھی طرح سے کار گر ثابت نہیں ہوتا،
اسی لئے زندگی کے ہر موڑ پر ایک مربی ایک استاد کی ضرورت ہے ، استاد ہمارے قوم کے معمار ہیں، قوموں کی روحانی زندگی انہیں سے وابستہ ہے، ہماری نسل نو کی علمی فکری ذہنی نشوونما انہیں اساتذہ سے منسلک ہیں ، نئی نسل کو بنانے سنوارنے میں ان کا جو رول ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ،
اسی لئے کہا جاتا ہے بلکہ یہ حقیقت ہے کہ حصول علم کے راہ میں استادوں کا ان کی عزت و تکریم ، سب سے پہلا زینہ ہے، جس طالب علم نے بھی استاد کی قدر کرلی خود کو ان کی بے ادبی سے بچا لیا وہ یقیناً کامیاب ہوگا ، ہمارے بزرگوں کا اس پر بہت سختی سے عمل رہا ہے بعض نے ان کے کچھ آداب ذکر فرمائے ہیں جو حسب ذیل ہے،
ان سے نیچی آواز میں بات کرنا،
ان کے سامنے ادب سے بیٹھنا،
ان سے زبان نہ لڑانا،
ان کی باتوں کو دھیان لگا کر سننا،
اگر کچھ سوال کرنا ہو تو سلیقے سے کرنا،
ان کی غیبت سے ہمیشہ پرہیز کرنا،
ہمیشہ ان کو دعاؤں میں یاد رکھنا،
اپنے کسی بھی حرکت سے ان کو تکلیف نہ پہنچانا،
اگر وہ کبھی ڈانٹ دیں تو خوشی خوشی ان کو برداشت کر لینا،
استاد چاہیے جیسے بھی ہوں بہر حال ان کی تکریم کرنا واجب و ضروری ہے،
جس طرح طلبہ پر اساتذہ کی ذمہ داریاں ہیں اسی طرح اساتذہ پر بھی طلبہ کی ذمہ داری ہے ایک دوسرے اگر اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرلیں تو مستبقل میں ہمیں ایک انقلابی قوم ملے گی ، اساتذہ سب سے پہلے اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ پر جو ذمہ داری ہے وہ متعدی ہے کیونکہ اگر آپ نے اس کو غلط رخ پر ڈال دیا تو اس کے کرتوتوں کا وبال بھی آپ پر بڑیگا ، آپ ایک نئ اور جاہلیت میں ڈوبی ہوئی قوم کی ذمہ داری کا بار اٹھائے ہوئے ہیں ان کے مستقبل کے آپ ذمہ دار ہیں ان کی زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ اپنی قوم کو کیسی نسل دے رہے ہیں اور کیسے رہبر و رہنما فراہم کررہے ہیں،
آپ آگر استاد ہیں تو سب سے پہلے آپ کے دل میں چھپی ایمان کی چنگاری طلبہ کے مردہ دلوں میں جھلجھلی پیدا کردے، کیوں کہ ایمان کی کمزوری گمراہی کا باعث بنتی ہے اگر چہ علم کی بھرمار ہو،
آپ میں صداقت کی صفت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہو اور آپ کے تکلم سے اس کا اثر طلبہ پر ہو اور کوشش یہ ہو کہ یہ صفت اس میں منتقل ہو، آپ استاد ہیں تو آپ کو حسن اخلاق کے پیکر ہوں کیونکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کہں زیادہ ضروری ہے،
الغرض آپ ایک نسل کو سنوارا رہے ہیں اس کیلیے وہ سب کچھ کرنا ہے جو ان کیلیے ضروری ہے،
اگر آپ اپنی ذمہ داری بحسن خوبی انجام دیتے ہیں تو یقینا آپ ایک انقلابی قوم کو تیار کرہے ہیں اس کا نتیجہ آپ دنیا میں بھی دیکھیں گے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے،