تربیت کا تعلق کس چیز سے؟

سنیما کی تاریخ کا سب سے بڑا مزاحیہ اداکار چارلی چیپلن اپنا ایک واقعہ بیان کرتا ہے:

بچپن میں ایک بار میں اپنے والد کے ساتھ سرکس کا شو دیکھنے گیا، ہم لوگ سرکس کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ ہم سے آگے ایک فیملی تھی،جس میں چھ بچے اور ان کے والدین تھے، یہ لوگ دیکھنے میں خستہ حال تھے، ان کے بدن پر پرانے،مگر صاف ستھرے کپڑے تھے، بچے بہت خوش تھے اور سرکس کے بارے میں باتیں کر رہے تھے، جب ان کا نمبر آیا،تو ان کا باپ ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھا اور ٹکٹ کے دام پوچھے، جب ٹکٹ بیچنے والے نے اسے ٹکٹ کے دام بتائے،تو وہ ہکلاتے ہوئے پیچھے کو مڑا اور اپنی بیوی کے کان میں کچھ کہا،اس کے چہرے سے اضطراب عیاں تھا۔
تبھی میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ انھوں نے اپنی جیب سے بیس ڈالر کا نوٹ نکالا، اسے زمین پر پھینکا، پھر جھک کر اسے اٹھایا اور اس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا:جناب! آپ کے پیسے گر گئے ہیں، لے لیں۔
اشک آلود آنکھوں سے اس شخص نے میرے والد کو دیکھا اور کہا:شکریہ محترم!
جب وہ فیملی اندر داخل ہوگئی، تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑ کر قطار سے باہر کھینچ لیا اور ہم واپس ہوگئے؛کیوں کہ میرے والد کے پاس وہی بیس ڈالر تھے، جو انھوں نے اس شخص کو دے دیے ۔
اس دن سے مجھے اپنے والد پر فخر ہے، وہ منظر میری زندگی کا سب سے خوب صورت شو تھا، اس شو سے بھی زیادہ، جو ہم اس دن سرکس میں نہیں دیکھ سکے!
اور تبھی سے میرا یہ ماننا ہے کہ تربیت کا تعلق عملی نمونے سے ہے، محض کتابی نظریات سے نہیں!

(مقالات احمد خالد توفیق، ترجمہ: نایاب حسن)