عمدہ اخلاق کا نتیجہ

تحریر:ڈاکٹر محمد اسلم علیگ
سورج کی روشنی مدھم ہورہی تھی. پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف واپس ہو رہے تھے. عروس شب اپنی زلفیں بکھیر رہی تھی. ڈیوٹی مکمل کرکے ضلع اسپتال کے سبھی ڈاکٹر اپنے گھروں کو واپس جا چکے تھے. ڈاکٹر اکمل بھی واپس جانے کی تیاری کررہے تھے. کرسی سے اٹھے، بیگ لیے گیٹ تک پہنچے تو دیکھا کچھ پولیس والے تقریباً بیس سال کی ایک زخمی لڑکی لیکر آپہنچے ہیں. ڈاکٹر اکمل تھوڑا پریشان ہوئے کہ گھر سے بار بار فون آرہا ہے. ادھر اس بچی کے ایمرجنسی علاج کا مسئلہ ہے. بالآخر بچی کے علاج کا فیصلہ لیا اور واپس اپنے چیمبر میں آگئے. وارڈ بوائے اور نرسز کو حکم دیا کہ مریضہ کو آپریشن ٹھیٹر میں لے آئیں
کرن کو فوری آپریشن کی ضرورت تھی. اس لئے ڈاکٹر اکمل نے اپنی ٹیم کو مدعو کیا حالانکہ کچھ اپنے گھر پہنچ چکے تھے اور کچھ پہونچنے والے تھے. لیکن ڈاکٹر اکمل کی دعوت پہ سب نے لبیک کہا اور پورے انہماک کے ساتھ کرن کا علاج و معالجہ کیا
کرن کو ہوش آیا تو ڈاکٹروں اور اسٹاف کا دل باغ باغ ہوگیا. خوشی ہوتی بھی کیوں نا؟ جب وہ ہاسپٹل آئی تو خون رِس رِس کے بہہ رہا تھا، جو اب بند ہو چکا تھا. پیشانی پہ کاری ضرب لگی تھی، چہرہ زرد ہوچکا تھا جو اب چمک رہا تھا. کراہنے کی آواز ختم ہوچکی تھی. درد میں آرام ہو رہا تھا. کچھ دیر کے ابزرویشن کے بعد پولیس والوں سے کہا گیا کہ کرن کو اسکے گھر پہنچا دیں
پولیس وین میں بیٹھتے ہوئے کرن نے ڈاکٹر سے درخواست کی کہ مجھے دوہزار روپے کی ضرورت ہے. میرا زیور لے لیجیے اور دوہزار دے دیجئے. جب مجھے مکمل افاقہ ہوجائے گا تو پیسے واپس کرکے زیور لے جاؤں گی. ڈاکٹروں کو انسانی نفسیات پڑھنا بخوبی آتا ہے. انہوں نے اندازہ کرلیا کہ یہ ایک خوددار لڑکی ہے. پیسے دے دئے اور زیور بھی نہ لئے
پولیس والے کرن کو لیکر اسکی سہیلی کے گھر پہنچے جو کافی پریشان تھے، کرن کو دیکھتے ہی انکا غم کافور ہوگیا. سہیلی نے دوڑکر کرن کو گلے سے لگایا. پولیس والوں کا شکریہ ادا کیا
آج وہ ڈاکٹروں کی مسیحائی پہ بے انتہا خوش تھی. اس کے یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک سرکاری اسپتال میں اس طرح کا کردار بھی ادا کرنے والے موجود ہیں کہ ایک ڈاکٹر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اضافی ڈیوٹی دیکر بھی کسی کا علاج کرسکتا ہے. آج اس کا نظریہ بدل چکا تھا.ایک ڈاکٹر کے اعلیٰ اخلاق اور خدمت خلق کے اس جذبے کو سلام پیش کررہی تھی
کرن اپنی سہیلی کے یہاں ایک شادی کی تقریب میں آئی تھی. سہیلی کو بِنا بتائے ایک تحفہ خریدنے بازار چلی گئی اور لوٹتے وقت ایک حادثہ کا شکار ہوگئی
کرن نے دس ایام سہیلی کے یہاں گزارے. مکمل افاقہ ہوگیا تو ڈاکٹر کو پیسے واپس کرنے ہاسپٹل پہنچی. لیکن اتفاق سے ڈاکٹر چھٹی پہ تھے. ملاقات نہ ہونے کا بڑا ملال رہا اور وہیں سے وہ اپنے گھر روانہ ہوگئی. گھر پہنچتے ہی ماں نے استقبال کیا. پانی پیتے وقت ماں نے مندمل زخم کے نشان دیکھ لیا. گھبراکر پوچھنے لگی بیٹی یہ کیا ہے..؟ کیسے ہوا؟ ہمیں تم نے اطلاع کیوں نہ دیا..؟ سوالوں کی بوچھار کے درمیان کرن نے ماں کو پورا ماجرا سنایا. ماں بہت خوش ہوئی اور ڈاکٹروں کا غائبانہ شکریہ ادا کرنے لگی
کرن اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی. اسکا کوئی بھائی تھا نہ بہن. محل کی شہزادی کی طرح والدین نے پالا پوسا تھا. شادی کی تقریب میں اسکے جانے کے لیے والدین تیار نہ تھے لیکن اکلوتی بیٹی کی ضد کے آگے والدین کی ایک نہ چلی
ڈاکٹر اکمل ایک تنہائی پسند انسان تھے. اتوار کے روز اسپتال کا راؤنڈ لگاکر گھر آچکے تھے. بیوی بچے سب بازار کے لیے نکل چکے تھے. ابھی دس ہی منٹ ہوئے تھے کہ دروازہ کی گھنٹی بجی. پہلے تو چونکے کہ بچے تو ابھی بازار گئے ہیں اتنی جلدی کیسے واپس آسکتے ہیں. دروازہ کھولا تو کوئی اور تھا. الجھے ہوئے بال، بڑی بڑی آنکھیں، رعب دار چہرہ. اندر آنے کی اجازت طلب کیا. ڈاکٹر صاحب نے بنا کچھ پوچھے اجازت دے دی. ہال میں لگے صوفہ پہ دونوں بیٹھ گئے اور مسافر گویا ہوا
سر میرے پاس ایک عالیشان بنگلہ ہے. ایک انتہائی آرام دہ کار، ٹریکٹر ٹرالی، کئی ایکر کھیت اس میں سیکڑوں ٹن اناج پیدا ہوتا ہے. وغیرہ وغیرہ
ڈاکٹر صاحب الجھن کو شکار ہورہے تھے کہ یہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے، مجھ سے کیوں بڑی بڑی ڈینگیں مار رہا ہے. میرے آرام کے وقت کیوں خلل ڈال رہا ہے. ڈاکٹر صاحب نے سوچا پوچھ ہی لیا جائے تب تک مسافر نے دوہزار کا نوٹ نکالا اورآگے بڑھاتے ہوئے بولا. ڈاکٹر صاحب یہ جو میں نے آپ کو گنوایا سب بیکار ہوجاتا اگر میری بیٹی زندہ نہ بچتی. آپ نے اسکی جان بچائی اور دوہزار روپے بھی دئے ہم آپ کا احسان کبھی چکا نہیں پائیں گے. ڈاکٹر اکمل نے کہا محترم ہم نے اپنا فرض ادا کیا یے اس میں احسان کی کیا بات ہے
مسافر نے کہا سر اضافی وقت لگاکر کسی کا علاج کرنا کوئی مہان ہی کرسکتا ہے. ڈاکٹر اکمل نے کہا نہیں محترم ہمارا دین اسی کی تعلیم دیتا ہے

ڈاکٹر اکمل کو ڈیوٹی سے ریٹائرمنٹ ملا تو بچوں کے ساتھ وہ دہلی منتقل ہوگئے. ایک بیٹا ڈاکٹربن گیا ایک نے ایم بی اے کرکے ایک فیکٹری شروع کرلی. میڈیکل کی کچھ چیزیں بنانے اور فیکٹری کو بڑی کرنے کی غرض سے ڈاکٹر صاحب کا بیٹا سرکاری دفاتر کے چکر لگا رہا تھا. رشوت کے لئے ایک بڑی رقم کی ضرورت تھی. رقم کا انتظام تو ہوجاتا لیکن ڈاکٹر اکمل کی نصیحت بیچ میں آجاتی کہ بیٹا کبھی کسی کام کے لیے رشوت نہ دینا البتہ کوئی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے جو چیزیں کرنا ضروری ہیں انکو ضرور کرنا

سارے ضروری کاغذات تیار تھے. لیکن آفیسر ایک بڑی رقم مانگ رہا تھا. بالآخر اس نے فیصلہ لے لیا کہ کوئی اورپروڈکٹ دیکھتا ہوں. لیکن پھر ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بیٹا اس پروڈکٹ کو لیکر مارکیٹ میں بڑی کالا بازاری ہے اسی پہ کام کرو غریبوں کا بھلا ہوگا. بیٹے نے کہا ابو مہینوں سے سرکاری دفتر کا چکر لگا رہا ہوں بنا رشوت کے کام نہیں ہوگا اور آپ رشوت دینے سے منع کررہے ہیں. ڈاکٹر صاحب نے کہا بیٹا میں نہیں، ہمارا دین اسکی اجازت نہیں دیتا. ایسا کرو آج جاؤ، صلاۃ حاجت پڑھ لو. میں بھی دعا کرتا ہوں اللہ آفیسر کے دماغ کو تبدیل کردے.
بیٹے نے ڈاکٹر صاحب کی بات مان لی. سرکاری دفتر پہنچا. دیکھا تو آفیسر تبدیل، کلرک سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہی خاتون ہیں جنہوں نے دو دن قبل جوائن کیا ہے
آفس میں داخل ہوا. آفیسر محترمہ نے بیٹھنے کی اجازت دی. سارے کاغذات چیک کئے. پین کارڈ پہ دیکھا والد کا نام اکمل لکھا ہے. پھر وہ خیالوں میں گم ہوگئی. ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادے پریشان کہ اب پین کارڈ میں کیا دقت ہوگئی.؟
آفیسر نے کہا آپ کے والد کا نام اکمل ہے..؟ جواب ملا جی ہاں. پوچھا وہ کیا کرتے ہیں؟ جواب ملا گورنمنٹ ڈاکٹر تھے اب ریٹائرڈ ہیں اور ہمارے ساتھ رہتے ہیں. سوال ہوا متھرا میں پوسٹنگ تھی کیا کبھی.؟ جواب ملا جی ہاں. آفیسر نے کہا ابھی آپ کہاں رہتے ہیں.؟ جواب ملا کہ آپ میری فیکٹری دیکھئے آپکو میرے گھر سے کیا مطلب..؟ آفیسر نے کہا کچھ خاص نہیں بس ایسے ہی پوچھ لیا. گھر کا ایڈریس بھی دے دیا. آفیسر نے کہا جائیے کل آئیے گا
غمگین چہرہ لیے وہ واپس ہوگیا. گھر پہنچا تو ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کیا ہوا.؟ جواب ملا اب تو آفیسر بھی تبدیل ہوگیا ہے. ایک خاتون آئی ہیں اب یہ بھی سب دیکھیں گی. اب تو ایک اور ماہ جائیگا. ڈاکٹر صاحب نے دلاسا دیا. بیٹا اللہ پہ بھروسا رکھو. اچھی نیت کے ساتھ ایک کام شروع کیا ہے ان شاءاللہ سب ٹھیک ہوگا
شام کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا کہ دروازہ کی گھنٹی بجی. ڈاکٹر صاحب نے کہا بیٹا دیکھو کون ہے. دروازہ کھولا تو وہی خاتون. سلام کرتے ہوئے ہاٹھ جوڑکر ڈاکٹر صاحب کے سامنے کھڑی ہوگئی. ڈاکٹر صاحب نے کہا بیٹا آپ کون ہیں. پہچانا نہیں. بیٹے نے کہا ابو یہی نئی آفیسر ہیں. خاتون نے کہا سر! آفیسر نہیں میں تو آپ کی داسی ہوں. “کرن”
کچھ یاد آیا.. ڈاکٹر صاحب نے کہا ہاں بیٹا یاد آیا
کرن نے کہا سارے کاغذات صحیح ہیں. پچھلے آفیسر نے بھی ساری رپورٹس مثبت لگائی ہیں. میں تو بس سرٹیفکیٹ دینے گھر آئی تھی کہ اسی بہانے آپ سے بھی ملاقات کرلوں
ڈاکٹر صاحب نے بڑی خوشی اظہار کیا اور کرن کے گھریلو حالات جاننے کی کوشش کی
کرن نے بتایا کہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کو دیکھ کر والد نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا. پھر ہم نے اور ہماری ماں نے بھی پڑھا. جب دین سمجھ میں آگیا تو داخل ہوگئے. اللہ اکبر
ڈاکٹر صاحب نے پوچھا بیٹی شادی ہوگئی کہ نہیں.؟ ابھی تک تو نہیں
کرن نے کہا سر وقت زیادہ ہوگیا ہے ممی پاپا کا فون آرہا ہے. میرا ایڈریس یہ ہے. جب وقت ملے تشریف لائیے گا
ڈاکٹر صاحب کو خوشی سے پوری رات نیند نہ آئی…. ناشتہ کے وقت کرن کے گھر پہونچ گئے. سلام کلام کے بعد خیریت دریافت کی گئی. پھر ڈاکٹر صاحب نے اپنے بیٹے کے لئے کرن ہاتھ مانگ لیا. کرن کے والدین فوراً راضی ہوگئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے