قرآن میں اہل ایمان کی تصویر

رجوع الٰی القرآن

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

قرآن آفاقی ہےاللہ کا آخری صحیفہ۔انسان اس کا موضوع ہے۔ایک الله پر ایمان لانے والوں سے یعنی اہل ایمان سے قرآنی مطالبات میں سب سے اہم مومن کے عمدہ اوصاف اور اس کے اخلاق ہیں ۔
محمد صلی الله عليه وسلم کی بعثت میں قرآن جس چیز کو فائق کہتا ہے وہ آپ کے اخلاق حمیدہ ہیں ۔ سیرت کی کتابوں میں آپ کو اخلاق کی تکمیل اور معلم بنا کر بھیجیے جانے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی تعلیمات میں علماء کو انبیاء کاوارث اسی لیے کہا گیا کہ ان کے اخلاق اعلیٰ وارفع ہوتے ہیں ۔وہ معاشرے کا نمک اور معیار میں انبیاء کے مشن کا عکس ہوتے ہیں۔
الله نے اسلام کو مکارم اخلاق و محاسن اعمال سے گھیر دیا ہے ۔
اللہ تم میں سے ایمان والوں کو بلند کرتا ہے اور علم والوں کے درجات کو بلندی عطا کرتا یے۔

علم وعمل کا رستہ یارب ہمیں دکھا دے

جس سے ملے سعادت اس راہ پر چلا دے

"رحمان کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہو کر چلتے ہیں اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہتے ہیں تم کو سلام۔۔۔۔ "

"اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہارے درمیان روزی تقسیم کی ہے ویسے ہی تمہارے اخلاق کو بھی تقسیم کیا ہے۔۔۔۔۔۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔۔جب ک ادمی کادل اور زبان (الفاظ فرمانبردار نہ ہوں وہ فرمانبردار نہیں ہوسکتا۔( احمد۔بیہقی)

قرآنی تعلیمات مومن بندے اور اہل علم سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کے اخلاق کریمانہ ہوں ۔

دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔۔۔ (ال عمران :139)

مومن طعنے نہیں دیتا، لعنت نہیں کرتا، فحش نہیں بکتا اور زبان دراز نہیں ہوتا (ترمذی)

گلوں نے خاروں کے چھیڑ نے پر سواخاموشی کے دم نہ مارا

شریف الجھیں اگر کسی سے شرافت باقی کہاں رہے گی

بداخلاق، بدتمیز، بد مزاج، بد گو،بد زبانی ،بد قماش، بد اخلاق، بد عہد کو الله پسند نہیں فرماتا۔

اردو کی مشہور کہاوت ہے

"نیچ کی گالی ہنس کر ٹال”

افسوس صد افسوس اس شخص پر جو دوسروں پر بہتان لگائے اور جھوٹ بول کر گمراہی پھیلائے۔

"تم اس چٹان کی مانند ہو، جو نالے کے سرے پر گر جائے کہ پھر نہ خود پانی پیتی ہے اور نہ اسے چھوڑ تی ہے کہ کھیتوں کو سیراب کرسکے”
ایسے بندوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ
وہ قرآن کی بنیادئ مومنین کی صفت میں اپنے آپ کو پاتے ہیں یا نہیں؟؟؟
۔غرور، گھمنڈ، کبر، انا، ظلم، انتقام، خیانت، بد گمانی، کذب، تمسخر، الزام، بہتان، فتنہ فساد، ریاءاور اہانت نفس، انسانی سے بچنے کی قرآن اہل ایمان کو تعلیم دیتا ہے۔
ْقرآن کہتا ہے
بے شک اہل علم ہی خدا سے خشیت پکڑتے ہیں ۔
تو اے گروہ علم والو! تواضع، فروتنی، انکساری، عجز، بردباری اختیار کرو۔ تم گفتار میں فرد اور کردار میں مرد بنو۔

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق

بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دین

"وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بے شک اس کو بڑی نعمت ملی”۔اس نعمت کے کئی نام ہے۔اہل شہادت کو ملی تو حکمت کہلائ، اہل احسان کو ملی تو خیر کثیر ہوگئی، اہل جمال کو ملی تو حسن بن گئی اور کمینوں، احسان فراموشوں، جھوٹوں نے اسے بہتان بنا کر اہل حق کی تذلیل میں اپنی قوت صرف کی۔

سنہرے رنگ کی کرسی پہ ناز مت کیجئے

خدا کمین کو بھی سر فراز کرتا ہے

اور یقین کیجیے روز ازل سے رب دو جہاں

حرام زادے کی رسی دراز کرتا ہے

اچھی صفت کو صوفی نے تجلی کہا، شاعر نے عکس رخ یار۔۔
شکر گزار ہمیشہ روشن ضمیر اور روشن دماغ ہوتا ہے۔اور متعصب ،مغرور، اجڑ ، حاسد اپنی آگ میں آپ جلتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے