منی پور دنگا۔۔ ہم مسلمان اب بھی نہ نیند سے جاگے تو۔۔۔۔۔!

اس کے قتل پہ میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے

منی پور کے مظلوم لوگ اب تک ظلم سے نجات نہیں پاسکے ہیں۔دن و رات ظلم و بربریت کے شکار لوگ تڑپتے رہتے ہیں اور ہماری ظالم وجابر حکومت اس ظلم وستم کی طرح طرح وجوہات اور تاویلیں پیش کر رہی ہے،ظالم و بے رحم حاکم و اس کے بے غیرت معاون خود کو اور عوام الناس کو مطمئن رکھنے کوشش کررہے ہیں کہ حالات بالکل ٹھیک ہیں،جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔منی پور میں ہر ظلم رواں کر دیا گیا ہے،وہاں کے بہن بیٹیوں کی عزت،کوکی لوگوں کا جان و مال محفوظ نہیں ہے۔منی پور میں مئی سے لے کر اب تک کوکی برادری کے جان و مال کا بے انتہا نقصان اور خواتین کے گینگ ریپ،تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں،حتی کہ عورتوں کے ہجوم نے چند کوکی لڑکیوں کو جن کی عمر 18 سال یا اس سے کم ہوگی وحشی اور حیوان دنگائ مردوں کی بھیڑ کے حوالے کیا کہ ان کی عزت کو لوٹ لو۔بہت سارے واقعات کا علم پولیس اور انتظامیہ کو بھی ہے لیکن اس کے باوجود وہاں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ پولس اور انتظامیہ کی پوری شۓ اور پورا ہاتھ ہے۔ظالم و جابر حکمران اور بے حس، وحشی اور درندے لوگوں نے ظلم کو منی پور میں وراثت سمجھ لیاہے۔منی پور کے مظلوم کوکی برادری کے حصے میں نہ تسلی ہے نہ کوئ انہیں دلاسا دے کر ان کے آنسو پونچھنے والا ہے۔
کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین (پی وجین) نے منی پور واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے ترواننت پورم میں کہا تھا کہ ملک کے سیکولر،جمہوری سماج کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ سنگھ پریوار کے ایجنڈے نے منی پور کو فسادات زون کے طورپر تبدیل کر دیا ہے۔ سنگھ پریوار منی پور میں نفرت کے بیج بو رہا ہے۔ فسادات کی آڑ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عیسائیوں پر حملہ ہے۔عیسائی قبائلی گروہوں کے گرجا گھروں پر منظم طریقے سے حملے کیے گئے اور انہیں تباہ کیا گیا۔ سنگھ پریوار نے سیاسی فائدے کے لیے منی پور کو کوکی برادری کا قتل گاہ بنادیا ہے۔سنگھ پریوار کی ذلیل سیاست کے نتیجے میں اب تعلیم میں بھی فرقہ پرستی کی گندگی شامل ہو چکی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں ایک لیڈی ٹیچر اپنے کلاس میں ایک مسلم اسٹوڈنٹ کو دو چار ہندو اسٹوڈنٹس سے پٹائ کروا رہی ہے۔تعلیم میں یہ ایک عجیب و غریب فرقہ پرستی کی مثال ہے۔ اسی طرح ہندو کوچنگ سینٹر میں مسلم طلباء کا یا مسلم کوچنگ سینٹر میں ہندو طلبہ کا داخلہ نہیں لینا بھی تعلیم میں فرقہ پرستی کی مثالیں ہیں۔
مسلمانوں نے بھی کوئ سیاسی بیداری نہیں ہے،اس لۓ کہ جب ہماری عبادت گاہوں پر حملہ ہوتا ہے تو کیا عام اور خاص علماء اکرام،کالم نگار سبھی لوگ فرنٹ لائن پر آ کر احتجاج کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے، لیکن جب ہمارے ہی لوگ یا دوسرے لوگ دوسروں کی عبادت گاہوں پر حملہ آور ہوتے ہیں تو سبھی لوگ ایسی خاموش اختیار کر لیتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے اور مذمت کا ایک لفظ بھی نہیں بولتے۔یہ مومن کی شان نہیں ہے۔مومن کی شان تو عدل اور انصاف کی بات کہنے میں ہی۔جب ہم کسی ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے تو ہمارے لۓ کون آواز بلند کرے گا؟

مسجد پر ہو حملہ تو ظلم تو ہے
گرجا پر ہو حملہ پھر کہاں کا عدل ہے

آج فیس بک اور واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضاء تیار کی جاچکی ہے،اب کفر کو کسی مناسب وقت کا انتظار ہے کہ مسلمانوں کا ایک بار ہی میں پورے بھارت میں قتل عام ہو۔ایسے بھی چند جگہوں پر فسادات کے بہانے مسلمانوں کا قتل عام،جان و مال اور عزت و آبرو لوٹی ہی جا چکی اور جارہی ہے۔مسلمانوں کے تمام مسالک کے مذہبی لیڈروں کو چاہیے کہ ایک مشترکہ بیان منی پور کی کمزور عوام کے لۓ جاری کریں۔جس میں ظلم کی مذمت اور ان مظلوموں کے لۓ اظہار ہمدردی ہو۔جہاں تک ہو سکے ان مظلوموں کی امداد بھی کریں۔
مسلمانوں اگر اللہ کے نبی ﷺ کی حیات طیبہ میں یہ واقعہ پیش آتا تو نبی رحمت للعالمین ﷺ ضرور منی پور کے لوگوں کی امداد کو پہنچتے،اور ظالم وجابر حکومت کے خلاف جہاد کرتے۔
قریش نے بنو بکر کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ کا بے دریغ قتل عام کیا،قبیلہ بنو خزاعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عہد و میثاق کر چکا تھا لیکن ابھی قبیلے نے اسلام قبول نہیں کیا تھا،بدیل بن ورقاء اور عمرو بن سالم نے چند آدمیوں کے ساتھ نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں اپنے قبیلے کے لوگوں کی تباہی و بربادی کی داستان بیان کیا اور مدد طلب کی، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری مدد کی جائے گی،اور آپ ﷺ نے ابو سفیان کے بار بار گزارش اور عہد نامے کو نۓ طریقے بہال کرنے کی گزارش کو خاموش رہ کر رد‌ کر دیا،اور مکہ پر حملہ کیا۔فتح مکہ کے اسباب میں یہ سب سے بڑا سبب ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے عبداللہ اسدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ حضرت محمد رسول اللہ سے (لوگوں کو برملا نصیحت کرتے) سنا۔لوگوں! مظلوم کی بددعا سے بچو! اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ بلاشبہ اس کی آہ و بددُعا اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے درمیان میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہوتی(مسند احمد)

آخر میں!
مراکش میں زلزلہ آیا،ایک عالم دین نے فیس بک پر اس طرح رپورٹ دی کہ تقریباً سیکڑوں مسلمانوں کی جان چلی گئی۔یہ نہیں کہا کہ سینکڑوں لوگوں کی جان چلی گئی۔کلکتہ کے ایک نامور صحافی نے اپنے ایک مضمون کا عنوان لگایا:ممتا بنرجی کی پارٹی سے مسلمان کیوں ناراض ہیں؟
حالانکہ مسلمان نہیں بلکہ خود صحافی ناراض ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کو جھوٹ بول کر گمراہ کیا جاتا ہے۔بی جے پی اور ہندو دہشت گردوں کی نئ پالیسی یہ ہے کہ شوبھا یاترا یا کسی اور یاترا کے بہانے مسلمانوں کو پتھر پھینکنے پر اکسایا جاۓ یا اپنے کسی ذلیل آدمی سے پتھر پھینکوایا جاۓ اور کچھ سرکاری اور پبلک پراپرٹی کا نقصان کرایا جائے اور پھر اس کے بعد پتھر باز لوگوں کو ویڈیو کلپ جو صرف مسلمانوں کی ہی ہو اسے پہچان کر ان کے دکانوں اور گھروں پر بلڈوزر چلاکر انہیں معاشی طور پر بالکل کمزور کر دیا جائے۔جتنا جلدی ہم بی جے پی کے اس چال کو سمجھ کر اجتناب کرے گیں،اتنا ہم نقصان سے بچے گیں!
جمہوری نظام میں اکثریت کا اقلیت مخالف ذہنی تصور جمہوریت اور اقلیت دونوں کے لیے خطرناک۔ اگر حکومت ایک خاص مذہب والے اکثریت قوم کو اقلیت قوم کے خلاف mindset بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس حکومت کا اقتدار سے ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اکثریت قوم ہمیشہ اسی پارٹی کی حکومت کو اقتدار میں رکھنے کی کوشش کریگی جسے اقلیت اقتدار سے ہٹانا چاہتی ہے۔ اس معاملہ میں آر ایس ایس اور بی جے پی مجھے بہت کامیاب ہوتا ہوا دیکھ رہی ہے۔ اس لیے اب الیکشن بنیادی چیزوں مثلاً مہنگائی، کرپشن پر نہیں لڑی جایے گی بلکہ اب الیکشن دو مخالف ذہنی تصور کے مابین ہوگی۔ اس چیز کو موجودہ حکومت اچھی طرح سے سمجھ چکی ہے اس لیے حکومت وقتا فوقتاً اقلیت کے خلاف ایسی ایسی کام کریگی جس سے اکثریت قوم خوش ہوگی اور حکومت کو شاباشی بھی دیگی اور محسوس کریگی کے یہی حکومت ٹھیک ہے۔

تحریر: ریاض فردوسی۔9968012976