میرا شوہر بس میرا حق

فیملی کاونسلنگ :
تنگ گلی سے نکلنے کا راستہ

عبدالعظیم گوونڈی، ممبئی کی تصنیف family Counselling سے ایک مضمون

میرا شوہر، میرا پورا حق

ہم دو اور کوئی نہیں

شادی ہوتے ہی بیوی شوہر پر اپنا مکمل قبضہ (اثر اندازی) چاہتی ہے۔میکے والے بھی اسے مہمیز کرتے اور الگ رہنے پر
ابھارتے ہیں۔ بعض رشتوں میں تو یہ شرط ہوتی ہے کے الگ رہیں گے-
"ہم دو اور بس،تیسرا کوئی نہیں”-

ایسے جوڑے کاؤنسلنگ سینٹر پر حل ڈھونڈنے آتے ہیں۔دونوں متاثرین کے اپنے حقوق کو لے کر توقعات اور تحدیدات ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی شکایات کرتے اور غلطیوں کے لیے ایک دوسرے کو ذمّہ دار ٹھہراتے ہیں -اپنے حق کو پورا، پوراوصول کر نے اور اپنے فرائض کی ادائیگی سے بھاگتے ہیں۔

زمانہ الٹ پھیر کا نام ہے
Precious moment

والدین کی خدمت سے جنّت ملتی ہے – اور حقوق کی ادائیگی سے الله کی رضا نصیب ہوتی ہے-اس واضح اسلامی تعلیم کےباوجود بزرگ والدین کی حالت خراب ہے-کسم پرسی ، لاچاری ،بے بسی کی old age homes درد بھری کہانی سناتے ہیں –

جوانی کا خزانہ جس نے بچوں پر لٹایا ہے

جس باپ نے تنہا پانچ بچّوں کی پرورش کی، تین بھائی مل کر بھی دو بوڑھوں کی دیکھ بھال (باغبانی)نہیں کر پاتےاور باری لگا کر انھیں اذیت اور کوفت پہنچاتے ہیں – کبھی ماں کو ایک تو باپ کو دوسرا سنبھالتا ہے۔جس کی بیوی ملازمت کرتی ہے اور گھر میں چھوٹے بچوّں کو سنبھالنے اور کھانا پکانے کی ضرورت ہوتی ہے وہ ماں کو رکھتا اور جسے باہر کے کام، بچوّں کو اسکول چھوڑنا سودا سلف لانا ہوتا ہے وہ باپ کو رکھتا ہے-یا پھر سب ہاتھ
اوپر کر لیتے ہیں –
والدین اگر موظف(pensioner) ہیں تو مالی ضروریات پوری ہوجاتی ہے لیکن علاج وتیمارداری،اٹھانا بٹھانا، ساتھ لے جاتا، بچّوں کاپیار، اخلاقی سپورٹ، حوصلہ دینا، خوشیوں میں شرکت، پوتوں، پوتیوں کے دلار و کلکاریوں کے سننےسے محروم رہتے ہیں – گھر کا سناٹا کاٹنے دوڑتا اور دن رات کا گزرنا پہاڑلگتا ہے۔ان کی پینشن سے اندوخته (پس انداز) کو حیلے بہانوں سے ہڑپ کرنے کی بہوئیں ، بیٹے شادی شدہ بیٹی اور داماد سازشیں کرتےہیں۔
کاؤنسلنگ سینٹر پر جو معاملات آرہے ہیں ان میں زیادہ تر اس کی ذمّہ دار مادّیت پرستی کی سوچ اور بہوئیں پائیں گئیں۔بیٹوں (شوہروں)کی آنکھوں پر پردہ اور زن مریدی چھائی ہے-والدین سے زیادتی، گاکم گلوچ، جھگڑے ،طعنے اور دل کو پارہ پارہ کرنے والےواقعات ہیں -اقدار کا بحران (value crisis)اور بے تاثیر تربیت نے خون سفید کردیے ہیں -کچھ بیٹیاں اپنے شوہروں کو راضی کر کے والدین کو اپنے گھر رکھ کر ان کی خدمت انجام دے رہیں ہیں – یہ وہ ہیں جو ملازمت کرتیں ہیں، اس لیے اثر انداز بھی ہوتیں ہیں -کچھ غریب اس لیے بھی ساتھ رکھ لیتیں ہیں کہ ان کی پینشن سے ان کی بھی مددہو جاتی اور والدین کو خدمت اور دیکھ بھال بھی-وہ بھی کسی کی بہوئیں ہی ہیں-

اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اس ہستی کو باطل کر

کہ دانا بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر

ہر بڑے کام کے آغاز میں ایک عورت موجود ہوتی ہے۔

"There is a woman at the begining of all great things”
ضرورت ہے کہ شوہر /بیوی کے والدین (ساس،سسر)کو بھی اپنے والدین سمجھ کر ان کی آخری عمر کا سہارا بنا جائے –

ایک سماجی ادارہ کی طرف سے ایسے جوڑوں(pairs) کو بلا کر ان کی کاؤنسلنگ کی گئی اور بزرگ والدین کی ضروریات پوری کرنے ،انھیں اپنے ساتھ رکھ کر خدمت کرنے پر ابھارا گیا تو اس کے بہت اچھےّ نتائج سامنے آئے ۔اولڈایج ہوم میں بھی کاؤنسلرجاکر بزرگوں کو حوصلہ، امنگ نئی روشنی اور جینے کی ترنگ پیدا کر رہے ہیں – ان کے بچّوں سے مل کر ان کی بھی کاؤنسلنگ کی جاتی ہے-

بطور عبرت ایک سچا واقعہ

ایک والد نے زندگی بھر کا سرمایہ لٹا کر بچوّں کو اچھّا پڑھا لکھا کر امریکہ میں اچھّی ملازمت کے قابل بنا دیا ۔ کئی سال بیت گئے-جب ممبئی میں ماں کا انتقال ہوا تو چھوٹا بھائی آیا- والد نے پوچھا بڑا بھائی کیوں نہیں آیا؟ اس پر چھوٹے نے بتایا کہ "ہم نے ذمہّ دا ری بانٹ لی ہے!!۔اب کہ بار میں آگیا، آگلی بار وہ آئیں گے-؟”!!!!

اس بھیڑ میں کچھ میری حقیقت نہیں لیکن

دب جاؤں گا مٹی میں تو سب یاد کریں گے

تم اکیلے کیسے اس پر پورا پورا حق کیسے جتاؤ گی، سوچو تو سہی۔تم کس معاشرے سے آئی ہو؟؟۔اگر ایسا تمہارے والدین اور بھائی کے ساتھ مطالبہ ہو تو کیا تم اسے درست کہو گی؟؟؟

کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ بام ودر سب بجھے بھجے ہیں

آپ کے شوہر پر جس طرح آپ کے ازدواجی حقوق ہیں ۔ ٹھیک اسی طرح پدری، مادری،دختری، خربی، برادری، رشتہ داروں کے حقوق اور محسن شنا سی بھی ہے۔شادی کے بعد کیسے ممکن ہے کہ شوہر سارے حقوق تج کر صرف بیوی کے اشاروں پر اپنی فرمانبرداری نچھاور کرتا رہے؟؟؟؟؟ جن والدین نے اسے پالا پوسا، پرورش کی، اس کی تعلیم پر باپ کی زندگی بھر کی بچت، اساسہ، ماں کے زیورتک بک گئے ۔اب جب کے کمانے کے لائق ہوا، تو شادی کردی۔
اچھے وقت، اچھے دنوں کی خواہش ان کا بھی حق ہے۔

ان کی تو وہ مثال ہے جیسے کوئی درخت

اوروں کو چھاؤں بخش کے خود دھوپ میں جلے