اصل بادشاہ تو استاذ ہی ہوتا ہے

ازقلم: انوارالحق قاسمی
ترجمانازقلم: جمعیت علماء روتہٹ نیپال

یہ جو مشہور ہے کہ استاذ بادشاہ ہوتا نہیں؛ مگر بادشاہ بناتا ہے۔ تو اس سلسلے میں میرا خیال یہ ہے کہ لوگوں کو کچھ سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ کیوں کہ حقیقت یہی ہے کہ اصل بادشاہ استاذ ہی ہوتے ہیں؛ اس لیے کہ استاذ کی حکومت دلوں پر ہوتی ہے، جب کہ بادشاہ کی حکومت فقط جسم پر ہوتی ہے۔
دوسرا فرق یہ ہے کہ استاذ کی محبت اور ان سے عقیدت دائمی ہوتی ہے،جب کہ بادشاہ سے محبت وقتی اور عارضی ہوتی ہے۔تیسرا فرق یہ ہے کہ استاذ کو جو یہ بلند مقام حاصل ہوتاہے،وہ طلبا کو بلند درجات حاصل کرانے کی خاطر،ان کو طلباسے اپنی کوئی غرض منسلک نہیں ہوتی ہے: یعنی عزت و جاہ اور مال و زر کے حصول کا ادنی بھی تصور استاذ کونہیں ہوتاہے،جب کہ بادشاہ کا مطمح نظر ہی عزت و جاہ کی طلب اور حصولِ مال و زر ہوتاہے اور رعایا کو کوئی ترقی ہو یایہ کہ نہ ہو اس سے ان کو کوئی سروکار نہیں ہوتاہے۔
چوتھا فرق یہ ہے کہ جس طرح طلبا کو اپنے استاذ سے دلی محبت ہوتی ہےاسی طرح ،بل کہ اس سے کہیں زیادہ استاذ کو اپنے طلبا سے قلبی لگاو ہوتاہے ،یہی وجہ ہے کہ طلبا کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے،تو اس تکلیف کا اثر فورًا استاذ کو ہوجاتاہے،جب کہ بادشاہ کو رعایا کی تکلیف سے دورتک کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتاہے۔
ان فرقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں بلادو ٹوک یہ کہہ سکتاہوں کہ ” اصل بادشاہ تو استاذ ہی ہوتاہے نہ کہ حکومتی بادشاہ”چاہے دنیا اس کو مانے یا نہ مانے ،اس سے ہمیں کوئی مطلب نہیں۔