امید اور عمل۔۔۔۔

ازقلم: زین العابدین ندوی
مقیم حال لکھنؤ

پیر کا آپریشن ہونے کے سبب پچھلے بیس بائیس دنوں سے ایک کمرے میں قیدی کی طرح زندگی گزر رہی ہے، کہیں آنا جانا دشوار ہے اس کا اثر یہ رہا کہ کچھ لکھنے کی ہمت بھی نہ ہو سکی، اللہ کا بہت احسان اور اس کا بے انتہا کرم ہے کہ وہ اسی بہانے ہی سہی ہم گنہگاروں کے گناہ کچھ کم کرنے کے انتظام کر دیا کرتا ہے، وہ اللہ ہے اس کی مصلحت انسانی ذہن سمجھنے سے عاجز و بے بس ہے، بیماریوں میں انسان کو اپنی بے بسی و بے چارگی کا خوب احساس ہوتا ہے، وہ زندہ رہتے ہوئے بھی مردوں کی طرح اس لائق نہیں بچتا کہ اپنی ضروریات خود پوری کر سکے، وہ ایک زندہ لاش کی مانند بستر علالت پر پڑے ہوئے دوسروں کے رحم وکرم کا محتاج بن جاتا ہے، لیکن اس سے آئندہ زندگی کے لئے ایک ایسا سبق ملتا ہے کہ وہ انسان کو انسان بنا دے اگر وہ کچھ عقل و خرد رکھتا ہو۔

اگر جا ئزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی زندگی دو چیزوں کے گرد وپیش گردش کرتی رہتی ہے ایک تو ہے اس کا عمل جبکہ دوسری شئی اس عمل کے نتیجہ سے نکلنے والی امید اور ثمر ہوتا ہے، کوئی بھی کام بلا امید اور بغیر نتیجہ کے نہیں کیا جاتا، عمل اچھا ہو یا برا نتائج نیک ہوں یا بد یہ اپنی جگہ لیکن یہ صداقت ہے کہ بلا امید و نتیجہ نہیں کیا جاتا، اس کے بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی دن رات محنت ومشقت کرتا ہے رات دن ایک کئے ہوئے ہے اس کے پاس سارے وسائل حیات بھی موجود ہیں اسباب زندگی کی کہیں کوئی کمی نہیں اس کے باوجود بھی اس کی زندگی میں ایک عجیب قسم کی بے سکونی اور اضطراب ہے وہ ہر وقت بے چین وبے قرار رہتا ہے نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی کیفیت بنی رہتی ہے، اسباب عیش و آرام کی فراہمی کے باوجود آرام وراحت سے اس کی زندگی یکسر خالی ہے، آخر کیوں؟ سوچئے غور کیجئے کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ شاید اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ جو بھی عمل کرتا ہے اسے اس چیز کا بالکل لحاظ نہیں رہتا کہ خالق کائنات کی اس سلسلہ میں کیا رہنمائی ہے، وہ عمل برائے عمل کرتا نہ کہ برائے رضائے الہی، اس کا عمل برائے کسب مال واسباب ہوتاہے اس کی رعایت کئے بغیر کہ یہ حلال بھی ہے نہیں، اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہے بھی یا نہیں، اور ان کی امیدیں بھی اس عارضی چکاچوند دنیا سے آگے نہیں بڑھتی،آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کیا ایرانی تورانی کہہ رہا ہوں، میں پورے ہوش و حواس میں یہ رقم کر رہا ہوں کہ آپ ایسے افراد کے ظاہری رکھ رکھاو سے دھوکہ نہ کھائیے کیونکہ ہر چمکتی شئی سونا نہیں ہوتی، ان کے اندرون خانہ دل میں ایسی تاریکی اور خوفناک ظلمت ہوتی ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے بیان کر پانا بہت مشکل ہے ۔

دوسری طرف ہر زمانہ میں انسانوں کا ایک طبقہ وہ بھی رہا ہے جہاں زندگی کے گزر بسر کا ضروری سامان ہے، عمل میں کوئی کمی نہیں ہے، عمل بھی بھر پور ہے امیدیں بھی وابستہ ہیں لیکن عمل محض برائے کسب مال و منال نہیں بلکہ اس کی رعایت بھی ہے کہ اس سلسلہ میں مالک کائنات کا حکم اور اس کی منشاء کیا ہے، خالق کائنات کی منشاء کے خلاف ان کے قدم نہیں بڑھتے پھر چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جائے، عہدہ و منصب سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھونا پڑ جائے، اس پاکیزہ عمل کے نتیجہ میں ان کی امیدیں بھی پاکیزہ ہوتی ہیں جو اس مادی دنیا اور اس کے عارضی منافع سے بہت بلند وبالا ہوتی ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خالی ہاتھ رہ کر بھی سب کچھ پائے ہوئے ہوتے ہیں، بہت زیادہ اسباب و وسائل حیات کے بغیر بھی وہ خوش رہتے ہیں ان کے اندر پائی جانے والی مسرت بخش نورانی کیفیت کو لفظوں کے سہارے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔

خلاصہ تحریر یہ کہ ہم اپنے عمل کی سمت اور اس کا قبلہ درست کریں، اس کارگاہ آب و گل میں جو کچھ بھی کریں بس اتنا خیال رہے کہ خالق کائنات کا اس سلسلہ میں کیا فرمان ہے موافق فرمان الہی ہے پھر کوئی کچھ بھی کہے کہتا رہے اور اگر مخالف ہے وہیں رک جائے، اور پھر عمل کے نتیجہ میں امیدوں کا دامن اس مادی دنیا تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس سے کئی ہزار گنا بڑھ کر اس جگہ سے وابستہ کی جائے جس کی بخشش کا ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا جو خلود کی زندگی ہے جہاں فنا کا کوئی تصور ہی نہیں۔۔۔۔۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔ آمین