یومِ اساتذہ کے موقع پر مدینۃ العلوم میں پروگرام کا انعقاد

رسولی،بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری)یوم اساتذہ ہمارے ملک بھارت میں 5/ ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ یقیناً ہمارے معاشرے کے لئے بڑے فخر و افتخار کی بات ہے۔ کہ ہمارے یہاں اپنے محسنوں اور بزرگوں کے تئیں عزت و احترام کے جذبات ابھی بھی زندہ ہیں۔ ہمارے ملک میں یوم اساتذہ 5 سمبر کو سروپلی رادھا کرشنن کی یوم پیدائش کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش 5 ستمبر 1888ء اور وفات 17 اپریل 1975ء کو ہوئی۔ وہ ایک کامیاب ہندوستانی سیاست دان ، ماہر و باکمال فلسفی اور آزاد ہندوستان کے دوسری صدر جمہوریہ تھے۔ اسی نسبت پر آج ضلع بارہ بنکی کے قدیم مدرسہ جامعہ مدینۃ العلوم قصبہ رسولی میں یوم اساتذہ منایا گیا۔ اور سروپلی رادھا کرشنن کو یاد کرکے تمام اساتذہ کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ جس میں سروپلی رادھا کرشنن کی زندگی کے بارے طلبہ کو معلومات فراہم کی گئیں۔
اس موقع پر مدرسہ کے مہتمم حافظ ایاز احمد مدینی نے کہا کہ یوم اساتذہ منانے کا اہم اور بنیادی مقصد سماج میں اساتذہ اور محسنین کے عظیم الشان کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ اساتذہ کسی بھی قوم و ملت کا وہ عظیم سرمایہ ہیں جو ہرمشکل ، ہر آفت ، اورکٹھن سے کٹھن گھڑی میں نسل نو کو سنوارنے اور انہیں نکھارنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔ ملک و ملت کا روشن مستقبل انہیں اساتذہ کے ہاتھوں پروان چڑھ کر ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے۔
سروپلی رادھاکرشنن مدراس کے ایک تیلگو برہمن خانوادے میں پیدا ہوئے۔ یہ گاؤں صوبہ آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کی سرحد پرموجود ہے۔ ان کے والد ماجد کا نام سروپلی ویرا سوامی اور والدہ محترمہ کا نام سیتاما تھا۔ ان کی ابتدائی زندگی کے پل تروتنی اور تروپتی میں گزرے۔ ان کی ابتدائی تعلیم تروتانی کے بورڈ ہائی اسکول میں ہوئی۔ وہ فلسفہ کے طالب علم تھے۔ ان والد بھی فلسفہ کے طالب علم رہ چکے تھے۔ ان کے والد نے اپنی کتابیں ان کے حوالے کر دیں تھیں۔ ایہیں سے انہوں نے پڑھنے کا منصوبہ تیار کیا۔ اور پھر وہ ایک عظیم استاد بنے۔
انہوں نے اپنی عمر کے چالیس سال تعلیم و تعلم کے میدان میں صرف کردئے تھے۔ اس درمیان انھیں یہ محسوس ہوا تھا کہ اساتذہ طرح طرح کے مسائل کے درمیان محصور ہونے کے باوجود بھی صبرو استقلال کے ساتھ اپنی محنت سے طالب علموں کی شخصیات کو نکھارنے اور ان کے اندر ہنر پیدا کرنے میں ہمہ تن لگے رہتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ صدر جمہوریہ کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد جب ان کے شاگردوں نے ان کی یوم پیدائش منانے کے لئے ان سے اجازت طلب کی تو انھوں نے ان سے اس کی جگہ "یوم اساتذہ” مناکر استاذوں کی عزت و احترام کے لئے کہا۔ یہ ان کی کسرِنفسی کی بہترین مثال ہے۔
اس موقع پر مدرسہ کے مینیجر اور طلبہ نے اساتذۂ کرام کو تحائف دیکر ان سے دعاؤں کی درخواست کی۔ پروگرام میں مدرسہ کے تمام اساتذہ موجود رہے۔ جن میں سے مولانا محمد ارشد قاسمی ، مولانا محمد جواد قاسمی ، ماسٹرمعزالدین عثمانی ، مولانا محمد طارق ، ماسٹرمحمدشبیر ، مولانا اخلاق ندوی ، مولانا حیات قاسمی اور قاری ابوذر کی موجودگی قابل ذکر ہے۔