ماہ صفرالمظفر

تحریر: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

ماہ صفر اسلامی توقیت (کلنڈر) کا دوسرا مہینہ ہے ، اس مہینہ کے بارے میں اسلامی علوم سے دور مسلمانوں کے درمیان بہت سی غلط باتیں رائج ہیں، جن میں سے بعض کا تعلق بد گمانی اور بعض کا بد شگونی سے ہے ، اسلام سے قبل اس مہینہ کو منحوس سمجھا جاتا تھا ، کیوں کہ اشہر حرم (رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم) کے بعد یہ پہلا مہینہ تھا ، جس میں عرب اپنے کو جنگ وقتال کے لیے آزاد سمجھتے تھے، اس مہینہ سے لوٹ مار، شب خون اور قتل وغارت گری کی گرم بازاری شروع ہوجاتی تھی ، اسلام نے اس مہینہ کے بارے میں بد فالی ، توہمات اور بد شگونی کو ختم کیا اور اس مہینے کے نام میں ہی ’’المظفر‘‘ کا لفظ جوڑ کر اسے صفر المظفر قرار دیا ، اسے صفر الخیر بھی کہتے ہیں یعنی بھلائی اور کامیابی کا مہینہ ، صاحب لسان العرب نے اس مہینہ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں یہ بات بھی لکھی ہے کہ چونکہ اشہر حرم کے گذرنے کے بعد عرب کثرت سے اس ماہ میں سفر کرتے تھے اور گھر کا گھر خالی ہوجاتا تھا اس لیے اسے صفر (خالی) کہا کرتے تھے، عربی میں ایک محاورۃ ’’صفر المکان‘‘ یعنی گھر کے خالی ہونے کا بھی ہے ، لیکن ہندوستانی مسلمانوں کا معاملہ بالکل الٹا ہے ، عرب والے سفر کرتے تھے اور یہاں کے لوگ اس مہینہ میں سفر سے گریز کرتے ہیں، اسی طرح دوکان ومکان وغیرہ کا افتتاح نہیں کرتے، ان کے نزدیک یہ مہینہ صِفر ہے یعنی اس میں نفع کا کوئی کام نہیں کیا جا سکتا ، اس مہینہ کا عوامی اور دیہاتی نام ترتیزی بھی ہے ، یہ نام تیرہ تاریخ کی مناسبت سے ہے ، جس دن توہمات اور رسومات کے شکار لوگ اس مہینہ کی فرضی نحوست سے بچنے کے لیے صدقہ وخیرات کی کثرت کرتے ہیں۔
اسی مہینہ کے آخری چہار شنبہ کو بعض لوگوں نے تہوار کا درجہ دے دیا ہے ، اس دن خوشیاں مناتے ہیں، مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور سیر وتفریح کے لیے نکلتے ہیں، اس سلسلے میں ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن بیماری کے بعد غسل صحت کیا تھا۔
ظاہر ہے اسلام میں توہمات بدشگونی اور بد فالی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ، یقینا بعض ماہ کی فضیلت قرآن واحادیث سے ثابت ہے ، بعض ایام واوقات کی اہمیت بھی قرآن واحادیث میں بیان کی گئی ہے ، لیکن کسی دن، ماہ اور اوقات کے بارے میں منحوس ہونے کا ذکر کہیں نہیں ملتا، اس لیے جو لوگ بھی اس قسم کی رائے رکھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں، اور رہی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن غسل صحت کیا تھا ، سراسر غلط ہے ، تاریخ وسیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن بیمار پڑے تھے ، اس سال آخری چہار شنبہ ۲۸؍ صفر کو پڑا تھا ، اس دن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بیمار پڑے تو چودہ روز بیمار رہ کر دنیا سے پردہ فر ماگیے، امت نے رحمۃللعالمین کی جدائی کا صدمہ برداشت کیا، اس لیے آخری چہار شنبہ کو مسلمانوں کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں ہے ، یہ تو کفار ومشرکین ، یہود ونصاریٰ کے لیے خوشی کا باعث تھا ، پتہ نہیں یہ بات مسلمانوں کے درمیان کس طرح رواج پا گئی ۔
اس لیے اس ماہ میں رائج توہمات سے مسلمانوں کو محفوظ رہنا چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کسی چیز کو منحوس خیال کرنا شرک ہے ، بخاری شریف کی روایت ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ، اُلو کی نحوست اور روح کی پکار کوئی چیز نہیں ہے ، اور صفر میں نحوست نہیں ہے ، اس قسم کی روایتیں ابو داؤد شریف اور مسند احمدمیں بھی ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں بد فالی سے پر ہیز کرنا چاہیے اور ماہ صفر کو منحوس سمجھنے سے باز آنا چاہیے ، لوگوں کا کیا ہے؟ بعضے تو جمعہ کے دن تک کومنحوس لکھ ڈالتے ہیں، بعض جنتریوں میں ایسا دیکھنے کو ملتا ہے ، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سارے کام اللہ کی مرضی کے تابع ہیں، ہم نے ایک کام شروع کیا اس میں فائدہ نہیں ہوا تو اپنی کمی وکوتاہی کے تجزیہ کے بجائے یہ کہہ کر اطمینان کی سانس لیتے ہیں کہ یہ دن یا مہینہ ہمیں راس نہیں آیا اور اگر یہ ناکامی صفر کے مہینے میں ملی تو اس ناکامی کا سہرا صفر کے سر منڈھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ مہینہ تو منحوس ہے ہی ، اس کی وجہ سے تقدیر پر بھی ہمارا ایمان کمزور ہوتا ہے، اللہ کی رضا سے ہماری توجہ ہٹ جاتی ہے، ایسا عقیدہ رکھ کر ہم اپنے کو گناہ میں بھی مبتلا کر لیتے ہیں، اس لیے یقین رکھیے کہ سارے مہینے اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اور کوئی مہینہ منحوس نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مرضیات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور غیر اسلامی فکر اور رسومات سے بچالے۔ آمین