لڑکے والوں کی مظلومی

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

آج کل نئے شادی شدہ جوڑوں میں زوج کے انتخاب اور شادی کے بعد مسائل پیدا ہو کر خاندان بکھراؤ کا شکار ہورہے ہیں ۔شادی کے لیےرشتوں کے سلسلے میں ہم نے لڑکے والوں کی طرف سے ہونے والی زیادتی پر کئی مضامین لکھے اور سماج میں لڑکی والوں کی مظلومی اجاگر کی ۔ہمیں اس سلسلے میں لڑکے والوں کے تجربات کو اپنے "سکینت کاؤنسلنگ سینٹر” پر سن کر لڑکے والوں کی مظلومی کے کیسس بھی توجہ طلب ملے۔
اعلیٰ ڈگری کے لڑکوں کو جب برسر ملازمت اعلیٰ ڈگری کی لڑکی کی تلاش ہوئی تو لڑکی کی والدہ محاذ سنبھال کر لڑکے کا انٹرویو کرنے بیٹھ گئیں ۔
(1) کس کمپنی میں
ملازمت، کب سے کرتے ہو۔
(2) پرمننٹ جاب ہے؟ permanant job تنخواہ کتنی ہے؟
(3) مکان /فلیٹ کس کے نام پر ہے؟ کتنے بھائی ہیں ؟ سب نوکری کرتے ہیں کیا؟
گھر میں depends کون کون ہیں؟
(5) لڑکی شادی کے بعد joint family میں نہیں رہے گی۔ الگ مکان لے کر رکھنا ہوگا۔
(6) ہم نے لڑکی کی تعلیم پر اچھی رقم خرچ کی ہے۔شادی کے بعد کے پانچ سالوں تک آدھی تنخواہ ہم لیں گے۔

اب لڑکی اپنے انداز سے سوالات کرتی ہے۔انٹرویو اس طرح لیا جاتا ہے کہ گویا رشتہ رجیکٹ کردینے کی مشق ہورہی ہے۔ بعض معاملات میں لڑکے کی اوقات اور حیثیت پر سوال کھڑے کرکے بے عزتی بھی کی جاتی ہے۔

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح شام تو

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

Arrang Marriage
کے لیے رشتہ سینٹر marriage beauro کی مدد لی جاتی ہے۔ کچھ واقعات ایسے بھی سامنے آرہے ہیں کہ لڑکی شادی کے ایک ہفتے، ایک مہینے یا چھے مہینے میں دوسری شادی کے لیے اپنی والدہ کے ساتھ Scheme اور متبادل کے لیے منصوبے بننے لگتےہیں ۔سازشیں، سرگوشیاں شروع ہو گئی۔لڑکی اپنے والدین کے گھر بیٹھ گئی ۔ پھر الزامات، توقعات اور مطالبات شروع ہونے لگتے ہیں۔لڑکے والے نہ مانیں تو پولس اسٹیشن کاراستہ، کورٹ میں کیس، 498(A) اور مہیلا منڈل کے دھونس اور قانون کے ڈراوے۔لڑکی کسی صورت نبھاؤکے لیے تیار نہیں۔ بس طلاق چاہیے یا خلع وہ بھی شادی میں لگے سارے خرچ اور ملے تحفوں کی صد فیصد واپسی کے ساتھ ۔

قدم سنبھل کے اٹھاؤ بہت اندھیرا ہے

کاونسلنگ سینٹر، مفاہمتی سینٹر، آپسی رشتہ داروں اور بزرگوں کی فہمائش سب لا حاصل، بے سود۔۔۔۔الزامات کے کٹ گھرے میں شوہر کے گھر کے سارے لوگ ہیں۔اس کی شادی شدہ بہنیں وغیرہ بھی مرود الزام ہیں۔سب ظالم، سفاک، جہیز کے لالچی اور لاکھوں کا مطالبہ کرنے والے ،مارنے پیٹنے، بھوکا رکھنے والےبتائے جارہے ہیں ۔ لڑکی کا الزام یے کہ اس کے شوہر میں جنسی کمزوری ہے ۔اب اسے کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے؟؟؟؟ بس ایک چبا چبایا جملہ ہے ۔ جو بطور ہتھیار استعمال ہورہا ہے ۔

انا کے زعم میں خود کو بگاڑنے والو

تمام عمر جلو گے قربتوں کی خواہش میں

Family Conflicts
خانگی جھگڑے

تم چاہو تو دولفظوں میں طے ہوتے ہیں جھگڑے

کچھ شکوے ہیں بے جا مرے ،کچھ عذر تمہارے

کورٹ کچہری، پولس اور سماجی بے عزتی سے بچنا یے تو پانچ، دس لاکھ کا مطالبہ لڑکی والوں کی طرف سے۔۔۔۔۔
ہمارے پاس بعض کیسیز میں جب چھٹکارا پانے کے بعد اس نوجوان کی شادی دوسری جگہ ہوگئ تو ایک سال ہی میں اس کے یہاں بچے کی ولات ہوئ اور چار سالوں میں تین بچے پیداہوگئے ۔ اب جنسی کمزوری کہہ کر بے آبرو کرنے والی کے منھ پر طمانچہ کون رسید کرسکتا ہے۔؟اُدھر اس لڑکی نے چھٹکارا پاتے ہی اپنے پرانے عاشق بوائےفرینڈ، کزن، رجیکٹ کیے گئے رشتہ میں سے کوئی بندہ، کورٹ میریج، انٹر کاسٹ میریج کے زریعے کسی colleagueکے ساتھ شادی رچا لی ہے۔اگر طلاق /خلع شدہ لڑکی برسر ملازمت ہے تو Plus point مل رہا ہے۔

شادی کی نا کامی ۔ اسباب اورحل

غلط رسم ورواج، مزاج میں ہٹ دھرمی، رعونت ضد، آزاد خیالی، فیشن اور زیورات کا شدت سے لگاؤ، صبر وضبط کی کمی، باہمی تعلقات میں سرد مہری،خود غرضی، حرص و غرور، ناقدانہ انداز فکر، کج روی، بے لچک عادات واطوار، عدم شائستگی، مثالیت پسندی، Glamours منفی جذباتیت،انا ہرستی Emotionlism vs Egoism, غیر صحت مندانہ کامپلیکس،نظر اندازی، Anorexua Nervosa, غیر صحت مند رویہ Attitud، سمجھ داریMaturity اور باہمی مفاہمت Mutual under standing کی کمی،مشترکہ خاندان joint family میں رہنے سے کترانا، ہم دو اور کوئی نہیں۔۔۔ Nuclear Family, کام چوری، سلیقہ مندی کی کمی، پھوہڑ پن، بے جا شکایات کے دفتر، شوہر پر مکمل قبضے کی شدید خواہش، اس کی تنخواہ اپنے ہاتھ میں اور گھر خرچ پر مالکانہ حقوق کی وکالت، پیچھے ہٹنے Recedung Spirit کو ہار تسلیم کرنا یا سمجھنا وغیرہ ۔۔
اسلام میں نکاح کے لیے کفو شرط نہیں ہے۔ لیکن نکاح کے بعد ازدواجی زندگی خوش گوار ہو اس کے لیے، عادات، طرز زندگی، خاندانی روایات اور معاشی ومعاشرتی حالات، Equality, Matching کے حق اور خیالات کی تہزیب ہو ۔کفات یعنی برابری کا ہونا اسلام میں پسندیدہ اور مطلوب ہے۔کفو کا مطلب اونچ نیچ اور ذات پات نہیں ہے ۔

اقوام متحدہ کی
2019 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ

"انڈیا میں طلاق کے معاملات گزشتہ دہائیوں میں دگنے ہو گئے ہیں ۔تعلیم یافتہ اور برسر ملازمت خواتین میں علیحدگی اور طلاق کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے ۔”

ہم خزاں ہی کے شا کی رہے اے ہنر

ساری دنیا میں دور بہار آگیا

2016 کی ہیومن ڈیولپمنٹ سروے آف انڈیا کے مطابق ملک میں
"بیوہ، شوہر سے علیحدہ رہنے والی، طلاق و خلع یافتہ خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے”۔

یقیں ہو تو کوئی بھی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ لے کرچراغ جلتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے