ظہور قدسی کے وقت اللہ تعالٰی نے جشن منایا

ولادت مصطفوی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا پورا سال اللہ تعالٰی کی خصوصی رحمتوں کا نزول جاری رہا۔ جب ظہور قدسی کی وہ سعید ساعتیں جن کا ان گنت صدیوں سے انتظار تھا، گردش ماہ وسال کی کروٹیں لیتے لیتے اس لمحہ منتظر میں سمٹ آئیں جس میں خالق کائنات کے بہترین شاہکار کو منصئہ عالم پر اپنی ضیا پاشیوں سے جلوہ گر ہونا تھا۔ تو مشاطہ فطرت نے ایسی ایسی آرائشوں اور زیبائشوں کا اہتمام کیا جس کی نظیر ازل سے ابد تک نہ کبھی تھی اور نہ کبھی حیطہ خیال میں آسکتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب مکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی دنیا میں آمد کے موقع پر کائنات پست وبالا میں اتنا چراغاں کیا کہ شرق تا غرب ہرچیز بقعہ نور بن گئی۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا جن کی آغوش مبارک کو اس نور پاک کی پہلی جلوہ گاہ بننا تھا۔ انھیں نبی آخرالزماں شہنشاہ دوجہاں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی والدہ ماجدہ ہونے کا عدیم النظر شرف حاصل ہوا۔۔ وہ اپنے اس عظیم الشان لخت جگر کے واقعات ولادت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں ۔
فلما فصل منی خرج معہ نور أضاء لہ مابین المشرق الی المغرب۔
یعنی جب سرورکائنات صلیاللہتعالٰیعلیہوالہوسلم کاظہورہواتوساتھ ہی ایسانورنکلا جس سے شرق تاغرب سب آفاق روشن ہوگئے۔( سیوطی۔ الخصائص الکبری، ج ۱ ص ۹۷/ ابن جوزی، صفوۃ الصفوۃ، ج ۱ ص ۵۲)
آپ ہی سے ایک اور روایت یوں مروی ہے۔
انہ خرج منی نور أضاء قصور بصری من ارض الشام وفی روایۃ أضاءت لہ قصور الشام وأسواقھا حتی رأیت أعناق الابل ببصری ،
ترجمہ۔ بیشک مجھ سے ایسا نور نکلا جس کی ضیاء پاشیوں سے سرزمین شام میں بصری کے محلات میری نظروں کے سامنے روشن اور واضح ہوگئے۔ اسی قسم کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ اس نور محمدی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم سے ملک شام کے محلات اور وہاں کے بازار اس قدر واضح نظر آنے لگے کہ میں نے بصری میں چلنے والے اونٹوں کی گردنوں کو بھی دیکھ لیا۔ اسی نورکی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے محترم چچا حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنے ایک نعتیہ قصیدے میں جو انھوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم سے اجازت لے کر غزوہ تبوک سے لوٹتے وقت سنایا۔ فرماتے ہیں۔
وانت لما ولدت أشرقت الأرض،
وضاءت بنورک الأفق،
فنحن فی ذلک الضیاء وفی النور،
وسبل الرشاد نخترق،
یعنی۔ جب آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم پیدا ہوئے تو زمین چمک اٹھی اور آفاق روشن ہوگئے۔ پس ہم اسی نوروضیاء میں رشد وہدایت کی راہوں کی طرف گامزن ہیں۔
( حاکم ۔ المستدرک، ج ۳ ، ص ۳۹۶ )
اس پر بحث کرتے ہوئے کتب سیر میں یہ سراحت بھی کی گئی ہے کہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے ملک شام اور دیگر عجائبات حالت بیداری میں ملاحظہ فرمائیں نہ کہ خواب میں مثلا۔
وھذا ظاھر فی أنھا رأت ذلک النور یقظۃ،
اور یہ ظاہر ہے کہ آپ نے یہ نور حالت بیداری میں دیکھا،
اس ضمن میں کتب تاریخ وسیر میں ایک روایت بھی ملتی ہے کہ ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے گرد صحابہ کرام اس طرح جھرمٹ بنائے بیٹھے تھے جیسے چاند کے گرد نور کا ہالہ ہوتا ہے۔ انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم آپ اپنی ولادت باسعادت کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایئے۔ تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے جواب میں فرمایا۔
أنا دعوۃ أبی ابراہیم وبشری عیسی ورأت أمی أنہ خرج منھا نور أضاءت لہ قصورالشام ،
میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا اور عیسی کی بشارت ہوں ، میری والدہ ماجدہ نے میری پیدائش کے وقت دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے محلات شام روشن ہوگئے،
اللہ رب العزت ہم سبھی لوگوں کو ایسے عظیم الشان نور مجسم محسن انسانیت صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت کا جشن خوب دھوم دھام سے منانے کی توفیق رفیق عطا فرمائے اور ان کے مقدس فرمودات پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یارب العالمین،

ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری، بانی دارالعلوم مخدوم سمنانی شل پھاٹا ممبرا،