مولانا سید جلال الدین انصر عمری

ازقلم: محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

مرکزی جماعت اسلامی کے سابق امیر، جامعۃ الفلاح بلیریا گنج اعظم گڑھ کے سابق سربراہ، ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ کے بانی مہتمم، آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے نائب صدر، الہیئۃ الخیریۃ العالمیۃ کے سابق رکن، سراج العلوم نسواں کالج علی گڑھ کے مینیجنگ ڈائرکٹر، اشاعت اسلام ٹرسٹ دہلی، دعوت ٹرسٹ دہلی کے صدر اور رکن پبلی کیشن درجنوں کتابوں کے مصنف مولانا سید جلال الدین انصر عمری کا انتقال طویل علالت کے بعد جماعت اسلامی کے ہوسپٹل الشفا ابو الفضل انکلیو میں ہوگیا، یہ حادثہ ۲۶؍محرم ۱۴۴۴؁ھ مطابق ۲۶؍اگست ۲۰۲۲؁ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب پیش آیا۔ جنازہ کی نماز اگلے دن دس بجے مرکزی جماعت اسلامی کے دفتر واقع مسجد اشاعت الاسلام کے صحن میں امیر جماعت اسلامی سید سعادت اللہ حسینی نے پڑھائی اور مقامی شاہین باغ قبرستان (ٹھوکرنمبر۶)میں تدفین عمل میں آئی ہزاروں سوگوار اس آخری سفر میں ساتھ رہے، پس ماندگان میں دو لڑکے اور دو لڑکیوں کو چھوڑا، اہلیہ گذشتہ سال کورونا میں وفات گئی تھیں۔
مولانا سید جلال الدین عمری بن سید حسن کی ولادت تامل ناڈو کے ضلع شمالی آرکاٹ کے گاؤں پت گرام میں ہوئی، ۱۹۳۵؁ء کا سال تھا جب اس عظیم اور عبقری شخصیت کے وجود مسعود سے پت گرم گاؤں کی رونق میں اضافہ ہوا۔
ابتدائی تعلیم گاؤں مکتب میں پائی، وہاں سے جامعہ دار السلام عمر آباد منتقل ہوگئے اور یہاں کے اس وقت کے نامور اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ اور صرف بیس سال کی عمر تھی جب۱۹۵۴؁ء میں سند فراغ حاصل کیا، انہوں نے مدراس یونیورسٹی کے امتحانات دے کر فارسی زبان و ادب میں منشی فاضل کی ڈگری پائی، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے انگلش کا امتحان دے کر بی اے میں کامیابی حاصل کی۔
مولانا عمری جماعت اسلامی کی تحریک سے دور طالب علمی سے ہی وابستہ رہے، ابتدا میں انہوں نے رسمی طالب علمی کے اختتام کے بعد جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ تحقیق کو نہ صرف سنبھالا؛ بلکہ اس کام کے لئے خود کو وقف کردیا، ان کی محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے ۱۹۵۶؁ء میں انہیں جماعت اسلامی کا رکن بنایا گیا، کم و بیش دس سال انہوں نے جماعت کے شعبۂ تحقیق علی گڑھ کو سنبھالا ، جون ۱۹۸۶؁ء میں ماہنامہ زندگی نو کے ایڈیٹر بنے اور ۱۹۹۰؁ء تک ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، ۱۹۸۲؁ء سے جماعت اسلامی کے تحقیقی رسالہ تحقیقات اسلامی کو نکالنا شروع کیا۔ ۱۹۹۰ئ؁ سے ۲۰۰۷ئ؁ تک مسلسل چار میقات نائب امیر مرکزی جماعت اسلامی کے طور پر کام کیا، ۲۰۰۷ئ؁ میں پہلی بار وہ امیر جماعت اسلامی ہند مقرر ہوئے اور تین میقات ۲۰۱۷؁ تک امیر کی حیثیت سے خدمت کرتے رہے، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے نائب صدربھی رہے، ۲۰۱۹ئ؁ سے وہ شرعیہ کونسل کے صدر کی حیثیت سے آخری دم تک کام کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں تصنیف و تالیف اور تحقیق کی مضبوط صلاحیت عطا فرمائی تھی، پچاس سے زیادہ ان کی علمی اور تحقیقی کتابیں ان کی اس صلاحیت کی گواہ ہیں، جن کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوچکے ہیں۔ایک داعی، خطیب اور ماہر تعلیم کی حیثیت سے بھی ملک میں ان کی اپنی ایک شناخت تھی، تحمل، بردباری، سنجیدگی، متانت ہرحال میں خود پر قابو رکھنا ان کا طرۂ امتیاز تھا۔
ان کی طویل علمی دعوتی خدمات کی وجہ سے انسٹی چیوٹ آف ابجیکٹیواسٹڈیز نے انہیں چودہواں شاہ ولی اللہ ایوارڈ دیاتھا، یہ ایوارڈ ایک مومنٹو اور ایک لاکھ روپے پر مشتمل ہوا کرتا ہے۔ مولانا نے اس موقع سے دعوت دین کی اہمیت اور مدعو کی زبان سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا مرحوم سلجھے ذہن کے آدمی تھے، انہوں نے اپنی حکمت عملی سے دوسرے ملی اداروں کو جماعت سے قریب کیا،جماعت کی قدیم پالیسی کو تبدیل کرکے جماعت کی کارکردگی کو حالات حاضرہ سے ہم آہنگ کرنے میں بھی، ان کے مشورے کو بڑا دخل رہا وہ بڑے داعی اچھے خطیب تھے، ان کے اندر جرأت کردار بھی تھی اورجرأت اظہار بھی۔
میری پہلی ملاقات ان سے ادارہ تحقیقات اسلامی پان والی کوٹھی علی گڑھ میں ہوئی تھی، جہاں ان کا قیام ادارہ کے ذمہ دار کی حیثیت سے تھا، تحریک اس وقت کے بھائی سعود عالم اور اب کے ڈاکٹر سعود عالم قاسمی کی تھی کہ میں بھی اس ادارہ میں رہ کر تحقیق و تصنیف کی صلاحیت پیدا کروں، میری ایک تحقیقی کتاب ’’فضلائے دار العلوم اور ان کی قرآنی خدمات‘‘ عربی ششم کے سال ہی آچکی تھی، اور اس وقت تک میری کل پوجی یہی تھی، اسے لے کر انٹرویو دینے ان کے پاس پہونچ گیا۔ ڈاکٹر سعود عالم قاسمی معاون بنے، انتخاب بھی ہوگیا؛ لیکن جماعت اسلامی سے جو دوری اس زمانہ میں علماء دیوبند سے تھی، اس کی وجہ سے میں وہاں داخل تونہیں ہوسکا، البتہ مولانا کی اس موقع سے کی گئی ایک نصیحت آج تک تصنیف و تالیف میں کام آتی ہے فرمایا: اگر اس کام کو کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے اندر کتابوں سے مواد اخذ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے اس کے بعد اگلا مرحلہ اس کو تحریری شکل میں پیش کرنے کا ہے، ان کے کہنے کا خلاصہ یہ تھا کہ تمہارے اندر قوت اخذ بھی ہواور طاقت عطا بھی۔
پھر جب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کا ممبر بنا تو بورڈ کے پروگراموں میں ملاقات ہوتی رہی، اسلامک فقہ اکیڈمی کے بعض سمینار میں ان کی شرکت اور اپنی ملاقات بھی یاد آتی ہے۔ امارت شرعیہ کے اکابر سے وہ محبت کرتے تھے، ان کے کاموں کو سراہتے تھے، وہ امارت شرعیہ ۸؍مارچ ۲۰۰۴ئ؁ کو تشریف لائے تھے، انہوں نے اس موقع سے معائنہ رجسٹر پر لکھا:
’’امارت شرعیہ کے مختلف شعبوں، قضا و افتا کے شعبوں ، ٹکنیکل و اسپتال کو تفصیل سے دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی، یہاں کے نظم اور سلیقہ سے طبیعت متاثر ہوئی، اس کے کارکنان خدا کا شکر ہے کہ بڑی یک سوئی اور تن دہی کے ساتھ امت کی ایک بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے‘‘۔
مولانا اس دنیا کو چھوڑ چلے، لیکن ان کی نیکیاں سلامت ، ان کی خوبیاں ہیں باقی۔ اللہ مغفرت کرے اور پس ماندگان کو صبر جمیل دے