یہی شیخ حرم ہے جو چرا کے بیچ کھاتا ہے

تحریر: زین العابدین ندوی
قرآن کی زبانی حضور اکرم ﷺ کی ذات با برکت ساری کائنات کے لئے اسوہ حسنہ اور کامل نمونہ ہے، دنیا ان کی تعلیمات پر عمل کرے یا نہ کرے تسلیم و اعتراف کرنا اس کی مجبوری ہے، اس لئے کہ عہد رسالت میں لوگ آپ ﷺ کی مخالفت کے باوجود بھی آپﷺ کو امین وصادق ہی کہا کرتے تھے اور ہزار عداوتوں کے باوجود آپ ہی کے پاس اپنی امانتیں رکھا کرتے تھے، اور پھر آپﷺ نے یہی روح صحابہ کے اندر پھونک دیا، ان کی ایسی تربیت کی کہ دنیا میں ایسی پاکیزہ جماعت نہ کبھی دیکھی گئی اور نہ ہی دیکھی جاے گی، سچائی، امانت داری، ایفائے عہد، مخلوق خدا کے ساتھ ہمدردی، احترام انسانیت اور ایثار و مواخات جن کی زندگیوں کا جزءِ لاینفک تھا، وہ اپنے اوپر ٹوٹنے والے پہاڑ کو تو برداشت کر سکتے تھے مگر دین اسلام پر کسی قسم کی آنچ آنا گوارا نہیں کرتے تھے، جن کا کردار وگفتار ایک دوسرے کا آئینہ دار تھا، نفاق کا جہاں گزر بسر بھی نہ تھا، وہ صرف آپ کی محبت کے دعویدار نہیں بلکہ آپﷺ کے وفاشعار فرمانبردار ساتھی تھے، اور آپﷺ کا معاملہ بھی ان کے ساتھ باس گیری کے بجائے رفیقانہ تھا، یہاں تک کہ انجانے آدمی کے لئے امتیاز کرنا مشکل تھا کہ نبی کون ہیں، جنگ کے مواقع پر آپﷺ نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو آگے بڑھایا اور مال غنیمت کے حصول کے وقت دوسرے صحابیوں کو مقدم رکھا، اسی نبوی تربیت کا اثر تھاکہ نصف صدی میں آدھی دنیا پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا، اور لوگ اسلام کے شیدائی ہو گئے، اس لئے کہ اسلام کو پیش کرنے والے وہ حضرات تھے جنہوں نے دنیاوی لذتوں کو اپنی جوتیوں پر رکھتے ہوئے عزیمت کا سفر طے کیا، اور خلق خدا کے ساتھ بہی خواہی وخیر خواہی میں اپنی ہستیوں کو مٹا دیا۔ 
آج بھی وہی اسلام اور وہی شریعت ہے تو آخر لوگ اس سے قریب ہونے کے بجائے متنفر کیوں ہو رہے ہیں؟ اگر انصاف کے ساتھ اس کا جواب تلاش کیا جائے تو اس کے سوا کوئی دوسری بات سامنے نہ آئے گی کہ کمی اسلام میں نہیں اسلام پیش کرنے والوں میں ہے، جنہوں نے اب دینداری کو بھی ایک بزنس کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، اور اسلام کی تبلیغ و ترویج کی آڑ میں اپنی ذاتی زندگی کی آسائش و آرائش کی فکر میں مبتلا ہو چکے ہیں، بات کڑوی ضرور ہے مگر یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا انکار کر پانا شاید مشکل ہے، آج مشائخ سمجھے جانے والے بعض حضرات کی زندگیوں کا حال یہ ہے کہ عام مسلمان کی زندگی ان کے بالمقابل بدرجہا بہتر ہے، صالحیت سے عاری علمی صلاحیت اور فنی خوبیوں سے کچھ نہیں ہوتا، یہ صرف ایک نشہ ہے جو اتر جاتا ہے۔ 
جس دور سے آج ہمارا واسطہ ہے وہ نفاق وشقاق کا دور ہے، جہاں ہر لمحہ ہر گھڑی دھوکہ دینے کا کام زوروں پر ہے، ولی زماں سمجھے جانے والے بعض اشخاص کا عالم یہ ہے کہ جھوٹ ان کے گھر کی باندی بن چکی ہے، جسے ہر موقع پر دھڑلے سے استعمال کیا جاتا ہے، جہاں نہ تو انسانیت ہے اور نہ ہی خیر خواہی کا جذبہ، اس وقت دنیا میں بالخصوص ہندوستان میں اسلام کی رسوائی کا یہ بہت بڑا سبب ہے جس پر گفتگو کرنا حرام سمجھا جاتا ہے، اور ایسی باتیں کرنے والا باغی گردانا جاتا ہے، خود کو عالم دین کہنے والے، نام سے پہلے بھاری بھرکم القاب لگانے والے اور لچھے دار تقریریں کرنے والے بھائیوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے کھلا ظلم و جبر دیکھتے ہیں مگر بولنے کی طاقت نہیں ہوتی آخر کیوں؟ کیا اسی لئے قرآن وحدیث کا علم حاصل کیا تھا، تفسیر وفقہ کے نکتہ حل کئے تھے؟ اگر خود کو عالم دین کہنے والا احقاق حق اور ابطال باطل کی صلاحیت نہیں رکھتا تو تف ہے ایسی تعلیم اور نسبت پر، انسان کی رضامندی کی فکر دامن گیر ہے اور خالق کائنات کی رضامندی کہ کوئی پرواہ نہیں، آپ ہی فیصلہ فرمائیں جب ایسے علماء کرام کی نگرانی اور زیر تربیت نئی نسل تیار ہوگی تو کیا خاک غیرت ایمانی کی حامل ہوگی؟ مجھے تو ڈر ہے وہ ایمان پر بھی قائم رہ پائے گی یا نہیں، جو زبان حق بولنے کی طاقت نہ رکھے جو قلم سچائی لکھنے کی قوت نہ رکھے اس سے اسلام کی تبلیغ و ترویج کی امید۔ ۔؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے