کامیاب استاذ وہ ہے جو خود کو طالب علم سمجھے

ازقلم : یاسر عبدالقیوم قاسمی
استاذ مدرسہ جامعہ فرقانیہ سندیلہ ہردوئی

آج کے دن پورے ملک میں یوم اساتذہ منایا جاتا ہے، ضلع کے اسکول وکالج میں بھی اس کا اہتمام ہوتاہے، کہیں شمع روشن کی جاتی ہے تو کہیں فن تدریس میں ماہر پیش رو شخصیات کے مجسوں و تصویروں کی گل پوشی کرکے ان سے عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
جہاں تک اساتذہ کی حیثیت کا تعلق ہے تو اساتذہ شخصیت سازی وکردار سازی اور کسی قوم کی نسل نو کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، انہی کی کاوشوں سے ایک صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔
اسلام میں معلم کا مقام بہت بالا ہے، استاذ کی اس سے بڑھ کر عظمت کیا ہوسکتی ہے کہ قرآن کریم نے معلم المعلمین سیدالانبیاء والمرسلین، منار ہدایت و معمار انسانیت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا بنیادی مقصد تلاوت آیات ،تعلیم کتاب وحکمت اور تزکیہ نفوس کو قرار دیا ، فرمان نبوی ہے انما بعثت معلما میں معلم ہی بناکر بھیجا گیا، اور فرمایا انما بعثت لاتمم مكارم الاخلاق میری بعثت ہی اسی لئے ہوئی کہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کروں۔
استاذ روحانی باپ ہوتاہے، زانوئے تمذ تہہ کرتے ہی یہ رشتہ قائم ہوجاتا ہے، چوتھے خلیفہ راشد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے من علمني حرفا صيرني غلاما ان شاء بيع وان شاء اعتق
جس نے مجھے ایک حرف سکھادیا، اس نے مجھے اپنا غلام بنالیا، خواہ وہ فروخت کرے یا مجھے آزاد کردے، سکندر اعظم کا قول ہے باپ باعث حیات فانی اور استاذ موجب حیات جاودانی ہے ، باپ جسم کا اور استاذ روح کا مربی ہوتا ہے، علمی ارتقاء میں مجاہدے کے ساتھ احترام اساتذہ کا اہم رول ہے، امام ابوحنیفہ رح نے حماد بن سلیمان کے مکان کی طرف کبھی پیر نہیں پھیلائے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں طلبہ ورق آہستہ الٹتےکہ کھڑکھڑاہٹ سے استاد کو تکلیف نہ ہو، امام احمد رح ابراہیم ابن طہمان کے تذکرے پر سیدھے بیٹھ جاتے جبکہ وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوتے۔
لیکن اب زمانے کے ساتھ احترام اساتذہ میں بھی تبدیلی آگئی ، طلبہ کے دلوں میں اساتذہ کا پاس و لحاظ بھی نہ رہا، اب تو طلبہ فراغت کے بعد اپنے اس استاذ کو ہی پہچاننے سے گریزاں ہوجاتے ہیں جس نے جاں گدازی کے ساتھ انگشت طفلی پکڑ کر حرف شناسی سے شعورو آگہی تک کا سفر طے کرایا، فیاللعجب۔
وہیں دوسری طرف کامیاب استاذ وہ ہے جو خود کو طالب علم سمجھے، افادہ واستفادہ کیلئے صلاحیت ومحنت اولین شرط ہے، مولانا ابوالکلام آزاد رح کا قول ہے ، اساتذہ کو ذمہ دار، محنتی اور فرض شناس ہونا چاہئے، استاذ شمع کی طرح ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی فراہم کرتی ہے، ڈاکٹر ذاکر حسین کہتے ہیں اچھا استاذ اخلاق فاضلہ کا حامل اور باکردار ہوتا ہے۔
سابق صدر جمہوریہ ہند اور بھارت رتن اعزاز یافتہ ڈاکٹر رادھا کرشن کے یو م پیدائش 5ستمبر کو ملک بھر میں یوم اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ڈاکٹر رادھا کرشنن نے 40سال استاد کے طور پر گزارے تھے۔1962میں صدر کے عہدہ پر فائض ہو نے کے بعد چند شاگردوں نے ان سے درخواست کی کہ ان کے یوم پیدائش کو یوم اساتذہ کے طور پر منانے کی اجازت دی جائے۔ رادھا کرشنن نے منظوری دے دی جس کے بعد پورے ملک میں 5ستمبر یوم اساتذہ کے طور پر منایا جانے لگا ۔ آئیے آج یوم اساتذہ کے موقع پر عہد کریں کہ ہرممکن ہم اپنے اساتذہ کو راحت پہنچائیں گے، ان کی خدمت کریں گے ، ان کاادب و احترام کریں گے، کہ
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرينوں میں۔