ایک دن دیوبند میں

آج محرم کی 26 اور اگست کی 25 تاریخ ہے جبکہ دن ہے جمعرات کا۔ مولانا اسلام صاحب قاسمی اللہ انہیں مکمل صحت وتندرستی عطاء کرے دیوبند کا یہ سفر بنیادی طور پر مولانا موصوف سے ملاقات اور عیادت کی غرض سے ھوا ، مولانا اسلام صاحب قاسمی مدظلہ العالی جھارکھنڈ کے ضلع جامتاڑا کے راجا بھٹا (بھ کے زیر اور ٹ کی تشدید کے ساتھ ) گاؤں کے رہنے والے ہیں ، دارالعلوم دیوبند وقف کے سینیر و مقبول استادہیں ، نصف صدی سے دیوبند میں ہیں ، ایک زمانہ سے حدیث کی اونچی کتابیں بڑھا رھے ہیں ، مولانا اردو ہی کی طرح عربی میں بھی لکھنے پر قدرت رکھتے ہیں ،چنانچہ دونوں زبانوں میں انکی متعدد تصنیفات ہیں، کچھ دنوں تک الثقافۃ الاسلامیہ کے نام سے ایک عربی پرچہ بھی دیوبند سے نکالا ، مولانا اچھے کاتب بھی ھیں، اس زمانہ کے کاتب ہیں جب کاتبوں کی اہمیت مصنف سے کم نہیں تھی حدیث کے ساتھ ادب عربی کے درجات تخصص وفضیلت میں بھی مولانا کے گھنٹے ہیں ، مولانا کے جاننے اور انہیں دیکھنے والے جانتے ہیں کہ انکی صحت قابل رشک تھی ، لیکن تقریبا آج سے چارسال پہلے ان پر فالج کا حملہ ھوا ، جسم بھی متأثر ھوا اور آواز بھی لیکن علاج سے فائدہ ھوا یہانتک کہ پڑھانا شروع کردیا، ان سے محبت کرنے والوں کو لگا کہ مولانا بہت جلد پہلے کی طرح ھوجائینگے ، ابھی گزشتہ رمضان سے پہلے وطن تشریف لائے چھٹی ختم ہونے کے بعد شوال میں دیوبند لوٹ گئے کہ تعلیم شروع ھوگی لیکن ایک ہفتہ گزرا تھا کہ دوبارہ پھر فالج کا حملہ ھوگیا اور یہ حملہ پھلے حملہ سے زیادہ سخت تھا ، بایاں سائڈ اتنا متأثر ھوا کہ بایاں ہاتھ بالکل حرکت نہیں کر رہا ھے جبکہ بائیں پیر میں معمولی حرکت ھے ، اس حملہ سے اواز بھی بہت متأثر ھوئی لیکن اللہ کا شکر ھیکہ کچھ ہی دنوں میں بہتری آگئی ،
مولانا مدظلہ کا دیوبند میں اپنا ذ اتی مکان ھے ، ایک صاحبزادے بدرالاسلام قاسمی سلمہ اللہ ساتھ میں رہتے ہیں جبکہ ایک صاحبزادے بنگلور میں رہتے ہیں ،
علاج اور ریکھ دیکھ کی کوئی کمی نہیں ھے ، تما م احباب سے درخواست ھیکہ مولانا کی صحت وتندرستی کیلئے دعاء کریں کہ شفایاب ھوکر پہلے کی طرح تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف کے کاموں کو انجام دینے لگیں ،
دیوبند کے مہمان خانہ میں قیام رھا ، مہمان خانہ کا نظم قابل ستائش ھے ، اسکا سلیقہ مند اورمہذب اسٹاف مہمانوں کی خدمت کیلئے مستعد رہتا ھے ،
ضرورت کی دکانوں ، ھوٹلوں اور چائے خانوں کی کثرت سے پورا قصبہ باز ار میں تبدیل ھوگیا ھے، اور ساری دکانیں خوب چلتی بھی ہیں ، مکتبوں کی کثرت تو پھلے ہی سے تھی اب مزید نئے نئے مکتبے کھل گئے ہیں ، ایک بالکل انوکھے انداز کا ایک مکتبہ شروع ھوا ھے ، کتب کھانا ، آپ چونکئے نہیں ،،کھانا ،،، بالکل درست ھے درا اصل یہ ایک ایسا ریسٹورینٹ ھے جہاں ایک فلور میں لائبریری بھی ھے جسمیں مشہور موضوعات پر منتخب کتابیں موجود ہیں ، سیرت پر اردو کی تمام مشہور کتابیں میں نے دیکھیں ، ضیافت دہن کے ذوق مطالعہ کی تسکین کا پورا انتظام ،
صرف دیوبند کے مدارس میں پڑھنے والے طلبہ کی تعداد دس بارہ ھزار سے کم نہیں ھوگی ، قرب وجوار میں بھی مدرسے بہت ہیں ، تنہا دارالعلوم میں چار پانچ ھزار سے کم طلبہ نہیں ھونگے ، وقف میں بھی تعداد خاصی ھے ،
د ارالحدیث اور لائبریری کی نئی عالی شان بلڈنگ کی تکمیل کا کام چل رھا ھے ، اسکی ایک منزل تقریبا چالیس ھزار اسکوائر فٹ ھے ، اسی بلڈنگ پر حکومت کو اعتراض ھیکہ بنانقشہ پاس کروائے اسکی تعمیر ھوئی ھے ، مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی سے ھم نے معلوم کیا کہ کیا حکومت کا اعتراض ختم ھوگیا تو بتایا نہیں ، ابھی تک قانونی دشو اری برقرار ھے ، اللہ مدارس کی حفاظت فرمائے ،
دیوبند میں میرے دو نواسے ہیں اسامہ اور عبادہ ، اسامہ دوسال پھلے فارغ ھوئے اور ابھی عفاف انگلش کوچنگ سینٹر کے نام سے ایک سیںٹر شروع کیا ھے ، جبکہ عبادہ ابھی زیر تعلیم ہیں ، جب تک دیوبند میں قیام رھا دونوں بھائی لگے رھے ، مولانا حسن مدنی بن مولانا اسجد مدنی بن مولانا حسین احمد مدنی رح نے پرتکلف عشائیہ پر مدعو کرکے اکرام ضیف کا عملی نمونہ پیش کیا ، محترم مولانا ضیاء الدین صاحب کے شاگرد رشید سعدان سلمہ متعلم دارالعلوم دیوبند کی نظر پڑگئ تو دوڑ کر آکر ملے ، بعد میں مہمان خانہ بھی آئے اور دیر تک ساتھ رھے ، دیوبند میں ایک روز قیام رھا ، وہاں سے دہلی اور دھلی سے بذریعہ ٹرین ٢٩ اگست کو وطن دھنباد واپسی ہوئی , آئبون تائبون ،،

ازقلم: آفتاب ندوی، دھنباد جھارکھنڈ