ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہی کافی ہوتا ہے

تحریر: محمد قمر انجم قادری فیضی
سب ایڈیٹر: ہماری آواز
فی الحال عا لمی وبا کورونا وائرس کا قہر ابھی بھی جاری ہے یہ ایسا وبائی مرض ہے جو دنیا بھر میں تہلکہ مچا چکاہےطبی ماہرین اسکے علاج کا راستہ تلاش نے میں فیل ثابت ہورہے ہیں۔
لاکھوں لوگ اسکے شکار ہوکر موت کی آغوش میں جاچکے ہیں اورکچھ ابھی موت کے انتظار میں ہیں۔اپنا ملک ہندوستان بھی کورونا وائرس کی چپیٹ میں آچکاہےاور لاک ڈاؤن مزید توسیع کردیاگیاہے،ریڈ زون، گرین زون،اورینج زون،کرکےلوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا جا رہا ہے پورے ہندوستان میں اس وقت لاک ڈاؤن اور رات کا کرفیو نافذ ہےنہ معلوم یہ سلسلہ کب تک جاری رہے مرکزی ریاستی حکومتوں کے احکامات پر دارومدار ہے
ایسے میں برطانیہ اور امریکہ نے بلڈپلازمہ سےکوروناوائرس کے علاج کی منظوری دے دی ہے، کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کا بلڈ پلازمہ متاثرین کےلئے فائدہ مند ثابت ہورہاہے۔
اگر میں یہ کہوں تو بےجا نہ ہوگا کہ کہ وائرس کی وجہ سےہونےوالےجانی نقصان کےدوران پلازمہ تھراپی ڈوبتےکو تنکے کا سہارا ثابت ہوتی نظر آرہی ہے
کسی بھی وائرس سے متاثر ہونےکےبعد ازسر نو صحت یاب ہونے والے شخص کے باڈی میں قدرتی طور پر اس بیماری سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے
اور صحت یاب ہونےوالے شخص کےجسم میں خون سےپلیٹ لیٹس یا پلازمہ حاصل کرکے اسےکورنا وائرس کے مریض  کے جسم میں ڈالا جاتاہےاسی فعل کو پلازمہ تھراپی کہتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق صحت یاب ہونےوالے افراد کا 
بلڈ پلازمہ تین دن میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کو صحت یاب ہونے میں کارگر ثابت ہورہاہے
چین میں بھی پلازمہ تھراپی کا تجربہ کیاگیا جوکہ 100%فیصد کامیاب رہا۔
فروری کے شروعات سے ہی اس کام کا آغاز کردیا گیاتھا
اسے محفوظ اور پر اثر طریقہ قرار دیاگیا۔
اپنے ملک ہندوستان میں سب سے پہلے کیرالا نے پلازمہ 
تھراپی کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی، دہلی میں بھی بعض مریضوں پر اس کا تجربہ کیاگیا۔اسکے مثبت نتائج دیکھنے کوملے ہیں۔بہارحکومت بھی پلازمہ 
تھراپی کےلئے مرکزسے اجازت طلب کررہی ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا تھم سی گئی ہے۔
سوپر پاورہونےکادعوی کرنے والے ممالک بھی اپنی جبین کو خم کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
اور سب سے زیادہ نقصان ان ممالک میں ہورہاہے جہاں اس وائرس کو معمولی سمجھ کرنظر انداز کیاگیا۔
فی الحال تو یہی کہوں گا کہ اپنے اور اہل خانہ کواس عالمی وباسے محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائے، بصورت دیگر اسکے سنگین اور خطرناک منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کیونکہ کوویڈ19 کےعلاج کےلئے ابھی تک کوئی بھی دوا تیار نہیں ہوپائی ہے جب تک اس کی کوئی دوا تیار نہیں ہوجاتی اس وقت تک ایسے مریضوں کےعلاج کےلئے
پلازمہ تھراپی بجھتےہوئےچراغ کی ایک نئی روشنی ثابت ہورہی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے