مدارس ملک و ملت کے لئے رحمت

مدارس عربی لفظ ہے ، جو اسکول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، ہندوستان میں اس لفظ کو عام طور پر اس تعلیمی ادارہ کے لئے استعمال کیا گیا ، جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہو ، اس کے نصاب تعلیم میں دینی تعلیم کے ساتھ ضروری حد تک ہمیشہ عصری مضامین بھی شامل رہے ، یہ سلسلہ چلتا رہا ، بعد میں ضرورت کو پیش نظر مدارس کے نصاب میں باضابطہ عصری مضامین شامل کئے گئے ، بعض مدارس میں عصری مضامین کو ہر درجہ میں شامل کیا گیا اور حکومت سے منظوری بھی حاصل کرلی گئی ، اس کے برعکس بعض مدارس نے عربی درجات کو الگ رکھا گیا اور اس سے پہلے ابتدائی درجات میں عصری مضامین کو نصاب میں شامل کیا گیا ، نیز عربی درجات کے ختم ہونے کے بعد عصری مضامین کو شامل کیا گیا ، بہرحال مدارس میں اسلامی علوم کے ساتھ عصری مضامین کی تعلیم کا انتظام ہمیشہ رہا ، مگر اہل مدارس ابتدائی درجات کی تعلیم کو چھوڑ کر یہ کہتے رہے کہ مدارس میں صرف قرآن ، حدیث اور اسلامیات کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کی مدت 8/ سال ہے ، جبکہ یہ صحیح نہیں ہے ، اس کی وجہ سے بہت سے خطرات سامنے آئے ، ان میں سے یہ بھی ہے
موجودہ وقت میں حکومت کی نظر مدارس کی جانب ہے ، حالانکہ ملک کا آئین مذہبی آزادی دیتا ہے ، اپنے پسند کی تعلیم کے ادارے قائم کرنے اور چلانے کی اجازت دیتا ہے ،اس طرح مدارس چلانے کی بھی اجازت ہے ، مگر بعض صوبہ میں حکومت کی جانب سے سائنس ، حساب یعنی عصری مضامین کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ھے ، جبکہ مدارس کے نصاب میں عصری مضامین پہلے سے شامل ہیں ، اس لئے اہل مدارس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکومت کو بتائیں کہ مدارس کے نصاب میں عصری مضامین پہلے سے شامل ہیں ، ہمارے طلبہ صرف دینی کتاب نہیں پڑھتے ، بلکہ عصری مضامین کی کتابین بھی پڑھتے ہیں ،
ادھر حکومت نے مدارس کے سروے کا اعلان کیا ، ادھر مدارس کے فارغین ، اساتذہ ،
علماء اور ائمہ کرام سبھی میدان میں آگئے ، کوئی مدرسہ کے سروے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ،تو کوئی مدرسہ کے ساتھ مدرسہ کے منتظمین کے سروے کی بھی بات اٹھارہے ہیں ، ایسا لگ رہا ہے کہ لاوا یکایک پھٹ پڑا ہے ، اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ کوئی بڑی چیز ہاتھ آنے والی ہو ، جبکہ یہ تو ایک نارمل کام ہے ، کبھی ہوتا ھے ، کبھی نہیں ہوتا ھے ، اس لئے اس سے اس قدر نہ خوش ہونے کی ضرورت ہے اور نہ غیر ضروری متاثر ہونے کی ضرورت ہے ، اس لئے فیس بک اور واٹس ایپ پر موجود علماء و فضلاء کو چاہئے کہ وہ صبر سے کام لیں ، ابھی تنقید و تنصرہ کا وقت نہیں ھے ، یقینا کوتاہیاں ہیں ، مگر ہمارے اندر کا ضمیر اس وقت جاگتا ھے ،جب کوئی ہنگامی وقت ہوتا ھے ، اور جو ہنگامہ ہوتا ھے ، ہم اس کو مزید بھڑکانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں ، یہ کسی طرح مناسب نہیں ھے
میرا مطالعہ تو یہ ھے کہ یہ مدارس ملک اور ملت دونوں کے لئے رحمت ہیں ، ملک میں جب کوئی مصیبت کی گھڑی آتی ھے ، اہل مدارس حکومت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں ، سیلاب اجائے ، زلزلہ آجانے ، کہیں کوئی حادثہ پیش اجائے ، مدارس کے علماء اور طلبہ بھی آگے نظر آتے ہیں ، شرح خواندگی بڑھانے میں حکومت کی مدد کرتے ہیں ، ملت کے لئے رحمت اس طرح ہیں کہ ملت کے بچے اور بچیوں کے لئے مدارس مفت تعلیم کا انتظام کرتے ہیں ، ان کے قیام و طعام کا انتظام کرتے ہیں ، مساجد کے لئے امام ، موذن کا انتظام کرتے ہیں ، اس طرح مدارس ملک کے لئے بھی رحمت ہیں اور ملت کے لئے بھی ، ہر زمانہ میں حکومت نے قدر کی نگاہ سے دیکھا ھے ، آج بھی اس کی ضرورت ہے ، اس طرح اس کی حفاظت ملک و ملت دونوں کے لئے مفید ھے ،ںدعاء ھے کہ اللہ تعالی مدارس کی حفاظت فرمائے

ازقلم: (مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی