رحمة للعالمینﷺ کی 63 سالہ حیات مبارکہ قدم بقدم (حصہ اوّل)

تحریر: نور حسین افضل
اسلامک اسکالر، مصنف، کالم نویس
صدر: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (مشرق وسطی)

رحمت اللعالمین، احمد مجتبیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت جزیرہ نما عرب کے شہر مکہ میں ہوئی، جہاں اس وقت قبائلی نظام رائج تھا، وہ لوگ لکھنے کو برا خیال کرتے اور مضبوط حافظے کو ترجیح دیتے تھے، البتہ نسب کو یاد کرنا اور اہمیت دینا ان کا خاصہ تھا۔ رسالت مآب ﷺ کی ولادت کا سال عام طور پر عام الفیل مہینہ ربیع الاول دن پیر یا جمعہ جبکہ تاریخ میں 9 یا 12 کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عیسوی حساب سے قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی تحقیق کے مطابق 22 اپریل571ء جبکہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے مطابق 20 اپریل571ء ہے۔ عام طور پر دنیا بھر میں مسلمان 12 ربیع الاول ہی کو یوم ولادت قرار دیتے ہیں۔ دادا جان عبد المطلب کی طرف سے آپ ﷺ کا اسم گرامی محمد رکھا گیا، اور آپ کی والدہ محترمہ آمنہ کی طرف سے آپ کا نام احمد تجویز ہوا۔ ابو لہب کی آزاد کر دہ باندی ثویبہ نے چند دن دودھ پلانے کے بعد شرفاء قریش کی عادت کے مطابق آپ ﷺ کو حضرت حلیمہ سعدیہ کی رضاعت میں دے کر مضافات مکہ میں بھیج دیا گیا، اس وقت آپ ﷺ آٹھ دن کے تھے۔ ولادت کے چوتھے سال شق صدر کا واقعہ پیش آیا، مؤرخین لکھتے ہیں کہ شق صدر کا واقعہ چار بار پیش آیا، ایک زمانہ طفولیت میں حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے پاس، دوسری بار دس سال کی عمر میں پیش آیا۔ (فتح الباری،ج: 13،ص:481) تیسری بار واقعہ بعثت کے وقت پیش آیا۔ (مسند أبی داؤد ص:215) اور چوتھی بار : واقعہ معراج کے موقع پر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 349) بعض نے پانچویں بار کا شق صدر بھی ذکر کیا ہے، لیکن وہ صحیح قول کے مطابق ثابت نہیں ہے۔ (سیرۃ المصطفیٰ ﷺ ج: 1،ص:75) رسالت مآب ﷺ تقریباً چھ سال تک حلیمہ سعدیہ کی پرورش میں رہے۔ ولادت کے چھٹے سال آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ نے اپنے میکے میں ایک ماہ کا قیام کیا، وہاں سے واپسی پر مقام ابواء میں ان کا انتقال ہوا، اور وہیں مدفون ہوئیں۔ (شرح المواہب للزرقانی، ج:1، ص:160) ولادت کے ساتویں سال آپ ﷺ اپنے دادا عبد المطلب کی تربیت میں پروان چڑھتے رہے۔ اور ولادت کے آٹھویں سال دادا جان کا انتقال ہو گیا، دادا کے انتقال کے بعد آپ ﷺ اپنے چچا ابو طالب کی پرورش میں آ گئے۔ (طبقات ابن سعد،ج:1،ص:74) اور ولادت کے بارھویں سال آپ ﷺ نے اپنے چچا کے ساتھ شام کے پہلے تجارتی سفر میں شرکت کی، اسی سفر میں بحیرہ راہب نے آپ ﷺ کی نبوت کی پیش گوئی بھی دی۔(الخصائص الکبری،ج:1،ص:84) اور ولادت کے چودہویں سال یا پندرہویں سال اور بعض روایات کے مطابق بیسویں سال عربوں کی مشہور لڑائی ’’حرب الفجار‘‘ پیش آئی، اس جنگ میں آپ اپنے چچا کے اصرار پر شریک تو ہوئے، لیکن قتال میں حصہ نہیں لیا۔ (روض الانف،ج:1 ص:120) اور ولادت کے سولہویں سال میں آپ ﷺ نے اہل مکہ کے حلف الفضول نامی معاہدے میں شرکت کی۔ اور ولادت کے پچیسویں سال آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کا مال لے کر تجارت کا دوسرا سفر شام کی طرف کیا، سفر سے واپسی پر اس سفر میں پیش آنے والے واقعات، تجارتی نفع اور آپ ﷺ کے اخلاقی واقعات سن کر دو مہینہ اور پچیس روز کے بعد حضرت خدیجہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کو نکاح کا پیغام بھجوا کر نکاح کر لیا۔(طبقات ابن سعد،ج:1،ص:83)
اور ولادت کے پینتیسویں سال آپ ﷺ نے بیت اللہ کی ہونے والی تیسری تعمیر کے وقت حجر اسود کو اپنے دست اقدس سے نصب فرما کر خانہ جنگی کے لیے کمر بستہ قبائل قریش کےدرمیان باہمی محبت والفت پیدا فرما دی، اور اس کٹھن مرحلے کو بحسن وخوبی انجام خیر تک پہنچایا۔ (سیرت ابن ہشام،ج:1،ص:65)
حیات طیبہ کے انتالیس سال تک رسول اللّٰہ ﷺ کا کردار ایسا بےمثال رہا کہ اپنے تو اپنےغیروں کی زبان پر آپ ﷺ کے بارے میں تھا کہ آپ ﷺ صادق اور امین ہیں۔ ولادت کے چالیسویں سال میں آپ نے زیادہ وقت غار حرا میں گزارا، اور اسی مقام پر آپ کو نبوت عطا کی گئی۔ نبوت کے پہلے سال غار حرا میں آپ ﷺ پر سورۂ علق کی پہلی پانچ آیات نازل ہوئیں۔(شرح المواہب،ج: 1،ص:208) مؤرخین کے مطابق آپ ﷺ کو نبوت اتوار کے دن عطا ہوئی، لیکن مہینہ کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے، ابن عبد البر رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک آٹھ ربیع الاول کو نبوت سے سرفراز ہوئے، اس قول کی بنا پر بوقتِ بعثت آپﷺ کی عمر چالیس سال تھی۔ جب کہ ابن اسحاق کے قول کے مطابق سترہ رمضان کو نبوت ملی، اس قول کے مطابق بوقتِ بعثت عمر چالیس سال اور چھ ماہ تھی، حافظ ابن حجر عسقلانی نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔(فتح الباری، کتاب التعبیر، ج:12، ص:313) نبوت کے دوسرے سال خفیہ تبلیغ فرماتے رہے، اسی سال حضرت خدیجہ، حضرت ورقہ بن نوفل، حضرت علی المرتضیٰ، حضرت ابو بکر صدیق، حضرت جعفر بن ابی طالب، حضرت عفیف کندی، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت خالد بن سعید، حضرت عثمان بن عفان، حضرت عمار، حضرت صہیب، حضرت عمرو بن عنبسہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنھم اجمعین ایمان لائے۔ یہ سب اور کچھ دیگر حضرات صحابہؓ سابقین اولین کہلائے۔ نبوت کے تیسرے سال آپ کے متبنٰی حضرت زید بن حارثہ ؓ کے بیٹے حضرت اسامہ ؓ کی ولادت ہوئی۔ نبوت کے چوتھے سال آپﷺ کو علی الاعلان دعوتِ دین دینے کا حکم ہوا، جس کی بنا پر کفار خصوصاً قریش کی طرف سے بھی کھلم کھلا دشمنی اور بغض وعداوت کا مظاہرہ ہونے لگا، اور اسی سال حضرت عائشہ ؓ کی ولادت ہوئی۔ نبوت کے پانچویں سال حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ مشرف بہ اسلام ہو ئے، اسی سال حبشہ کی طرف پہلی اور دوسری ہجرت ہو ئی، پہلی ہجرت میں گیارہ مرد اور پانچ عورتیں شامل تھیں۔ (فتح الباری،ج:1،ص:18) اور دوسری ہجرت میں چھیاسی مرد اور سولہ عورتیں شامل تھیں۔ (سیرۃ ابن ہشام،ج:1،ص:111) اسی سال حضرت سمیہ ؓ کو ابو جہل ملعون کے ہاتھوں شہادت نصیب ہوئی، یہ اسلام کی خاطر شہید ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ نبوت کے چھٹے سال حضرت حمزہ ؓ اور حضرت عمر ؓ مشرف بہ اسلام ہو ئے، اور ان کی برکت سے مسجد الحرام (خانہ کعبہ) میں نماز اعلانیہ ادا کی گئی۔ (شرح المواہب، ج:1، ص:276)
نبوت کے ساتویں سال مقاطعۂ قریش کا واقعہ پیش آیا، آنحضرتﷺ کے ساتھ بنو ہاشم اور بنو مطلب شعب ابی طالب میں محصور کر دئیے گئے، اسی دوران رسول اللّٰہ ﷺ کے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن عباس ؓ کی ولادت ہوئی۔ (روض الانف،ج: 2،ص:232)

جاری ہے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے