نماز تراویح کی تاریخی وشرعی حیثیت چوتھئ اور آخری قسط

تحریر: محمد ہاشم اعظمی
امام حرم عبدالرحمن السديس سے دو باتیں* آج کورونا وائرس کی وبا سے پوری کائنات انسانی درد وکرب دوچار ہے اس و با سے بچنے کے لیے سماجی فاصلوں سے لیکر لاک ڈاؤن تک ہر احتیاطی تدابیر اختیار کی جارہی ہے ہیں اسی احتیاطی تدابیر کے باب میں مسجد حرام ومسجد نبوی انتظامیہ کمیٹی کے سربراہ اعلیٰ شیخ عبد الرحمن السدیس کا ایک اعلان آج کل انٹرنیشنل میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے لیکر سوشل تک بڑے چرچے میں ہے دراصل کورونا وائرس جیسے وبائی مرض سے بچاؤ کے لئے امسال ماہِ رمضان میں مسجد نبوی ومسجد حرام کی کمیٹی نے چند تبدیلیوں کے اعلانات کئے ہیں ان میں کچھ تبدیلیاں تو ایسی ہیں جو سراسر شریعت مطہرہ کے خلاف ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے ذلت ورسوائی اور مصائب و آلام کا باعث ہیں ان میں جو سب سے زیادہ موضوع بحث ہے وہ یہ ہے کہ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صحابہ کرام کی اتفاق رائے سے باقاعدہ شروع ہوئی باجماعت بیس رکعت نماز تراویح امسال دس رکعت ادا کی جائیں گی… 
 *ہماری بات* پوری دنیا کی مساجد میں، خصوصاً مسجد حرام ومسجد نبوی میں،اسی طرح اسلام کی پہلی مسجد ”مسجد قبا“ میں چودہ سو سالوں سے پابندی کے ساتھ 20 رکعت نماز تراویح ہوتی چلی آرہی ہیں۔ خود سعودی حکومت نے بھی دوسرے خلیفہ کے عہد سے جاری اس سلسلۃ الذھب کو باقی رکھا ہے اور اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ نماز عشا کے بعد پہلے امام دو دو رکعت کرکے 10 رکعت نماز تراویح پڑھاتے ہیں ، پھر دوسرے امام دو دو رکعت کرکے 10 رکعت نماز تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے ہیں ۔ کبھی کبھی ایک ہی امام مکمل نمازیں پڑھا دیتے ہیں. ہمارے علماء ومؤرخین تاریخی شواہد کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی میں پورے چودہ سو سالہ دور میں بیس رکعت سے کم تراویح کبھی نہیں ادا  کی گئی ۔ مسجد حرام میں بھی بیس رکعت ہی نماز تراویح  ہوتی چلی آرہی ہے ۔ تراویح پڑھنے کی اگرچہ بہت فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، لیکن فرض نہ ہونے کی وجہ سے تراویح کی تعداد رکعت میں گنجائش ہو سکتی ہے،لیکن میں امام حرم مکی شیخ عبدالرحمن السدیس کا احترام کرتے ہوئے نمازِ تراویح کی دس رکعت کی تعیین پر اپنا اعتراض واحتجاج درج کراتے ہوئے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بیس رکعت نماز تراویح کو دس رکعت کرنے میں کون سی حکمت ہے آخر کون سا فرنگی ذہن کار فرما ہے کیا آپ کے پاس کوئی دلیل بھی ہے کیونکہ حرمین میں ہو یا دنیا کے کسی خطے میں ہو تراویح کی دس رکعت کی تعیین کے لئے شرعی دلیل درکار ہے جو یقیناً آپ کے پاس موجود نہیں ہے۔ کورونا وبائی مرض سے بچاؤ کے لئے عمرہ پر پابندی اور پنچ وقتہ نماز کے ساتھ نماز تراویح میں عام لوگوں کو اجازت نہ دے کر صرف چند افراد کو مسجد حرام ومسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی اجازت دینے کی گنجائش تک تو ٹھیک ہے،لیکن نماز تراویح کے لئے دس رکعت کو منتخب کرنے کی بات سمجھ سے بالکل بالاتر ہے کیونکہ یہ تعاملِ صحابہ کے ساتھ رسول اللہ کی سنت اور اجماع امت کے خلاف ہے دس رکعت کی تعیین یقیناً شریعت اسلامیہ میں زیادتی اور تحریف ہے. جمہور علماء وفقہاء اور ائمہ اربعہ نے ہر حال میں بیس رکعت تراویح کو ہی اختیار کیا ہے اس لئے مسجد حرام ومسجد نبوی انتظامیہ کمیٹی کے سربراہ عبد الرحمن السدیس اور سعودی حکومت سے درخواست ہے کہ اپنے فیصلہ پر از سرِ نو غور کریں دونوں حرم میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ سے چلی آرہی متواتر بیس رکعت تراویح کا ہی اہتمام کیا جائے دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس وبائی مرض کی موجودگی کے دوران احتیاط کے دامن میں جب حرمین میں چند افراد آپ کے اعلان کے مطابق دس رکعت نماز ادا کرسکتے ہیں تو بیس رکعت کیوں نہیں؟ وبائی مرض کے پھیلنے کے خدشات زیادہ ہیں۔ اس لئے نماز عشا کے فوراً بعد بیس رکعت نماز تراویح پڑھی جائے، جس طرح گنتی کے چند افراد نماز پنچ وقتہ پڑھتے ہیں وہی لوگ بیس رکعت نماز تراویح بھی پڑھیں.آخر میں عرض ہے کہ 1400 سالہ اسلامی تاریخ میں متعدد مرتبہ وبائی امراض پھیلے، حتی کہ حجاز مقدس میں بعض بیماریوں سے ہزاروں افراد لقمۂ اجل بن گئے لیکن کبھی بھی اس نوعیت کے فیصلے نہیں ہوئے کیونکہ ہمیں وبائی مرض سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر تو اختیار کرنی ہے مگر وہیں تک جہاں تک اجازت ہے شریعت کو طبیعت کے مطابق بدلنے کی اجازت کسی کو نہیں ہے ہر مسلمان کا یہ ایمان وعقیدہ ہے کہ مشیت الٰہی کے بغیر نہ مرض آسکتا ہے، نہ موت۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔
*نماز تراویح کی فضیلت* رمضان المبارک کی راتوں میں قیام ان بڑی عبادات میں شامل ہے جن کے ذریعے انسان اس مہینے میں قرب الہی حاصل کرتا ہے۔حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ماہ رمضان میں مومن کے لئے دو طرح کے جہاد بالنفس اکٹھے ہو جاتے ہیں: دن میں روزے کے ذریعے جہاد بالنفس اور رات کو قیام کے ذریعے جہاد بالنفس،تو جو شخص ان دونوں کو جمع کر لے تو اسے بے حساب اجر دیا جائے گا۔”
قیام رمضان با جماعت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور امام کے ساتھ ہی رہیں یہاں تک کہ نم

از مکمل ہو جائے؛ کیونکہ اس طرح نمازی کو پوری رات قیام کا ثواب ملے گا، اگرچہ اس نے رات کے تھوڑے سے حصے میں ہی قیام کیا ہو، اللہ تعالی کا فضل بہت وسیع ہے۔

امام ترمذی نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ امام نماز پوری کر لے تو اس کے لئے ساری رات قیام کا ثواب ہے.
عمرو بن مرۃ الجھنی رضي اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قضا‏عۃ قبیلے کا ایک شخص آيا اورکہنے لگا :
مجھے بتائيں کہ اگر میں گواہی دوں کے اللہ تعالی کے علاوہ کوئي معبود برحق نہيں اوریقینا آپ اللہ تعالی کے رسول ہيں ، اورپانچوں نمازکی ادائيگي کروں،اوررمضان کے مہینہ کے روزے رکھوں اورقیام کروں ، اورزکاۃ ادا کروں تومجھے کیا ملے گا ؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :جوشخص بھی ایسے اعمال کرتا ہوافوت ہوجائے وہ صدیقین اورشھداء کے ساتھ ہوگا. 
امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے علی بن ابی طالب رضي اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا جنت میں کچھ ایسے بالاخانے بھی ہيں جن کے اندر سے ان کا باہر والا حصہ دیکھا جاسکتا ہے ، اوران کے باہرسے اندر والا دیکھا جاتا ہے ، توایک اعرابی شخص کھڑا ہوکر کہنے لگا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بالا خانے کس کے لیے ہیں ؟نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے بھی اچھا اوربہترکلام کیا ، اورکھانا کھلایا ، اور روزوں پر ہمیشگي کی ، اور رات کو جب سب لوگ سو رہے ہوں تواس نے نماز ادا کی۔ سنن ترمذی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے