مشہور ادیب نسیم اختر شاہ قیصر نے ہمیشہ اردو ادب کی خدمت کی ہے۔ شاعر تنویر اجمل

  • نہیں رہے اردو دنیا کے مشہور معروف ادیب حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند :(ابوشحمہ انصاری ) مشہور و معروف اردو ادیب حضرت مولانا نسیم اختر شاہ قیصر استاد وقف دارالعلوم دیوبند کے انتقال کی خبر سے دیوبند کے ادبی حلقہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ جہان ادب اکیڈمی کے چیرمین اور جہان ادب نیوز ٹائمز کے ایڈیٹر شاعر تنویر اجمل نے اپنے غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر دیوبند کے ان چنندہ لوگوں میں تھے جن کا ادب میں الگ مقام تھا۔ تنویر اجمل نے کہا کہ مولانا نسیم اختر ایک شاندار ادیب کے ساتھ ساتھ ایک نیک دل انسان بھی تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے ان گنت پروگراموں میں شریک ہی نہیں بلکہ مشاعروں اور نشستوں کی صدارت اور افتتاح بھی کیا اور جنرل نالج علمی مقابلہ میں بطور جج موجود رہے اور ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ شاعر تنویر اجمل نے کہا کہ جہان ادب اکیڈمی کی جانب سے مولانا نسیم اختر شاہ قیصر صاحب کو ان کی ادبی خدمات کے لئے فخرے دیوبند اور شان اردو ایوارڈ سے نوازا جاچکا ہے آپ کی ادب اور شاعری سے محبت بے انتہا تھی مجھے یاد ہے اٹھارہ بیس سال پہلے ساحل فریدی صاحب کے بلاوے پر نسیم اختر قیصر صاحب مجھے اپنی ساتھ سہارنپور کے کئی مشاعروں میں ساتھ لے کر گئے نسیم اختر بھائی ایک اچھے ادیب کے ساتھ ساتھ شاندار شاعر بھی تھے اور اکثر عدنان انور کے یہاں اور اپنے مدرسے میں مجھ سے غزلیں بھی سنا کرتے تھے شاعر تنویر اجمل نے کہا کہ میرے والد صاحب سے بھی خاص طعلق رہا ہے اور بے تکلفی سے ہنسی مذاق کرتے تھے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ ایکس سی این انجینئر مزمل حسن نے نے کہا کہ میں جب بھی دیوبند آتا تو نسیم اختر شاہ صاحب سے اکثر ملاقات ہوتی تھی اور اکثر تنویر اجمل بھائی کے پروگراموں میں میری ان سے ملاقات رہی ہے اور کہا کہ نسیم اختر بھائی کی زندگی کا اکثر حصہ لکھنے پڑھنے میں گزرا ہے۔انہوںنے تقریباً 40 سال تک اردو ادب اور صحافت کے میدان میں اپنے جوہر دکھائے۔ ان کی تیس پینتیس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں، ۔ ان کے ادبی مضامین ہندوستان کے مشہور و معروف اردو ہندی اخبارات میں اکثر شائع ہوتے رہتے تھے شاعر تنویر اجمل نے کہا کہ۔ ان کا ہنستا اور مسکراتا چہرہ ہمیشہ ہماری نظروں کے سامنے رہے گا۔ آج ان کے ساتھ گزارے ہوئے تمام لمحات یاد آرہے ہیں۔ اور کہا کہ اردو ادب میں ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔تنویر اجمل نے کہا کہ دیوبند میں اردو ادب اور صحافت میں اتنا شاندار لکھنے والا اب کوئی دوسرا نہیں ہے