اردو میڈیا فورم کی جانب سے پہلے شہید صحافی مولوی سید محمدباقر دہلوی کا یوم شہادت منانا قابل تحسین

تحریک آزادی میں ہرطبقہ کے لوگوں نے حصہ لیا، علماء، ادباء ،شعراء، صحافی ،دانشوران بھی پیش پیش رہےاور صحافیوں کا بھی اہم کرداررہا۔ تحریک آزادی میں حصہ لینے کی وجہ سے انگریزی حکومت نے انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیں، قیدوبند کی سزائیں دیں، پھانسی کے پھندے پر لٹکایا، توپ سے اڑایا، ان ہی میں سے علامہ سید محمدباقر دہلوی بھی تھے، جو مولوی باقر کے نام سے مشہور تھے، جن کو ۱۶؍ستمبر ۱۸۵۷ء کو توپ سے اڑا دیاگیا۔ اردو میڈیا فورم کی جانب سے مولوی محمد باقر دہلوی کی تاریخ شہادت کو یوم شہادت کے طورپر منایا جارہا ہے، اردو میڈیا فورم کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی نے کیاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علامہ محمد باقر دہلوی جو مولوی محمدباقر کے نام سے بھی جانے جاتے تھے، مشہور ادیب محمد حسین آزادکے والد ، دہلی کالج کے استاذ اور مشہور صحافی تھے۔ دہلی کالج کے مدرسی کے زمانہ میں ان کے علمی تبحر، اخلاق اور دیگر خصوصیات سے متاثر ہوکر کلکٹر شاہجہان آباد مٹکاف انہیں کالج سے کلکٹر ی میں لے آیا، جہاں وہ ترقی کرکے تحصیلدار دہلی کے عہدہ تک پہنچے۔ پھر انہوں نے ملازمت چھوڑکر دہلی اردو اخبار کی ادارت سنبھالی اور ہندوستان کی جنگ آزادی ۱۸۵۷ء میں اپنی جان قربان کرنے والے پہلے صحافی قرار پائے۔ آزادی کی اس جنگ شریک ہونے کی وجہ سے انہیں ۱۶؍ستمبر ۱۸۵۷ء کو گرفتار کیا گیااور بغیر کسی مقدمہ کے انہیں توپ سے اڑا دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولوی محمدباقر دہلوی کی پیدائش ۱۷۸۰ء کو دہلی میں ہوئی، ان کے والد مولوی اکبر علی تھے۔مولوی محمدباقر نے تعلیم دہلی کالج میں حاصل کی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد دہلی کالج میں استاذ رہے، پھر ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں تحصیلدار رہے، پھرصحافت میں آگئے اور صحافت میں انہوں نے اپنی شناخت بنائی۔ انہوں نے جنوری ۱۸۳۷ء میں اردو زبان کا ہفت روزہ ’’دہلی اخبار‘‘ نکالا، جو ۲۱؍ برسوں تک جاری رہا۔ ۱۸۳۶ء کے آس پاس اپنا پریس قائم کیا اور ۱۸۳۷ء میں اردو کے پہلے باقاعدہ اخبار ’’دہلی اردو اخبار‘‘ کا آغاز کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قلم اللہ کی بڑی نعمت ہے، اس کا صحیح استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صحافت اسی کی ایک کڑی ہے، صحافت نے ہمیشہ ملک وملت کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے، حق گوئی، جرأت وبےباکی اس کا طرۂ امتیاز رہا ہے ، اردو صحافت کا بھی اس میں اہم رول رہاہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ صحافت کا معیار روز بروز گرتاجارہا ہے، آج اس کی ضرورت ہے کہ مولوی محمد باقر شہید کی تاریخ شہادت کو یوم محاسبہ کے طور پر منایا جائے اور اردو صحافت کی کارگزاریوں کا بھی جائزہ لیا جائے، اور حق گوئی،جرأت وبےباکی کا مظہر بنایا جائے ۔اس موقع پر ہم عہد بھی کریں کہ ہم حق گوئی ،جرأت وبےباکی کا مظاہرہ کریں گے، یہی صحافی مولوی محمد باقر دہلوی کو بڑا خراج عقیدت ہوگا۔

( مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی