شریعت محمدی اور سابقہ شریعتوں کے درمیان اخلاق کا موازنہ

ازقلم: تحسین فاطمہ
درجہ عالمہ رابعہ ،جامعہ امّ الہدیٰ پرسونی مدہوبنی بہار

جاننا چاہیے کہ خلق کی تین قسمیں ہیں: (1)خلقِ حسن (2)خلقِ کریم (3)خلق عظیم خلقِ حسن یہ ہے کہ صاحبِ معاملہ سے بالکل مساوات وبرابری کا معاملہ کیاجائے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسی خلقِ حسن،یعنی مکمل عدل و مساوات کی تعلیم دی تھی، قرآن کریم میں ہے:وَ کَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ؕ ترجمہ:اور ہم نے تورات میں یہودیوں پر لازم قرار دیا تھا کہ جان کے بدلہ جان ہے، آنکھ کے بدلہ آنکھ ، ناک کے بدلہ ناک ، کان کے بدلہ کان ، دانت کے بدلہ دانت ، اور زخموں میں بھی برابر کا بدلہ ہے ۔[المائدہ:45]یعنی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی شریعت میں مجرم سے جرم کاانتقام لینا فرض قراردیاگیا تھا،معاف کرنا جائز نہیں تھا،تورات میں یہ حکم دیاگیا تھاکہ اگر کسی نے تمہارادانت توڑدیا ہےتو تم پرفرض ہے کہ تم بھی اس کادانت توڑدو۔اگرکسی نے تمہاری آنکھ پھوڑدی ہے توتم پرفرض ہے کہ تم بھی اس کی آنکھ پھوڑدو۔الغرض جان کے بدلہ جان،آنکھ کے بدلہ آنکھ، ناک کے بدلہ ناک،کان کےبدلہ کان،دانت کے بدلہ دانت کاانتقام لینا فرض تھا،حتی کہ اگرکسی نے کسی کو زخمی کردیاتو زخم خوردہ پر یہ فرض تھا کہ وہ بھی مجرم سے اس کا انتقام لے،اوراسی کے برابراسے زخمی کرے۔یہ تھا خلقِ حسن ،جس کی تعلیم حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کودی تھی۔
خلقِ کریم یہ ہے کہ انتقام بالکل نہ لیا جائے، بلکہ ایثار سے کام لیاجائے،مجرم کومعاف کردیاجائے اورخود کو پیش کردیاجائے کہ لو،مجھےاورمارو۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم کوخلقِ کریم کی تعلیم دی تھی، حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی شریعت میں یہ حکم تھا کہ اگر تمہیں کوئی دائیں گال پر طمانچہ مارے، تو یہ نہیں کہ تم بدلہ لو، بلکہ بایاں گال بھی پیش کردوکہ لوبھائی! اگرتمہای خوشی اسی میں ہے اورتمہاراجی اسی میں ٹھنڈا ہوتا ہے،توایک طمانچہ اورمارلو۔ یہ ہے ایثارکہ نہ یہ کہ صرف بدلہ نہیں لیا،بلکہ معاف کردیا، بلکہ خودکو پیش کردیا کہ اگر مجھے مارنے سے تمہیں سکون ملتا ہے تواورمارلو۔ یہ تھاخلقِ کریم، جس کی تعلیم دی حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی قوم کودی تھی۔حضرت نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو جامع تعلیم دی، نہ تو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی شریعت کی طرح انتقام لینا فرض قراردیا،اورنہ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی شریعت کی طرح مجرم کومعاف کردینا،بلکہ مزیدمارنے کے لیے خودکو پیش کرنا فرض قراردیا،بلکہ دونوں کے درمیان ایک معتدل حکم دیا،اوردونوں کوجمع کرفرمادیاکہ: (1) مجرم سےانتقام لینے کا بھی حق ہے ،کیوں کہ برائی کا بدلہ برائی ہے،اس لیےاگرکسی نے تمہارے ساتھ برائی کی ہے، تو تمہیں حق ہے کہ تم بھی اس کے ساتھ برائی کرو،یعنی تم انتقام لو،مثلًاجان کے بدلے قصاص میں جان لو،اعضاء کو نقصان پہنچانے کے بدلے میں اعضاء کو نقصان پہنچاؤ۔(2) مجرم کو معاف کرنےکابھی حق ہے،یعنی اگرکسی نے تمہارے ساتھ برائی کی ہے،تو تمہیں حق ہے کہ تم اسے معاف کردو،اس سے انتقام نہ لو،اور معاف کرنے کاعنداللہ عظیم ثواب ہے۔قرآن کریم میں ہے:وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ ترجمہ: اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ، پھر جو معاف کردے اور صلح کرلے تو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے ،[الشورٰى:40] اوراسلام میں یہ یہ معتدل حکم اس لیے دیا گیا کہ اسلام قیامت تک کے لیے ہے،اوردنیا کی ہرقوم اور ہرخطہ کے لیے ہے،کسی خاص قوم یا خاص خطہ کے لیے نہیں ہے،اوردنیا میں نرم مزاج قومیں بھی ہیں،اورسخت مزاج قومیں بھی۔اگر یہ تعلیم دی جاتی کہ انتقام لینا فرض ہے تو نرم مزاج قومیں، مثلاً مشرقی بنگال کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی اسلام قبول نہ کرتا کہ اس خونخوار مذہب کو کون قبول کرے جہاں انتقام لینا فرض ہے،معاف کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے!!اور اگریہ تعلیم دی جاتی کہ معاف کرنا فرض ہے تو شاید جو پٹھان لوگ ہیں،ان میں سے ایک بھی اسلام قبول نہ کرتا کہ ایسے بزدلانہ مذہب کو کون قبول کرے،جس کی تعلیم یہ ہےکہ مجرم کومعاف کردو،بلکہ مزید مارنے کے لیے خودکو پیش کردو!!یادرکھیں!! معاف کرنے کے بعد خیر خواہی بھی کی جائے تو یہ خلقِ عظیم ہے،جونبی کریمﷺ کاخلق ہے، قرآن کریم میں ہے:وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ،اوراس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے حامل ہیں۔[القلم:4] صرف یہی نہیں کہ نبی کریمﷺ ناتربیت یافتہ رفقاء کو معاف کردیں ،بلکہ آپ ﷺکا مقام اس سے بھی بلند ہے،آپ اُن کے لىے مغفرت کی دُعاء بھی کریں،اورصرف دعائے مغفرت ہی نہ کریں ،بلکہ آپ ﷺکا مقام اس سے بھی اونچاہے،آپ اُن سے اہم معاملات میں مشورہ بھی کیا کریں ،تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمیں بھی اہمیت دی گئی،ہمیں بھی اپنا سمجھاگیا۔ نبی کریمﷺ کے اخلاق کے یہ تین درجات قرآن شریف میں مذکورہیں:فَاعْفُ عَنْہُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَ شَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ ۚ رسول اللہ ﷺ ان سے درگذر بھی کریں ،ان کے حق میں دُعاء مغفرت بھی کریں اوراہم معاملات میں ان سے مشورہ بھی [آل عمران:159]یہ ہےخلق عظیم کہ معاف کرنے کے بعد خیرخواہی بھی کی گئی۔یادرکھیں!جو خلقِ عظیم کا حامل ہوگا وہ خلقِ حسن اورخلقِ کریم کا بھی حامل ہوگا،کیوں کہ خلقِ عظیم، خلقِ حسن اورخلقِ کریم
سے اعلٰى درجہ ہے،جیساکہ مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم چکاہے۔[تلخیص:خطبات حکیم الاسلام:ج:1,ص:99]