عدالت کے دروازے بند

ازقلم: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

چیف جسٹس یو للت کی سر براہی میں جسٹس رویندر بھٹ اور جسٹس جے پی پار ڈی والا کی ایک بینچ نے بابری مسجد اور گجرات فسادات سے متعلق تمام گیارہ(۱۱) مقدمات کی فائلیں بند کر دینے کا حکم دیا ہے، ان مقدمات پر اب کوئی سماعت نہیں ہوگی، بابری مسجد انہدام کے موقع سے تو ہین عدالت کے مقدمات ہوئے تھے، اسے بھی بند کر دیا گیا ہے ، احسان جعفری قتل کیس میں ذکیہ جعفری حکومت سے مقدمات ہارتی اور اپیل کرتی رہی تھیں، اب اس کی بھی سماعت نہیں ہو سکے گی عدالت کے جج حضرات کی رائے تھی کہ ان مقدمات کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے، مرور ایام کے ساتھ یہ مقدمات لائق سماعت نہیں رہے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ جو ہو گیا وہ ہو گیا، عربی میں اسے مضی ما مضی کہتے ہیں ، یعنی کل پر خاک ڈالیے اور بھول جائیے جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا، ماضی کی پریشان کن یادوں کو بھول جانا آسان نہیں ہوتا، اگر ہو بھی جائے تو انصاف کے تقاضے شاید پورے نہ ہوں۔
اسی طرح کر ناٹک ہائی کورٹ نے ہبلی کی عیدگاہ میں گنیش چتھرتھی کی پوجا کرنے کی اجازت دیدی ہے، عدالت کی نظر میں یہ معاملہ اس قدر اہم تھا کہ رات کے ساڑھے بارہ بجے خصوصی عدالت بلا کر یہ فیصلہ سنایا گیا، کوشش تو بنگلور عیدگاہ میں بھی پوجا کے لیے کی جا رہی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے اس کی منظوری نہیں دی ، عدالت کی نظر میں یہ غیر مناسب عمل ہے، لیکن کرناٹک ہائی کورٹ کو کس طرح یہ مناسب لگا کہ اس نے اس کی اجازت دے دی ۔
اس قسم کے فیصلے یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کو یہاں دوسرے درجے کا شہری مانا جاتا ہے اور دستور میں دیے گیے حقوق تک کی ان دیکھی کرکے فیصلے سامنے آ رہے ہیں، اس سے مسلمانوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے، یہ غم وغصہ جب احتجاج کے طور پر سامنے آتا ہے تو پولیس ایکشن کے لیے تیار ہوتی ہے اور کئی لوگ موت کی نیند سلا دیے جاتے ہیں ، یہ ہے ہمارا آزاد بھارت، جس کی آزادی کا امرت مہوتسو ہم پورے جوش وخروش کے ساتھ منا رہے ہیں۔